زینب قوم کی بیٹی تھی: قتل سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا: چیف جسٹس

  • واقعہ سے مجھ سے زیادہ میری اہلیہ گھر میں پریشان تھیں ،دکھ اور سوگ اپنی جگہ ، ہڑتال کی گنجائش نہیں بنتی ، جسٹس ثاقب نثار
  • صحت اور عدلیہ جیسے شعبوں میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اعتزاز احسن کو بطور قانون ساز اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

ثاقب نثار

اسلام آباد(این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ زینب قوم کی بیٹی تھی اس کے قتل سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں الرازی میڈیکل کالج کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے قصور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ زینب سے متعلق بھی ریمارکس دیئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ زینب قوم کی بیٹی تھی، اس واقعہ سے مجھ سے زیادہ میری اہلیہ گھر میں پریشان تھیں، واقعہ سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ چیف جسٹس نے اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ڈاکٹرز کی ایسی ٹیم چاہیے جو میڈیکل کالج کی انسپکشن کر سکے، میں نے کل آپ کو ٹی وی پروگرام میں سنا ،مانتا ہوں کہ آپ کے بغیر وکلا ءتحریک نہیں چل سکتی تھی، آپ کا یہی کردار میڈیکل کالجز کے معاملے پر بھی درکار ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلا ءتحریک کا منفی پہلو یہ نکلا کہ جج متکبر اور وکلاءمتشددہو گئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تکبر ایک ناسور اور جج کی موت ہے ، جج میں تکبر آجائے تو وہ جج نہیں رہتا ،وکلاءسے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ تشدد کا پہلو چھوڑ دیں ،آج عدالتوں میں ہڑتال کس وجہ سے ہوئی ہے، جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ قصور واقعے کی وجہ سے وکلاءنے ہڑتال کی ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ قصور کا واقعہ پاکستان کے لئے باعث شرمندگی ہے، زینب ہماری بھی بیٹی تھی، قصور واقعے پر میری اہلیہ بھی پریشان ہیں ،وکلا ءاحتجاج کریں لیکن ہڑتال جائز نہیں ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ صحت اور عدلیہ جیسے شعبوں میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اعتزاز احسن کو ایسے معالات میں بطور قانون ساز اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،مقدمے کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

Scroll To Top