زینب ظالم حکمرانوں کے خلاف فریادی بن گئی،سراج الحق

  • وزیراعلیٰ پنجاب رات کے اندھیرے میں زینب کے گھر پہنچا تھا‘ امیر جماعت اسلامی
قصور: امیر جماعت اسلامی سراج زینب کے خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کے بعد فاتحہ خوانی کر رہے ہیں

قصور: امیر جماعت اسلامی سراج زینب کے خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت کے بعد فاتحہ خوانی کر رہے ہیں

قصور(صباح نیوز) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ زینب پاکستان کے عوام اور کرپٹ عناصر کے خلاف فریاد بن گئی۔ زینب کرپٹ ، ظالمانہ نظام اور حکمرانوں کے خلاف فریادی بن گئی، زینب سے کتابیں اور قلم چھین کر کوڑا دان میں پھینکا گیا ،قصور واقعہ پر جنگل کے درندے بھی شرمندہ ہیں، زینب کا قصور کیاتھا، وہ تو معصوم تھی، معصوم بچی کو اغواءکے بعد بیدردی سے قتل کیا گیا، وزیر اعلیٰ صاحب آپ کی پولیس کہاں گئی؟ آپ کی ڈولفن فورسز کہاں تھیں؟ موجودہ حکومت کو مزید حکومت میں نہیں رہنا چاہئے۔ ڈی پی او قصور کو بھی پھانسی دی جائے۔ قصور کے ارکان اسمبلی کو مستعفی ہونا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار سراج الحق نے قصور میں اغواءکے بعد قتل ہونے والی بچی کے اہلخانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، سراج الحق کا کہنا تھا کہ میں تعزیت کے لئے آیا تھا اور مجھے سائرہ نامی بچی کی تصویر دی گئی ہے جو ٹیوشن پڑھنے گئی تھی اور کئی ماہ ہو گئے یہ اپنے گھر واپس نہیں آ سکی کسی نے اس کو اغواءکیا ہے ، کون اس کا ذمہ دار ہے، ہم جواب مانگتے ہیں، ہمارا ہاتھ ہو گا اور تمہارا گریبان ہوگا۔آج سنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب رات کے اندھیرے میں زینب کے گھر پہنچا تھا۔ راتوں کو تو چھاپے مارے جاتے ہیں۔ آپ کو دن کی روشنی میں آنا چاہئے تھا آپ کو عوام کے سامنے کھڑے ہو کر وضاحت کرنا چاہئے تھی۔ میں آج یہ نہیں کہتا ہوں کہ زینب کے قاتلوں کو سزا دی جائے یہ ایک ادھوری بات ہے۔ ان کو پھانسی دی جائے لیکن یہاں کا جو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہے ان کو بھی پھانسی دی جائے۔ پنجاب پولیس والو! تمہیں شرم آنی چاہئے کہ جب زینب کی نعش کو برآمد کیا گیا تو ان کے خاندان والوں سے کہا گیا کہ پولیس کو 10 ہزار روپے شاباش دے دو کہ انہوں نے کوڑے دان سے تمہاری بچی کی نعش برآمد کی کیا اس سے بڑا ظلم ہو سکتا ہے۔ کیا اس سے بڑا مذاق عوام کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اس لئے میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ حکومت مزید حکومت میں نہیں رہنی چاہئے۔ انہوں نے قصور کو اور پنجاب کو ظلم، جبر اور ستم کا مرکز بنایا ہے۔ لاکھوں پولیس عوام کی خدمت کی بجائے وی آئی پی کی خدمت میں رہتی ہے۔ وہ عوام کی بجائے بنگلوں کی حفاظت کرتی ہے۔ وہ عوام کی بجائے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی خدمت میں ہوتی ہے۔ میں قصور کے ایم این اے اور ایم پی اے سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو بھی آج کے دن استعفیٰ دینا چاہئے۔ آج کے بعد آپ اس شہر کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتے۔ آپ کے ہوتے ہوئے ظلم ہوا۔ مجھے رات بھر نیند نہیں آئی اور 20 کروڑ پاکستانیوں کو بھی نیند نہیں آئی۔ ہر گھر میں زینب اور سائرہ کی طرح بیٹی ہے۔ ہر پاکستانی اپنی بچی کے حوالے سے فکرمند ہوا جو ٹیوشن کے لئے جاتی ہے جن کی بچیاں سکول اور کالج جاتی ہیں۔ ہر پاکستانی اس غم میں مبتلا ہو گیا کہ میری زینب کا کیا ہو گا۔ لوگ اس نظام کو زندہ درگور کرنے کے لئے میرے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔
ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، پولیس اورسکےورٹی ایجنسیاں عوام کی بجائے بنگلوں کی حفاظت پر مامور ہیں ‘سراج الحق
قوم کی بیٹیوں کے سامنے شرمندہ ہیں ، جب تک زینب کے قاتل درندے کو پھانسی کے پھندے تک نہ پہنچادیں ، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے
پنجاب کے وزیراعلیٰ چوروں کی طرح رات کے اندھیرے میں مظلوم اور غمزدہ خاندان سے ملنے آئے ،لوگوں کا سامنا کرنا اور عوام کے سامنے وضاحت پیش کرنی چاہیے کہ ان کی ناک کے نیچے جرائم کیوں ہورہے ہیں ‘امےر جماعت اسلامی
لاہور (اےن اےن آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے قصور کے ہنگامی دورہ میں اغوا کے بعد قتل ہونے والی کمسن بچی زینب کے والد اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کی اور زینب کے بہیمانہ قتل پر ان سے تعزیت و ہمدردی کا اظہارکیا ۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں عوام کی بجائے بنگلوں کی حفاظت پر مامور ہیں ۔ دن دہاڑے معصوم بچوں اور بچیوں کو اغوا کرنے کے بعد ان کو قتل کر کے لاشیں کوڑے کے ڈھیروں پر پھینک دی جاتی ہیں ۔ زینب کا واقعہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل ایک سال میں درجن بھر بچیاں اور اس سے پہلے بچوں کے ساتھ شرمناک مظالم منظر عام پر آئے ہیں ان واقعات پر حکمرانوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے شہ پا کر درندوں کے حوصلہ بلند ہوگئے ۔ قصور میں اس لرزہ خیز واقعہ کے بعد قصور کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو بھی استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ وہ قصور کے عوام کی نمائندگی کا حق ادا نہیں کرسکے ۔ انہوںنے کہاکہ معصوم زینب کے قتل کے واقعہ نے بیس کروڑ عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے اور بچیوں کے والدین رات بھر سو نہیں سکے ۔ معصوم زینب کا اندوہناک قتل ہر گھر کو سوگوار اور ہر آنکھ کو اشکبار کر گیاہے۔ انہوںنے کہاکہ ہر گھر میں ایک زینب موجود ہے ۔ والدین بچیوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہوئے خوفزدہ ہورہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ معصوم زینب اللہ کی عدالت میں موجودہ حکمرانوں ، ظلم و جبر ، پولیس اور عدالتی نظام کے خلاف فریاد بن کر گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم قوم کی بیٹیوں کے سامنے شرمندہ ہیں اور جب تک زینب کے قاتل درندے کو پھانسی کے پھندے تک نہ پہنچادیں ، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ چوروں کی طرح رات کے اندھیرے میں مظلوم اور غمزدہ خاندان سے ملنے آئے ۔ انہیں لوگوں کا سامنا کرنا اور عوام کے سامنے وضاحت پیش کرنی چاہیے کہ ان کی ناک کے نیچے جرائم کیوں ہورہے ہیں کیا پولیس صرف حکمرانوں کے محلوں کا طواف کرتی رہے گی ۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانوں کو اپنی ناکامی اور مجرموں کے سامنے بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہو جاناچاہیے ۔ جو عوام کو جان ، مال اور عزت کا تحفظ نہ دے سکے اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پولیس مجرموں کو پکڑ نہیں سکی مگر معصوم بچی کے لرزہ خیز قتل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کرکے تین بے گناہ انسانوں کو قتل کر دیا ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ پولیس کوفائرنگ کرنے کا حکم دینے اور فائرنگ کرنے والوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں قرار اقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو معصوم لوگوں پر گولی چلانے کی جرا¿ت نہ ہو ۔ سینیٹر سراج الحق نے مظاہرین سے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب جاوید قصوری اور زینب کے والد اور دیگر رشتہ دار بھی موجود تھے ۔

Scroll To Top