چیف جسٹس کا قصور واقعے کا از خود نوٹس: آرمی چیف نے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے ہدایات جاری کر دیں

  • چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی معصوم زینب کے بہیمانہ قتل کی مذمت ،عسکری اداروں کو مجرموں کی گرفتاری کےلئے آرمی کو سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کی ہدایت
  • 7 سالہ زینب کی اغوا کے بعد زیادتی پر پوری قوم سراپا احتجاج، مظاہرے، چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی،انکوائری کی نگرانی لمحہ بالمحہ خود کر وں گا،شہباز شریف
  • چیف جسٹس اور آرمی چیف کے نوٹس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی ہوش آگیا،واقعہ کی تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی تشکیل، وزیر اعلیٰ پنجاب کا قصور واقعہ کی 24گھنٹے میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم

ثاقب نثار

راولپنڈی/لاہور (سٹاف رپورٹر)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معصوم زینب کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے مجرموں کی گرفتاری کےلئے آرمی کو سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کی ہدایت کی ہے ۔بدھ کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معصوم زینب کے بہیمانہ قتل کی مذمت کی ہے ۔متاثرہ والدین کی اپیل پر رد عمل میں پاک فوج کے سربراہ نے آرمی کو ہدایت کی کہ مجرموں کی گرفتاری اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کےلئے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کی جائے ۔ جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے قصور میں سات سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔بدھ کو چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔7 سالہ زینب کی لاش گزشتہ روز برآمد ہوئی تھی جس پرپورا شہر سراپا احتجاج بن گیااور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہو گئے۔مشتعل مظاہرین نے ڈی دی آفس پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی اور ٹائر جلا کر سڑکیں بھی بلاک کر دیںپولیس کے مطابق قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی رہائشی 8 سالہ بچی زینب 5 جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواءہوئی اور 4 دن بعد اس کی لاش کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی۔پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیاجس کی تصدیق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوئی۔ دوسری آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کے نوٹسز کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی ہوش آہی گیا۔ ترجمان حکومت پنجاب کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایڈیشنل آئی جی ابوبکرخدا بخش کی سربراہی میں جےآئی ٹی تشکیل دیدی۔انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران بھی ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ انکوئری کی نگرانی وہ خود کریں گے۔

لاہور (صباح نیوز) وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف نے قصور واقعہ کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے اور واقعہ کی 24گھنٹے میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے ترجمان وزیراعلٰی ہاﺅس کے مطابق وزیر اعلٰی نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی ابو بکر خدا بخش کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی کا ایک ایک نمائندہ اور پولیس افسران شامل ہیں وزیر اعلٰی نے کہا کہ وہ انکوائری کی نگرانی لمحہ بالمحہ خود کریں گے اور جوں ہی معاملہ سامنے آیا وہ خود قصور کا دورہ کریں گے اور وہاں بیٹھ کر حقائق معلوم کریں گے۔
وزیر اعلی کا سخت ایکشن، ڈی پی او قصور کو عہدے سے ہٹا دیاگیا
واقعات کی تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل
متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا :شہباز شریف
فائرنگ کے ذمہ داروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی:وزیر اعلی
لاہور (صباح نیوز)وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے قصور میں کم سن بچی کے قتل کے اندوہناک واقعہ اور آج مظاہرین پر فائرنگ کے واقعہ پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ڈی پی او قصور کو فوری طورپر عہدے سے ہٹا دیا ہے اور انہیں اوایس ڈی بنا دیاگیا ہے – وزیر اعلی نے قصور میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے جس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ابو بکر خدابخش ہوں گے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 24 گھنٹے میں وزیر اعلی کو رپورٹ پیش کرے گی-وزیراعلی نے کہا کہ قصور میں کم سن بچی کے قتل کے دلخراش واقعہ کی جس قدرمذمت کی جائے کم ہے – واقعہ میں ملوث درندہ صفت ملز م قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائے گا -انہوں نے کہا کہ کمسن بچی کے خاندان کو انصاف دلانا میری ذمہ داری ہے اور میںمتاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھوں گاکیونکہ جتنا ظلم اور زیادتی ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے -وزیر اعلی نے آج فائرنگ کے باعث دو افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی اور اظہارتعزیت کیا ہے – انہوںنے کہا کہ فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اورذمہ دار وں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی-

Scroll To Top