سانحہ قصور: پولیس نے سیدھی گولی چلا کر2مظاہرین ہلاک کر دئیے

  • پولیس نے زینب واقعے پر احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے شدید فائرنگ کی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے
  • شہریوں نے پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق دونوں افراد کی نعشیں میتیں ڈی ایچ کیو اسپتال کے سامنے رکھ کر دھرنا دیا
قصور‘ زینب قتل کےخلاف احتجاج میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک نوجوان کی نعش ہسپتال میں پڑی ہے

قصور‘ زینب قتل کےخلاف احتجاج میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک نوجوان کی نعش ہسپتال میں پڑی ہے

قصور(سٹاف رپورٹر) کم سن زینب سے زیادتی و قتل کے خلاف شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور احتجاج کرنے والے مشتعل مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے رینجرز کو طلب کرلیا۔ایکسپریس نیوز کے مطابق قصور میں کم سن زینب سے زیادتی و قتل کے واقعے کیخلاف خواتین سمیت بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس و انتظامیہ کی نااہلی کیخلاف شدید احتجاج کیا۔ واقعے کے خلاف شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی اور کاروبار زندگی متاثر رہا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ زینب 5 روز سے اغوا تھی لیکن اس کے باوجود پولیس نے اس کی بازیابی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

قصور‘ زینب کے مبینہ قاتل کا جاری کر دہ خاکہ

قصور‘ زینب کے مبینہ قاتل کا جاری کر دہ خاکہ

اس خبر کو بھی پڑھیں : قصور میں 8 سالہ بچی کا زیادتی کے بعد لرزہ خیز قتل
مظاہرین نے کمشنر آفس پر دھاوا بولتے ہوئے دفتر کا گیٹ توڑ دیا اور ڈنڈوں سے گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراو¿ کیا جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے براہ راست سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد کی شناخت علی اور شعیب کے نام سے ہوئی ہے جن میں سے ایک طالب علم ہے۔ آئی جی پنجاب عارف نواز نے کہا ہے کہ تفتیش کریں گے کہ پولیس نے مظاہرین پر گولی کیوں چلائی۔
اس خبر کو بھی پڑھیں؛ معصوم زینب کے قتل پر شوبز و کرکٹ ستارے بھی اشک بار

مظاہرین دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کرائے بغیر اسپتال سے باہر لے آئے اور میتیں ڈی ایچ کیو اسپتال کے سامنے رکھ کر دھرنا دیا۔ اسپتال میں آنے والے پولیس اہلکاروں پر مظاہرین نے حملہ کردیا تو پولیس اہلکار جان بچانے کے لیے اسپتال میں چھپ گئے۔ چاروں طرف مظاہرین کا راج رہا جو حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔ پورے شہر میں حالات کشیدہ رہے جب کہ جگہ جگہ شہریوں نے احتجاج کیا۔

Scroll To Top