میں نہیں مروں گا 19-09-2012

kal-ki-baat
گزشتہ چند دنوں کے دوران میں نے چند کالم ایسے لکھے ہیں جنہوں نے میرے دوستوں میںاضافہ نہیں کیا۔ ویسے بھی میں زندگی بھر مولانا اشرف علی تھانوی کی اس نصیحت پرعمل کرتا رہا ہوں کہ نفرت کافر سے نہیںکفر سے کرو لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ مت بھولو کہ کافر کے قریب رہنے سے کفر کے ساتھ نفرت کم ہوجاتی ہے۔
میں نے اپنے اندر کفر کے ساتھ نفرت کم نہیں ہونے دی۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ میرے ” دوست “ بھی میرے دشمن بن گئے۔
ایسی دشمنیوں پر مجھے کوئی پریشانی یا پشیمانی نہیں۔
اِن دنوں میرے ” دوستوں “ نے مجھ پر حملہ آور ہونے کے لئے ایک ” فورم “ قائم کیاہے جو ای میلز کے ذریعے میری ” سیاہ کاریوں“ کی داستان خلقِ خدا تک پہنچا رہا ہے۔ اس ” فورم“ میں میڈیا کے چند جانے پہچانے نام بھی ہیں اور کچھ میرے ” اپنے “ بھی ہیں۔ یہاں میں حضرت علی ؓ کا یہ قول درج کئے بغیر نہیں رہوں گا کہ ڈرو اس شخص سے جس پر تم نے کبھی کوئی احسان کیا ہو۔
اس قول میں جو حکمت ہے اسے میں نے برسہا برس کے تجربے کے بعد سمجھا۔ اس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ احسان کرنا بری بات ہے۔ خدا نے ہم سب کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ ہم ایک دوسرے پر احسان کرنا سیکھیں۔
بنیادی طور پر میں ” صلح جُو“ آدمی ہوں۔ میں نے زندگی میں کبھی کوئی ہتھیار اپنے ہاتھوں میں لے کر نہیں دیکھا۔ لیکن پھر بھی میرے اندر کہیں نہ کہیں ایک جنگجو ہر وقت انگڑائیاں لیتارہا ہے۔
1960ءکی دہائی میں یہ جنگجو ایوبی آمریت سے ٹکرایا۔ 1970ءکی دہائی میں اس جنگجو نے” جھوٹ کا پیغمبر “ جیسی زہریلی کتاب لکھی۔
ضیاءالحق کے دور میں یہ جنگجو کہیں جاکر سو گیا تو میں نے میڈاس قائم کی۔
مگر 1990ءکی دہائی میں یہ جنگجو پھرانگڑائیاں لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ مشرف دور سے لے کر زرداری دور تک میرے قلم سے ہمیشہ ” زہر “ ہی اگلا گیا ہے۔ شاید میرے ” عناصر ترکیب“ میں کوئی ایسی خصوصیت خاصیت یا عنصر ہے جس پر قابو پانا میرے بس میں نہیں۔۔۔
لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ آدمی کی زندگی سے جنگ ختم ہوجائے تو وہ مر جاتا ہے۔ میں نہیں مروں گا۔۔۔

Scroll To Top