مریم صاحبہ نے اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ ” روک سکتے ہو تو روک لو۔۔۔“

aaj-ki-bat-logo

یہ بات ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ملک کے انتخابی نظام پر نوازشریف نے کئی دہائیوں سے اپنی گرفت اس قدر مضبوط کررکھی ہے کہ جب تک اس کی جگہ ایک نیا نظام نہیں لے گا جسے چلانے والے افراد میاں نوازشریف کے اقتدار اور اُن کی دولت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہوں گے ` اس وقت تک آزاد اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیںہوں گے۔۔۔ ملک کے انتخابی نظام پر شریف خاندان کی گرفت پنجاب میں بالخصوص آہنی شکنجے جیسی ہے۔۔۔ جو لوگ انتخابی عمل کو پایہءتکمیل تک پہنچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ حکومت ` قانون یا ضمیر کے سامنے نہیں براہ راست شریف خاندان کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔۔۔
اپنی اِسی آہنی گرفت کی بدولت شریف خاندان یہ دعویٰ بڑے اعتماد کے ساتھ کرتا ہے کہ انہیں فوج عدلیہ یا آئین کی کوئی پرواہ نہیں کیوں کہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔۔۔ آج بھی میاں نوازشریف اور ان کی نامزد کردہ ” جانشین وزیراعظم “ مریم صفدر یہی بیانیہ لے کر عوام کو گمراہ کرنے کے لئے نکلے ہیں۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ” انتخابی دھاندلی “ کی ترکیب کے موجد میاں نوازشریف ہیں۔۔۔ پاکستان میں 1988ءکے انتخابات سے پہلے عام انتخابات صرف 1970ءاور 1977ءمیں ہوئے تھے۔۔۔ 1970ءکے عام انتخابات کو عام طور پر شفافیت کی سند دی جاتی ہے جو شاید غلط نہیں۔۔۔ جہاں تک 1977ءکے انتخابات کا تعلق ہے ان میں چیدہ چیدہ حلقوں میں کھل کر دھاندلی نہ کی جاتی تو پاکستان قومی اتحاد(پی این اے )کی وہ احتجاجی تحریک نہ چلتی جو بھٹو حکومت کے خاتمے کا باعث بنی۔۔۔ اگر عام انتخابات کو دھاندلی سے مکمل طور پر پاک رکھا جاتا تو بھی کامیابی حکمران جماعت کو ہی حاصل ہوتی۔۔۔ لیکن زیڈ اے بھٹو دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے جنون میں ایسا راستہ اختیار کربیٹھے جوانہیں تباہی کی طرف لے گیا۔۔۔
انتخابی دھاندلی کو ایک آرٹ کا درجہ دینے کا کریڈٹ بہرحال میاں نوازشریف کو جاتا ہے۔۔۔ اس کا مظاہرہ انہوں نے اپنے پہلے انتخابات (1988)میںکیا لیکن کمال 1990ءکے انتخابات میں حاصل کیا جس پر ایک وہائٹ پیپر ” الیکشن کیسے چرایا گیا “ کے نام سے میں نے شائع کیا تھا۔۔۔ اس وہائٹ پیپر کی اشاعت کی ذمہ داری مجھے ایئر مارشل اصغر خان مرحوم اور مرحومہ بے نظیر بھٹو نے سونپی تھی۔۔۔جب یہ وہائٹ پیپر تیار ہورہا تھا تو میرے دفتر پر چھاپے بھی پڑے تھے لیکن میں اسے سامنے لانے میں کامیاب ہوگیا۔۔۔ یہ وہائٹ پیپر دونوں زبانوں یعنی اُردو اور انگریزی میں تھا۔۔۔ اسے ایئر مارشل صاحب اور بی بی صاحبہ نے الگ الگ تقاریب میں لانچ کیا تھا۔۔۔ بعد میں ان ہی انتخابات کے حوالے سے اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔۔۔
1993ءکے انتخابات میں میاں صاحب انتخابی دھاندلی کے فارمولوں پر کھل کر عمل نہ کرسکے اور انہیں اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا۔۔۔ اپوزیشن میں وہ اِس عزمِ صمیم کے ساتھ بیٹھے کہ محترمہ کی حکومت کو چلنے نہیں دیں گے ۔۔۔ اپنے اس عزمِ صمیم میں وہ کامیاب ہوئے۔۔۔
میاں صاحب کا آ ج کل ایک بیانیہ یہ ہے کہ 70برس کی ملکی تاریخ میں کسی وزیراعظم کوچلنے نہیں دیا گیا۔۔۔ اگر وہ اپنے حافظے پر زور ڈالیں تو ان پر یہ انکشاف ہوگا کہ 1988ء1990, ء1996ء اور2012ءمیں جو وزرائے اعظم فارغ کئے گئے انہیں فارغ کرانے میں کلیدی کردار خود میاں نوازشریف کا تھا۔۔۔1988ءمیں جونیجو مرحوم میاں صاحب کی ” ماہرانہ سازش آفرینی“ کا نشانہ بنے۔۔۔ 1990ءاور 1996ءمیں یہ ” اعزاز “ محترمہ کوحاصل ہوا اور 2012ءمیں یوسف رضا گیلانی کی باری آئی۔۔۔
ثابت ہوا کہ میا ں صاحب صرف ” انتخابی دھاندلی “ کے فن میں ہی مہارت نہیں رکھتے ` انہیں جھوٹ` منافقت اور سازش آفرینی میں بھی کمال حاصل ہے۔۔۔اگر اُن کا کوئی کمال متذکرہ ’ ’ اوصاف “ پر فضلیت رکھتا ہے تو وہ اپنے ” خزانوں “ میں شب و روز multiplyکرنے(یعنی ضرب دینے)کا کمال ہے۔۔۔
میں بات صرف اُس آہنی گرفت تک محدود رکھنا چاہتا ہوں جو میا ں صاحب کو مطلوبہ انتخابی نتائج حاصل کرنے کے لئے پورے انتخابی نظام پر حاصل ہے۔۔۔
اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ حکومت شریف فیملی کی ہو پھر بھی وہ ضمنی انتخاب جیت لے گا تو اسے اپنا دماغی معائنہ کرانا چاہئے۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے چکوال کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیوں کیا۔۔۔ کیا اس قسم کے فیصلے کرنے سے نون لیگ کی پروپیگنڈہ مہم کو مفت ایندھن فراہم نہیں ہوجاتا ۔۔۔؟
مریم صاحبہ کو اور کیا چاہئے۔۔۔ ؟ ایک بار پھر انہیں یہ نعرہ لگانے کا موقع مل گیا ہے۔۔۔
” روک سکتے ہو تو روک لو۔۔۔“
محترمہ اِس مرتبہ آپ نے غلطی یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوئی ہیں۔۔۔!

Scroll To Top