جب تک ہم ” آئینِ خداوندی “ کو پورے صدقِ دل کے ساتھ ملک میں نافذ نہیں کریں گے ” زینب کو انصاف نہیں ملے گا۔۔۔“

aaj-ki-bat-logo

جس ملک کا وزیرداخلہ صنعتی معاشی اور مالی شعبوں سے منسلک اداروں میں لیکچر دیتا نظر آئے اور جس ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر قانون رانا ثناءاللہ جیسا شخص ہو اُس میں اگر جرم ” سربلند“ اور قانون ” سرنگوں“ نظر آئے تو اچنبھے کی بات نہیں۔۔۔
” زینب کو انصاف دو “ تین دن کے اندر پاکستان کی فضاﺅں میں گونجنے والا سب سے زیادہ پرُجوش نعرہ بن گیا ہے۔۔۔ اور اس نعرے میں صرف دکھی والدین کی سسکیاں اور آہیں ہی پنہاں نہیں ` ایک بدعنوان نظام کو چلانے والے ظالم وجابر حکمرانوں کے خلاف عوامی غم و غصہ کا ایکدم پھٹ پڑنے والا لاوا بھی ابل رہا ہے۔۔۔
اس ملک کی بدنصیبی یہ ہے کہ یہاں کی پولیس ایسے ملزموں کے خلاف بڑے مضبوط کیس بناتی ہے جو درحقیقت بے قصور ہوتے ہیں اور ایسے ملزموں کے خلاف بڑے کمزور کیس تیار کرتی ہے جو درحقیقت مجرم ہوتے ہیں۔۔۔
زینب کے ساتھ جس قسم کی درندگی کی گئی ہے اس قسم کی درندگی ایک عرصے سے بچیوں اور بچوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔۔۔ اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ قصور میں یہ درندگی ایک انڈسٹری کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔۔۔ اس ضمن میں کچھ عرصہ قبل بچوں اور بچیوں کے ساتھ کی جانے والی درندگی کی وڈیوز بنا کر بڑے پیمانے پر کئے جانے والے بین الاقوامی کاروبار کا سکینڈل قوم کی توجہ کا مرکز بنا تھا۔۔۔ چند ہفتوں تک اس شرمناک انڈسٹری کاذکر میڈیا میں ہوتا رہا اور عوامی غم و غصہ کا اظہار بھی بڑی شدت کے ساتھ ہوا لیکن پھر دوسرے واقعات و موضوعات میڈیا میں حاوی ہوگئے۔۔۔ اور جن مجرموں کو کھلے عام پھانسیوں پر چڑھنا چاہئے تھا وہ آہستہ آہستہ سلاخوں سے باہر آرہے ہیں۔۔۔ یہاں یہ عام تاثر بڑے ٹھوس اور مضبوط اسباب اور شواہد کی وجہ سے موجود ہے کہ اصل مجرموں تک پہنچنے کی زحمت ہماری پولیس نے کبھی کی ہی نہیں۔۔۔ اس لئے نہیں کی کہ ان مجرموں کو حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔۔۔
اگر ” زینب کو انصاف د و“ کا نعرہ ایک تحریک کی شکل اختیار نہ کرسکا تو اس ملک کے کونے کونے میں کسی نہ کسی زینب اور کسی نہ کسی فیضان کو سسکیوں اور آہوں کے درمیان دفن کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔۔۔ صرف جاری ہی نہیں رہے گا۔۔۔ ہم سب کے اندر رانا ثناءاللہ کی روح سرایت کرجائے گی اور ہم بھی ” قانون کے اس محافظ “ کی طرح یہ کہنا شروع کردیں گے ” یہی تو انصاف ہے ۔۔۔انصاف اور کسے کہتے ہیں۔۔۔؟“
ابھی ابھی میں رانا ثناءاللہ کو ایک ٹی وی اینکر کے ساتھ سخت غصے اور بداخلاقی کے ساتھ پیش آتے دیکھ رہا تھا۔۔۔” تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ مجھ سے ایسے بے ہودہ سوال کرو۔۔۔ “ رانا صاحب خونخوار نظروں کے ساتھ نہایت سفاکانہ لہجے میں کہہ رہے تھے۔۔۔
سوال یہ تھا۔۔۔ ” زینب کے والدین سے اظہارِ ہمدردی کرنے کے لئے تو وزیراعلیٰ صاحب رات کے اندھیرے میں پہنچ گئے۔۔۔ اس سے پہلے گیارہ ایسے واقعات رونما ہوئے جن پر شور و ہنگامہ نہیں ہوا۔۔۔ کیا تب بھی وزیراعلیٰ مظلوم لواحقین کی دلجوئی کرنے گئے۔۔۔ ؟“
میں آخر میں اپنی آج کی ایک ٹویٹ یہاں درج کررہا ہوں جس کا تعلق اس واقعے کے ساتھ ہے۔۔۔
” وقت آگیا ہے کہ جس جمہوریت نے امراءفیوڈلز ` سرداروں ` وڈیروں ` خوانین `قاتلوں ` ظالموں ` جابروں اور جرائم کوانڈسٹری بنانے والے گاڈفادرز کو دولت کے زور پر قائم انتخابی نظام کے ذریعے اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایا ہے اس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا جائے اور قرآن حکیم کو حاکم بنایا جائے۔۔۔“
جب تک ہم” آئینِ خداوندی “ کو پورے صدقِ دل کے ساتھ ملک میں نافذ نہیں کریں گے ”زینب کو انصاف نہیں ملے گا۔۔۔“

Scroll To Top