جونوری نت نہ ہو 21-09-2012

kal-ki-baat
اٹارنی جنرل ملک کا لاءآفیسر ہوتا ہے ۔ اس عہدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جان ایف کینیڈی کے دورِ صدارت میں امریکہ کے اٹارنی جنرل رابرٹ کینیڈی تھے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ انہوں نے قانون توڑنے والی ”مافیاز“ کے ساتھ ٹکر اتنی بے جگری کے ساتھ لی تھی کہ انہیں بالآخر جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔
پاکستان کا دور ِ حاضر کتنے بڑے المیے یا المیوں کا شکار ہے اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس کا اٹارنی جنرل سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے ساتھ ٹکر لئے رکھنے کی شہرت رکھتا ہے۔
ملک ریاض حسین کے خلاف توہینِ عدالت کاجو کیس چل رہا ے اس میں سپریم کورٹ نے عرفان قادر صاحب کو پراسیکوشن سے الگ کرنے کا جوفیصلہ کیا ہے وہ ” دور ِ حاضر“ کے حالات پر بہترین تبصرہ ہے۔
اٹارنی جنرل صاحب کا کام سپریم کورٹ کی معاونت ہونا چاہئے تھا مگر وہ ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ موصوف ماضی میں اس کیس کے ملزم ملک ریاض حسین کے ملازم رہ چکے ہیں۔
اگر حکومت واقعی عدلیہ کے ساتھ باوقار تعلقات استوار کرنے کی خواہشمند ہے تو اسے سب سے پہلا کام یہ کرناچاہئے کہ اپنا اٹارنی جنرل تبدیل کرے اور ایک ایسے باوقار شخص کو سامنے لائے جو نوری نت نہ ہو!

Scroll To Top