مغربی تہذیب کے ثنا خواں اور گماشتے عنقریب ہمارے ملک میں بھی داستان ِ پارینہ بن جائیں گے 20-09-2012

kal-ki-baat
یہ بات اہلِ مغرب کے لئے آنے والے وقتوں کے حوالے سے ایک پیغام کا درجہ رکھتی ہے کہ آنحضرت کی شان ِ اقدس میں شرمناک گستاخی کے خلاف احتجاج کی آگ اس مرتبہ دنیائے عرب میں زیادہ شدت کے ساتھ بھڑکی ہے۔
بہت زیادہ دہائیاں نہیں گزریں جب عرب ممالک یا تو عرب قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے یا پھر ایسی مطلق العنان حکومتوں کے شکنجے میں تھے جن کی بقاءمغربی سامراج کی خوشنودی سے منسوب و مشروط تھی۔
عرب قوم پرستی تو اب مکمل طور پر غائب ہوچکی ہے مگر مطلق العنان حکومتوں کا ابھی پوری طرح صفایا نہیں ہوا۔ اب بھی مغرب نواز حکمران مشرق وسطیٰ میں کئی جگہ قدم جمائے بیٹھے ہیں۔ پھر بھی تیونس ` مصر اور لیبیا میں اسلامسٹ جس طوفانی انداز میں اٹھے اور چھا گئے ہیں اسے دیکھ کر ہم پورے اعتماد کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ سطوت ِہلال کا پرچم ایک بار پھر عرب دنیاسے ہی بلند ہوگا۔
یہ درست ہے کہ احتجاج کو احتجاج کے دائرے میں ہی رہنا چاہئے اور اسے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ مغرب عالمِ اسلام کے خلاف بدترین ریاستی و معاشرتی دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے۔ جس مغرب میں ” ہولوکاسٹ“ کے حوالے سے ایک معترضی جملہ کہنا یا لکھنا ” جرم ِقبیح“ ہے وہی مغرب دوہرے معیار کا چھُرا ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی روح میں گھونپنے کو آزادیءاظہار کا نام دیتا ہے۔
عالمِ اسلام میں ہنوز سیاسی بالادستی ایسے لوگوں کو حاصل ہے جو مسلمانوں جیسے نام تو رکھتے ہیں لیکن اسلام کے ساتھ ان کا رشتہ بس ” تکلف “ کاہے۔” مغربی دانشوری “ میں اسلامسٹ کی اصطلاح منفی معنوں میں استعمال ہوتی ہے جبکہ جو شخص اسلامسٹ نہیں وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔ کیا کوئی شخص کمیونزم پر ایمان رکھے بغیر کمیونسٹ کہلا سکتا ہے ؟ اگر نہیں تو کوئی شخص اسلامزم پر ایمان رکھے بغیر مسلمان کیسے شمار کیا جاسکتا ہے ؟
لیکن دنیا بدل رہی ہے۔
مغربی تہذیب کے ثنا خواں اور گماشتے عنقریب ہمارے ملک میں بھی داستان ِ پارینہ بن جائیں گے ۔

Scroll To Top