اس قوم کو زینب اور فیضان بننے سے بچایا جائے ۔۔۔خدارا !

aaj-ki-bat-logo

ہر معاشرے میں جرائم ہوتے ہیں مگر صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جو جرائم کے سدباب کے لئے ایک موثر فعال اور قابلِ اعتماد پولیس سسٹم ` اور ایک مستعد ذمہ داراور دیانت دارانہ عدالتی نظام قائم کرتا ہے۔۔۔
ہمارا پولیس سسٹم بنیادی طور پر حکمران طبقے کی خدمت اور غلامی کرنے اور اُس کے جائز و ناجائز احکامات کی تعمیل کرنے کے کام پر مامور ہوتا ہے۔۔۔ یہ بات ٹھوس زمینی حقائق کی بنیاد پر کہی جاسکتی ہے کہ حکمران طبقے کی کرپشن کے سب سے زیادہ گھناﺅنے اور مہلک اثرات ملک کے پولیس سسٹم پر پڑتے ہیں کیوں کہ جب پولیس کے چھوٹے بڑے اہلکاروں اور افسروں کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ وہ جن لوگوں کے احکامات کی تعمیل کررہے ہوتے ہیں وہ سر سے پاﺅں تک بدعنوانیوں اور بداعمالیوں کی دلدل میں دھنسے ہوتے ہیں تو ان کے اندر سے اچھائی کا احترام اور احتساب کاخوف یکسر ختم ہوجاتا ہے اور وہ اپنے آپ سے یہ کہے بغیر نہیں رہتے کہ ” کرپشن کے ذریعے مال کمانے کا کام تم سے بہتر کون کرسکتا ہے۔۔۔ ؟ تمہیں پکڑنے والا کون ہے ۔۔۔؟ کوئی نہیں ۔۔۔ تم براہ راست چوری اور ڈاکہ زنی نہیں کرسکتے لیکن چوروں ` ڈاکوﺅں اور جرائم پیشہ لوگوں کی سرپرستی کرکے اپنے حصے کا مال تو بٹور سکتے ہو۔۔۔“
پاکستان اس خوفناک منظرنامے کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے۔۔۔ اور یہ منظر نامہ جس قدر کاملیت کے ساتھ لاہور اور کراچی میں بیٹھے حکمرانوں کے زیر سایہ ہر سُو پھیلا نظر آتا ہے اس سے قوم کے اندر شدید مایوسی اور بددلی کا احساس پھیلے بغیر نہیں رہتا۔۔۔
انتظامیہ اپنے اوپر بیٹھے ہوئے ” صاحبِان ِاختیار “ کے کردار کا عکس ہوتی ہے ۔۔۔ کراچی مکمل طور پر ” زرداری زدہ “ اور لاہور مکمل طور پر ” شریف زدہ “ ہے۔۔۔ میرے ذہن میں Zardarisedاور Sharifisedکا اور کوئی ترجمہ نہیں آرہا۔۔۔
زینب کو انصاف ایسے معاشرے میں کیسے ملے گا ۔۔۔؟ فیضان کو درندگی کے ساتھ ختم کرنے والے مجرم ایسے معاشرے میں کیسے اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔۔۔؟
یہ قصہ صرف ایک زینب کا نہیں ` ایک فیضان کا نہیں ۔۔۔ صرف ایک زینب اِس سفاک سسٹم کی چیرہ دستیوں کی بھینٹ نہیں چڑھی۔۔۔اور یہ آخری زینب نہیں ہوگی ۔۔۔ یہ آخری فیضان بھی نہیں ہوگا۔۔۔ وحشت و بربریت کا یہ کھیل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ سر سے پاﺅں تک اس ضرب المثل کی تصویر نظر آئیں گے ۔۔۔
Behind every great fortune there is a crime.
(دولت کے ہر بڑے انبار کے پیچھے ایک بڑ ا جرم ہوتا ہے )
میاں نوازشریف چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ” مجھے کیوں نکالا۔۔۔؟“
اس کا جواب جسٹس کھوسہ نے اپنے فیصلے میں گاڈفادر کے حوالے سے متذکرہ بالا ضرب المثل کو دہرا کر دے دیا تھا۔۔۔
میاں نوازشریف کو یقین نہیں آرہا کہ ان کی برسہا برس کی محنت سے قائم کئے گئے ” نظامِ حکمرانی“ میں چند جج ایسے بھی موجود رہ گئے ہیں جو ان کے خلاف اِس قسم کا فیصلہ دینے کی جسارت رکھتے ہیں ` یا جنہیں ان کی دولت خرید نہیں سکی اور طاقت مرعوب نہیں کرسکی۔۔۔
میاں نوازشریف کا غصہ بجا ہے۔۔۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھی کعبے کو پاسبان صنم خانوں سے ہی ملتے ہیں۔۔۔
میں سلام پیش کرتا ہوں اُن ججوں کو جو ” طاقت اور دولت “ کو اقتدار و اختیار کے تحفظ کے لئے پوری سخاوت اور فراوانی کے ساتھ استعمال کرنے والے اِس ” گاڈفادر “ یا ”سیزر“ کے سامنے ڈٹ گئے ہیں۔۔۔
لیکن اس ملک کا عدالتی نظام صرف چیف جسٹس ثاقب نثار ` جسٹس آصف سعید کھوسہ ` جسٹس اعجا ز افضل ` جسٹس عظمت سعید ` جسٹس گلزار ` جسٹس اعجاز الحسن اور ان جیسے چند دیگر ” صاحبانِ ضمیر “ پر مشتمل نہیں۔۔۔ اس عدالتی نظام میں یقینا ایسے جج بھی موجود ہوں گے جن کے خیال میں ملزموں کو ریلیف فراہم کر نے اورانصاف پر قانون کو ترجیح دینے سے ہی عدلیہ کا وقار بلند ہوتا ہے ۔۔۔
میاں نوازشریف کی جڑیں پورے نظام میں پھیلی ہوئی ہیں۔۔۔ ہم نہیں جانتے کہ کون کون سے ” ضمیر “ درپردہ اب بھی میاں صاحب کی دولت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے ۔۔۔ بات صرف دولت کی نہیں ۔۔۔ اختیار کی بھی ہے۔۔۔ عدلیہ سے نا اہل قرار پانے والا شخص آج بھی اس لحاظ سے برسراقتدار ہے کہ ملک کا موجودہ وزیراعظم ببانگِ دہل عدلیہ اور فوج کو للکاررہا ہے۔۔۔ اِس وزیراعظم نے ایک روز یہ کہا کہ میاں نوازشریف کو نا اہل قرا ر دینے والا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا ` اور دوسرے روز یہ فرمایا کہ ” بلوچستان کی حکومت کو بھی ایجنسیوں کی سازش نے گرایا ہے ۔۔۔“
یاد رکھا جائے کہ ” ایجنسیوں “ کی اصطلاح ہمیشہ ” فوج “ کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔۔۔
یہ کھیل کب تک چلے گا۔۔۔ ؟
اس قوم کو زینب اور فیضان بننے سے کون بچائے گا۔۔۔

Scroll To Top