پنجاب حکومت کی ” کارکردگی “ کا ایک اور ثبوت

zaheer-babar-logo

پنجاب کے شہر قصور میں کم سن زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ نے جہاں مقامی آبادی کو شدید غم وغصہ میں مبتلا کیا وہی اس کی گونج ملک بھر میں سنی گی۔ ستم ظریفی یہ کہ قصور میں کسی بچے کے ساتھ زیادتی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ قصور کے سب انسپکٹرافتخار احمد نے غیر ملکی نشریاتی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے اس کا اقرار کیا کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات دوہزار سولہ سے وقفے وقفے سے جاری ہیں۔ افتخار احمد کے بعقول دوسو سے زائد پولیس افسران پر مشتمل جے آئی ٹی بنا رکھی ہے مگر تاحال وہ مجرم کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ سب انسپکڑ کا کہنا ہے کہ گماں یہی ہے کہ ایک ہی بندہ ہے جو بچوں کو راستہ میں سے اٹھاتا ہے اور پھر ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔ زینب کو بھی جنسی زیادتی کرکے کوڈے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ “۔ ادھر مقامی پولیس کی کارکردگی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ زینب پانچ دن غائب رہی مگر پولیس اسے بازیاب کروانے میںکامیاب نہ ہوئی ۔ بچی کے رشتہ داروں کے بعقول وہ خود اپنے طورپر زینب کو تلاش کرتے رہے مگر پولیس نے ان کی کوئی مدد نہ کرسکی۔
قصور میں بچوںکے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات نئے نہیں۔ اس سے قبل 2015 میں 280سے 300بچوں کے ساتھ زیادتی کی وڈیوز بنا کر انھیں اور ان کے گھروالوں کو بلیک میل کیا جاتا رہا، مجرمان متاثرہ خاندانوں سے پیسے بھی لیتے رہے۔ اس ضمن میںکچھ لوگوں کا یہ بھی دعوی تھا کہ اس تمام عمل میں مقامی پولیس کی علاوہ علاقے کا ایم پی اے ملک احمد سعید بھی ملوث رہا۔
بتایا گیا ہے کہ اب تک مختلف دنوں میں بارہ بچے غائب ہوئے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی اور پھر انھیں قتل کردیا گیا۔ قصور پولیس نے ڈی سی آفس میںاجتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کرکے دو افراد کو دن دیہاڈے قتل کردیا۔ حقیقت میں پنجاب پولیس نے ایک بارپھر سانحہ ماڈل ٹاون کی یاد تازہ کردی جس میں پاکستان عوامی تحریک کے 14نہتے مرد وخواتین کارکنوں کو سر عام نشانہ بنایا گیا۔
خادم اعلی گذشتہ دس سال سے وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہیں۔ خود کو خادم اعلی کہلانے والے آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں جس طرز کی حکمرانی پیش کرچکے اس پر کوئی بھی باشعور آدمی اطمنیان کرنے کو تیار نہیں۔ ناقدین کے بعقول پنجاب پولیس عملا حکمران جماعت کے قبضہ میں ہے یعنی ایس ایچ او سے لے کر اعلی آفیسر تک شائد ہی کسی عہدیدار کا تقررمیرٹ پر ہوا ہو۔ یعنی حکمران جماعت کے ہر قومی وصوبائی اسمبلی کے ممبر کی خواہش یہی ہے کہ تھانے میںاس کا اپنا بندہ تعینات ہو تاکہ مخالفین کے خلاف سچے جھوٹے مقدمات قائم کرکے اس کا جینا حرام کیا جائے۔ یہ سمجھنے کے لیے سقراط جیسی دانش نہیں چاہے کہ جب تک پولیس کی تقرریاں اور تبادلے میرٹ پر نہیں ہونگے حقیقی معنوں میں بہتری کی امید نہیں۔
ایسے میں جب عام انتخابات کی آمد آمد ہے ، حکمران جماعت اپنا طرزعمل بہتر بنانے کوتیار نہیں۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ عام انتخابات میں کامیابی کے لیے عوامی حمایت سے بڑھ کر وہ حیلے کارآمد ثابت ہوا کرتے ہیں جو کئی دہائیوں سے آزمائے ہوئے ہیں۔ پی ایم ایل این کی مشکل یہ ہے کہ آج حالات بدل چکے۔ پانچ دریاوں کی سرزمین کی حکمران قیادت نوئے کی دہائی سے آگے نہیں بڑھ سکئی ۔ یقینا پرنٹ، الیکڑانک میں دئیے جانے والے اشتہارات میں پنجاب حکومتی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی مگر زمینی حقائق ان دعووں کو مسترد کررہے۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف تین مرتبہ وزارت عظمی اور دو مرتبہ وزیر اعلی کے منصب پر اسی لیے فائز ہوئے کہ ان کی جماعت پنجاب میں فیصلہ کن اکثریت تھی۔ دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے میں بھی اسی لیے کامیاب ہوئی کہ پانچ دریاوں کی سرزمین سے انھیں مرکز میں حکومت بنانے کے لیے مناسب حمایت میسر آئی۔
پانامہ لیکس کے سامنے آنے سے قبل مسلم لیگ ن کیا اس کے مخالفین بھی دبے الفاظ میں اس کا اقرار کرتے تھے کہ دوہزاراٹھارہ کے عام انتخابات میں پی ایم ایل این کو فیصلہ کن برتری حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا، مگر اب حالات ایسے نہیں۔ عدالت عظمی کی جانب سے میاں نوازشریف عمر بھر کے لیے نااہل ہوچکے تو دوسری جانب حکمران جماعت ان وعدوں کی تکمیل میں مکمل طور پر کامیان نہیں ہوسکی جن کا وعدہ دوہزار تیرہ کی انتخابی مہم میں کیا جاتا رہا۔
الیکڑانک میڈیا نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ،پاکستان کا سماج ، سیاست اور معیشت سب ہی پر میڈیا اثرانداز ہورہا۔ خیال تھا کہ میاں نوازشریف کم وبیش 35 سال سے قومی سیاست میں متحرک ہیں لہذا وہ ان بدلے ہوئے حالات کا ادارک کریں گے مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ آج سیاسی حالات یہ ہیں کہ پنجاب سیاسی کشمکش کا بڑا مرکز ہے۔ پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ ن کی بڑی سیاسی مخالف جماعت کے طور پر سامنے آئی ۔ ادھر پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان عوامی تحریک بھی خود کو منوانے کے لیے پنجاب میںفعال ہے۔ تحریک لیبک کی شکل میں مسلم لیگ ن کو ایسی مذہبی جماعت سے مقابلے در پیش ہے جو مخصوص مسلک کی نمائندہ ہونے کی دعویدار ہے،مذکورہ حالات میں قصور میںکم سن بچی کے آبروریزی اور پھر اس کا قتل یقینا پنجاب حکومت کی مشکلات میں اضافہ کرگیا۔

Scroll To Top