اہلِ قصور مایوس ہوچکے ؟

zaheer-babar-logo
قصور میں زینب کے قتل کی گونج مسلسل دوسرے روز بھی سنائی دیتی رہی۔ مقامی آبادی میں اجتجاج ہوتا رہا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جاتی رہی۔ وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ شہر کے مکینوں کو تاحال یقین نہیں کہ ان کے درجنوں معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے اپنے انجام کو پہنچے گے بھی کہ نہیں۔ سانحہ پر احتجاج کے دوران پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے دونوں افراد کی بھی تدفین کردی گی۔شہر میں عوامی غم وغصہ کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ”خادم اعلی “ منت سماجت کے بعد صبح پانچ بجے زینب کے والد کے پاس افسوس کرنے جاسکے۔
اس میں دوآراءنہیںکہ سات سالہ زینب سے جنسی زیادتی اور پھر اس کے قتل نے دراصل پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر دوڈا دی ۔ اب تک شائد ہی کوئی شبعہ زندگی ایسا ہو جس سے وابستہ افراد اس دالخراش واقعہ کی خلش محسوس نہ کی۔ کروڈوں پاکستانی ایک ہی سوال کررہے کہ آخر کب تک وہ اس نظام کے پنجہ استبداد میں رہیں گے جو صرف اور صرف طاقتور افراد کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑا صوبہ سنگین مسائل کا شکار ہے۔ حالیہ مردہ شماری کے مطابق گیارہ کروڈ کی آبادی کے حامل اس صوبے میں سب ہی شبعوں میں ہنگامی بینادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلی شبہاز شریف دس وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہیں مگر حالات یہ ہیںکہ پنجاب کا ایک بھی شہر ایسا نہیں جہاں پینے کے لیے صاف پانی دسیتاب ہو۔ سرکاری محکموں میں رشوت اور اقربا پرودی کا دور دورہ ہے مگر دعوی یہ ہے کہ پنجاب میں تعمیر وترقی کی منازل تیزی سے طے کررہا ۔
دوسری جانب مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پانچ دریاوں کی سرزمین میں عام آدمی کو کن مسائل ے دوچار ہے۔شائد یہ بات عام آدمی کے لیے باعث حیرانگی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میںکمی آئی مگر بچوں کے خلاف جرائم میں ہرگز کم نہیں ہوئے ۔
بچوں پر جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ساحل کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر تک ملک بھر میں بچوں پر جنسی تشدد کے کل 3768 واقعات ر یکارڈ کیے گئے ، ان بچو ں کی عمریں 11 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔مذکورہ تنظیم کے مطابق تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک بھر میں روزانہ تقریبا 10 بچے کہیں نہ کہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں ۔ یہ شرح گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی جب کہ جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والوں میں قابل ذکر تعداد ان لوگوں کی تھی جو متاثرہ بچوں سے واقفیت رکھتے تھے۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات چاروں صوبوں، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام اباد سے ریکارڈ کیے گئے جس میں پنجاب میں 2616، سندھ 638، بلوچستان 207، اسلام آباد میں 167، خیبر پختونخوا میں 113، گلگت بلتستان اور فاٹا سے تین، تین واقعات ریکارڈ ہوئے۔ اہم یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد 1943 ان افراد کی ہے جو بچوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔ مذکورہ سال میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والوں 1974 بچیاں اور 1794 لڑکے شامل ہیں۔بلاشبہ ایسے واقعات میں اضافے کو روکنے کے لیے موجودہ قوانین پر عملدرآمد اور مزید قانون سازی کی ضرورت ہے۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کے مقدمات میں جو کم سے کم سزا ہے وہ تین سال سے زیادہ نہیں ہے جبکہ بعض حلقوں کے مطابق اس کی سزا دس سال سے زیادہ ہونی چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ قومی وصوبائی اسمبلیاں معاشرے میں بچوں سے زیادتی جیسے واقعات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لیے تیار ہیں بھی کہ نہیں۔ ماہر نفسیات کے مطابق بچپن میں ہی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں سے بڑے ہوکر صحت مندانہ رویہ کی امید نہیں کی جاسکتی ۔
اکثر وبیشتر ایسے واقعات کے نتیجے میں فرد کی شخصیت مسخ ہوکر رہ جاتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یوں بھی ہوا کہ متاثر شخص کو معاشرہ تو دور گھر کے افراد نے پورے طور پر قبول میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ قصور میں پیش آنے والے واقعات کو پوری سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ حکومت کے علاوہ والدین ، اساتذہ اور دانشوروں کو پورے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہے۔ وقتی غم وغصہ بجا مگر اس کے لیے طویل البنیاد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کسی بھی منصوبہ کو حقیقی منعوں میں اسی وقت عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے جب ارباب اختیار اخلاص اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
بدقسمتی کے ساتھ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت سے بہتری کی توقع رکھی نہیں جاسکتی۔ میاں نوازشریف ہوں یا شہباز شریف اب تک کے اقدمات اس پر مہر تصدیق ثبت کررہے کہ محض زبانی جمع خرچ کیا جاتا ہے۔ شریف خاندان اس حقیقت کا ادراک کرنے کو تیار نہیں کہ کم وبیش 35سال سے وہ پنجاب کی سیاست میں نمایاں سیاسی عنصر کے طور پر موجود ہے مگر ناکامیاں قبول کرنے کو تیار نہیں۔
افسوس کہ حکمران جماعت عملا ڈنگ ٹپاو کی پالیسی پر کاربند ہیں لہذا یہ امید کرنا مشکل ہے کہ مسلم لیگ ن حقیقی طور پر اپنی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے قصور جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے بنیادی نوعیت کے فیصلے کرڈالے۔

Scroll To Top