قصور: دوسرے روز بھی عوام سراپا احتجاج: ن لیگی ایم پی اے کے ڈیرے پر حملے رینجرز تعینات

  • بچی سے زیادتی کے بعد قتل کے لرزہ خیز واقعہ پر ملک کی فضا سوگوار ، ،نظام زندگی مفلوج ، 2گاڑیاں نذر آتش
  • پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق 45سالہ محمد علی ور 22سالہ شعےب کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کر دی گئی
اسلام آباد: عوامی تحریک کے کارکنان زینب کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کر رہے ہیں

اسلام آباد: عوامی تحریک کے کارکنان زینب کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کر رہے ہیں

قصور/لاہور( این این آئی )سات سالہ بچی سے زیادتی کے بعد قتل کے لرزہ خیز واقعہ پر ملک کی فضا سوگوار ہے جبکہ قصور میں حالات بدستورکشیدہ اور نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے،تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز مکمل بند رہے ،ڈنڈابردار مشتعل مظاہرین نے شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے جس سے قصور شہر کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا، پولیس فائرنگ سے جاںبحق ہونے والے دو افراد کی لاشیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئیں جس کے بعدپینتالیس سال محمد علی کے ورثاءاور اہل علاقہ نے لاش ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے سڑک پر رکھ احتجاجی مظاہرہ کیا ،مشتعل مظاہرین زبردستی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں داخل ہو گئے اور توڑ پھوڑ کی جس کے بعد ڈاکٹراورعملہ کام چھور کر چلا گیا جس سے ایمر جنسی سمیت دیگر وارڈزمیں سروسز معطل ہو گئیں ،مشتعل مظاہرین نے حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کے ڈیروں پر دھاوا بول دیا جبکہ رکن پنجاب اسمبلی نعیم صفدر انصاری کے ڈیرے پر کافرنیچر اور دو گاریاں نذر آتش کردی گئیں، پولیس نے واٹر کینن کا استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ کرکے متعددمظاہرین کو حراست میں لے لیا، وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد رینجرز بھی پہنچ گئی جس نے سرکاری تنصیبات کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں ، واقعہ کے خلاف پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی مظاہرے کئے گئے جبکہ وکلاءتنظیموں نے بھی ہڑتال کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ تفصیلات کے مطابق معصوم بچی سے زیادتی کے بعد قتل اور واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے خلاف قصور میں دوسرے رو ز بھی حالات کشیدہ رہے جس کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا رہا ۔ حکام کی جانب سے عوام میں پولیس کے خلاف پائی جانے والی شدید غصے کی لہر کے باعث پولیس کو پیچھے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ صرف اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لئے اہلکاروں کو اندرتعینات کیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی طرح کا رد عمل سے روک دیاگیاہے ۔ گزشتہ روز صبح کے وقت ہی مختلف مقامات پر مظاہرین جمع ہونا شروع ہو گئے جنہوںنے بچی کے قتل اور پولیس فائرنگ سے ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔ مشتعل مظاہرین نے ٹائر وںکو آگ لگا کر دوسری شہروں کو جانے والے راستے بند رکھے جس سے مسافروں کوشدید مشکلات درپیش رہیں ۔ مظاہرین نے کالی پل چوک پر دھرنا دیدیا جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہوگیا،ڈنڈا بردار مظاہرین نے سٹیل باغ چوک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا ۔مشتعل مظاہرین نے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سامنے ٹائر نذرآتش کر کے شدید احتجاج کیا اور توڑ پھوڑ کے دوران ہسپتال کا مرکزی دروازہ بھی توڑ دیا۔انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے پولیس کی تعیناتی نہیں کی گئی ۔مظاہرین کی جانب سے ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد ڈاکٹرز ، پیر امیڈیکل سٹا ف کام چھوڑ کرچلے گئے جس کے بعد ہسپتال میں ایمر جنسی اور دوسرے وارڈز میںسروسز معطل ہو گئیں جس کے بعد لواحقین ایمبولینسز کے ذریعے مریضوںکو گھروں یا دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔واقعہ کے خلاف شہر کے تمام تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے ۔ پولیس فائرنگ سے جاںبحق ہونےوالے دونوں افرادکی میتیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئیں تاہم محمد علی کے ورثاءنے میت ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا ۔بعد ازاں 45سالہ محمد علی ور 22سالہ شعےب کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کر دی گئی ۔جاں بحق ہونےو الے افراد کی نماز جنازہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین قصوری نے پڑھائی جبکہ نمازجنازہ میں سیاسی وسماجی ،مذہبی ودےگر تنظیموں کے رہنماﺅں اورعام عوام سمیت ہزاروں کی تعداد نے شرکت کی ۔پو لیس اور مظاہرین میں وقفے وقفے سے تصادم کا سلسلہ جاری رہا ۔ڈنڈا بردار مشتعل مظاہرین نے (ن) لےگ کے مقامی ایم پی اے نعیم صفدر انصاری اور ایم این سے وسیم اختر شیخ کے ڈےروں پر دھاوا بول دیا ۔مظاہرین نے نعیم صفدر انصاری کے ڈیرے کا فرنیچر اور دو گاڑیاں نذر آتش کر دیں ۔اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کاسلسلہ بھی جاری رہا اور انتظامیہ کی ہدایت پر پولیس نے کسی طرح کا رد عمل نہ دیا ۔ ایک موقع پر پولیس اہلکار پسپائی اختیار کرکے بھاگتے ہوئے بھی دکھائی دئیے ۔ بعد ازاں پولیس نے واٹرکینن اور آنسو گیس کی شیلنگ کا استعمال کرکے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔سابق وزیر خارجہ خور شید محمود قصوری نے بھی زینب کے والدین سے ان کے گھر جاکر اظہار تعزیت کی اور میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے زینب پاکستان کی بیٹی ہے جس کے خو ن کو رائیگا نہیں جانے دیا جائے گا ملزمان کو جلد پکڑا جائے ،موجودہ حکمران عوام کے جانوں ومال کا تحفظ نہیں کرسکتے ان سے چھٹکارہ وقت کی اشد ضرورت ہے موجودہ حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کے جان ومال کو پامال ہونے کی اجازت دی ہے اور صرف اقتدار کیلئے ملک وقوم کو دعو پر لگا رےتے ہیں اگر زینب کے ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو موجودہ حکمرانوں پر یہ عذاب بن کر نازل ہو گا اور حکمرانوں کا اقتدار میں رہنا ناممکن ہو جائے گا ۔قصور واقعہ کے خلاف لاہور سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میںبھی احتجاج کیا گیا ۔سول سوسائٹی ، طلبہ اور تاجروں کی جانب سے کئے جانے والے مظاہروںمیں بچی کے قاتل کو فی الفور گرفتارکر کے قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا گیا ۔پنجاب یونیورسٹی کے طلباءنے قصور واقعہ کے خلاف پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ طلبہ نے ہاتھوں میں بینرز اورکتبے اٹھا رکھے تھے جن پر زینب کو انصاف دو کے نعرے درج تھے ۔ طلبہ کی جانب سے استنبول چوک میں بھی مظاہرہ کرکے سات سالہ زینب کے قاتل کو گرفتار کر کے عبرتناک سزا کا مطالبہ کیا گیا ۔ سول سوسائٹی کے افرادنے لبرٹی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی ۔ شرکاءکا کہنا تھاکہ پولیس پہلے پیش آنے والے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتی تو یہ اندوہناک واقعہ پیش نہ آیا ۔ گلبرگ کے تاجروں نے بھی قصور واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کرکے درندگی میں ملوث مجرم کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ لالک جان چوک میں سول سوسائٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں شرکاءزینب کو انصا ف دو ، پولیس گردی ہائے ہائے کے نعرے لگاتے رہے ۔ مظفر گڑھ میں مظاہرین نے سنانواں میں مظاہرہ کیا اور ملزم کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ وہاڑی میں طلبہ نے لرزہ خیز واقعہ کے ریلی نکالی اور بعد ازاں مظاہرہ کیا ۔ گوجرانوالہ میں مظاہرین نے جی ٹی روڈ کو گوندالوالہ چوک میں میں بند کر دیا جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا ۔ وکلاءتنظیموں کی جانب سے بھی واقعہ کے خلاف ہڑتال کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ۔ وکلاءعدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس کے باعث سائلین کو اگلی تاریخیں دیدی گئیں ۔اسلام آد ہائیکورٹ بار کی جانب بھی واقعہ کے خلاف ہڑتال کی گئی ۔پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقتولہ زینب کے والدین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنا اور ملزم کی گرفتاری دو صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کچھ سیاسی قوتوں نے اس واقعے کو اس طرح اٹھایا کہ مظاہرین سے مذاکرات کی دو مرتبہ کوشش ناکام ہوئی۔ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ مظاہرین کا غم و غصہ پولیس کے خلاف ہے، گزشتہ روز پولیس کی جانب سے فائرنگ نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس کا دفاع بھی نہیں کیا جاسکتا، مظاہرین پولیس کی گاڑی کو دیکھتے ہی اس پر حملے کر رہے ہیں۔ترجمان محمد احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے اور پولیس کو مظاہرین کی مزاحمت پر ردعمل نہ دینے کا کہا ہے اور فی الوقت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانا ہے تاکہ کسی عام شہری کو زندگی کو نقصان نہ ہو اور اس کے لئے دو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
٭٭٭٭٭
﴾خبرنمبر 344﴿……..
پاکستان کو اس کے نظریاتی تشخص سے محروم کرنے والے ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ‘سراج الحق
جب تک حکمران اپنی ذات کے حصار سے نکل کر ملک و قوم کے مفاد کو سامنے نہیں رکھیں گے ، قصور جیسے اندوہناک سانحات رونما ہوتے رہےنگے
عالمی سامراجی قوتوں کے غلام اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار حکمرانوں نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا ، آج کا دجال ٹرمپ مسلمانوں کو للکا ررہاہے ، عالم اسلام کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرناہوگا ‘امےر جماعت اسلامی کا اتحاد امت علما کنونشن سے خطاب
لاہور (اےن اےن آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسر اج الحق نے کہاہے کہ ایم ایم اے کے قیام کا اصل مقصد دینی جماعتوں کو ظلم و جبر کے نظام کے خلاف متحد کرنا اور ملک میں سیکولر و لبرل ازم کے خواب دیکھنے والوں کا راستہ روک کر نظام مصطفی کے نفاذ کی جدوجہد کرنا ہے ، پاکستان کو اس کے نظریاتی تشخص سے محروم کرنے والے ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ، عالمی سامراجی قوتوں کے غلام اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار حکمرانوں نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا ، آج کا دجال ٹرمپ مسلمانوں کو للکا ررہاہے ، عالم اسلام کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرناہوگا ، پاکستان میں دینی قوتوں کو باہم دست و گریبان کرنے والوں نے محض اپنے اقتدار کے لیے قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا ، علاقائی ، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کو ختم کرنے کے لیے منبر و محراب سے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ، جب تک حکمران اپنی ذات کے حصار سے نکل کر ملک و قوم کے مفاد کو سامنے نہیں رکھیں گے ، قصور جیسے اندوہناک سانحات رونما ہوتے رہیں گے ۔ان خیالات کااظہار انہوںنے جمعیت اتحاد العلما لاہور کے زیراہتمام الحمرا ہال میں اتحاد امت علما کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی عبدالغفار عزیز ، صدر جمعیت اتحاد العلما پاکستان شیخ القرآن مولانا عبدالمالک اور امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ قوم کو اس وقت باکردار ، دیانتدار اور جرا¿ت مند قیادت کی ضرورت ہے جو صرف علمائے کرام دے سکتے ہیں ۔ قوم کی رہنمائی کا فریضہ علمائے کرام ادا کر رہے ہیں ۔ ستر سال سے ملک پر جس ظلم و جبر کے نظام کا راج ہے اس نے عام آدمی کو پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر رکھاہے ۔ یہی ظالمانہ نظام عوام کی خوشیوں کا قاتل ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ستر سال میں تقریباً آدھے عرصے تک حکومت کرنے والی نام نہاد سیاسی جماعتوں نے عوام کے ساتھ کیا گیا کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا ۔ ملک کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے نوازا مگر اقتدار پر قابض ظالم اشرافیہ تمام وسائل پر خود قابض ہے اور عوام غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کے ہاتھوں تنگ آ کر خود کشیوں پر مجبور ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بڑے بڑے لٹیروں نے مختلف سیاسی جماعتوں میں پناہ لے رکھی ہے وہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے سیاست کرتے ہیں ۔ جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار اپنی دولت کے بل بوتے پر پورے انتخابی نظام کو یرغمال بناتے ہیں اور کروڑوں اربوں خرچ کر کے اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور پھر عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی قومی دولت لوٹ کر بیرونی بنکوں میں منتقل کر دیتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پانامہ ، دبئی اور لندن لیکس میں اور قرضے لے کر ہڑپ کرنے والوں کی فہرستوں میں کسی ایک عالم دین کا نام نہیں آیا ۔ علمائے کرام متحد ہو کر قوم کی ڈوبتی ناﺅ کو کنارے لگاسکتے ہیں ا س لیے اب انہیں معمولی معمولی مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے بارے میں سوچنا ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ ایم ایم اے ملک کی سب دینی جماعتوں کو ساتھ ملا کر آئندہ انتخابات میں کرپٹ اور بد دیانت لوگوں کا راستہ روکنا چاہتی ہے ۔

Scroll To Top