نواز شریف کو ایک اور دھچکا پارٹی بغاوت روکنے میں ناکام: ثناءاللہ زہری تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل مستعفی

  • اراکین اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے کی تمام تر کوششوں میں ناکامی کے بعد وزیراعظم کے مشورے پروزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی ثنااللہ زہری کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا
  • محسوس ہورہا ہے کہ کافی تعداد میں اسمبلی اراکین میری قیادت سے مطمئن نہیں، میری خواہش ہے کہ بلوچستان میں سیاسی عمل جاری رہے، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے صوبے کی سیاست خراب ہو،مستعفی ہونے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ کا بیان

نواز زہری

کوئٹہ(الاخبار نیوز) نااہل وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے کٹھ پتلی وزیر اعظم کی تمام تر تدبیروں کے باوجود منحرف اراکین اسمبلی کو خریدنے میں زبردست ناکامی کے بعد اپنے انجام کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کہ جن پر اقربائ پروری اور کرپشن کے الزامات تھے کو مجبوراً تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل ہی گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کرنا پڑ گیا تاکہ ن لیگ کو مزید شرمندگی سے بچایا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ کے خلاف اسمبلی میں آج تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی لیکن اس سے قبل انہیں مستعفی ہونے کے مشورے دیئے گئے۔وزیراعظم نے گزشتہ روز نواب ثنااللہ زہری سے ملاقات کی تھی اور انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔وزیراعظم نے صوبائی قیادت سے استفسار کیا تھا کہ سیاسی صورتحال کو اس نہج پر کیوں پہنچنے دیا گیا؟ انہوں نے مشورہ دیا کہ اسمبلی سے ووٹ کے ذریعے عدم اعتماد کے بجائے پہلے گھر چلے جانا بہتر ہے۔وزیراعظم نے صوبائی قیادت کو موجودہ صورتحال میں متحد رہنے اور صوبے میں حکومتی معاملات بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی ثنااللہ زہری کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ سیاسی بحران اور وزیراعظم کے مشورے کے بعد نواب ثنااللہ زہری نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔۔ثنااللہ زہری سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ کے ساتھ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کے پاس پہنچے جہاں انہوں نے اپنا استعفیٰٰ پیش کیا۔ثنااللہ زہری نے انتہائی مختصر استعفیٰ لکھا جس میں استعفے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔گورنر بلوچستان نے نواب ثنااللہ زہری کا وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ قبول کرلیا۔گورنر بلوچستان نے استعفے کی کاپی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر سمیت چیف سیکریٹری اور دیگر کو بھی بھجوادی جس کے بعد اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دی گیا ہے۔وزیراعلیٰ کے استعفے کے ساتھ ہی صوبائی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔۔استعفیٰ دینے کے بعد اپنے بیان میں نواب ثنااللہ زہری نے کہا کہ ‘ محسوس ہورہا ہے کہ کافی تعداد میں اسمبلی اراکین میری قیادت سے مطمئن نہیں، میری خواہش ہے کہ بلوچستان میں سیاسی عمل جاری رہے، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے صوبے کی سیاست خراب ہو‘۔انہوں نے کہا کہ ’زبردستی اقتدار سے چمٹے رہنا میرا شیوہ نہیں، میں زبردستی اپنے ساتھیوں پر مسلط نہیں ہوناچاہتا، اقتدار آنے جانے والی چیز ہے، عوام نےمناسب سمجھا تو میں ان کی خدمت جاری رکھوں گا‘۔ثنااللہ زہری کا کہنا تھا کہ مخلوط حکومت چلانا اتنا آسان نہیں ہوتا لہٰذا اتحادیوں کا مشکور ہوں۔ دریں اثناءوزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اپنی پارٹی کے ارکان ہی ساتھ نہیں تو حکومت بچانے کی کوشش کا فائدہ نہیں،پارٹی کو تقسیم سے بچانے اور ایوان میں ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے مستعفی ہوجائیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق منگل کو وزیر اعظم نے مسلم لیگ(ن)کی قیادت سے مشاورت کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کو ٹیلیفون کیا اور مشورہ دیا کہ جب اپنی پارٹی کے ارکان ہی ساتھ نہیں تو حکومت بچانے کی کوشش کا فائدہ نہیں، پارٹی کو تقسیم سے بچانے اور ایوان میں ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے مستعفی ہوجائیں ، یہی پارٹی اور ان کے اپنے مفاد میں ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان ،سردار محمد صالح بھوتانی  اور جان محمد جمالی مضبوط ترین امیدوار

اسلام آباد (این این آئی)نواب ثنا اللہ زہری کے استعفیٰ کے بعد اگلا وزیراعلیٰ  بلوچستان بھی حکمران جماعت ن لیگ سے ہی آنے کا امکان ہے ، سردار محمد صالح بھوتانی اور جان محمد جمالی عہدے کے لئے مضبوط امیدوار ہیں۔ذرائع کے مطابق گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے نواب ثنا اللہ زہری کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق نئے وزیراعلیٰ کے لئے ن لیگ کی طرف سے 2 امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں میڈیا رپورٹ کے مطابق 2018ءکے انتخابات سے قبل کی باقی مدت کےلئے ن لیگ کی طرف سے سردار محمد صالح بھوتانی اورمیر جان محمد جمالی میں سے کسی ایک کو وزیراعلیٰ بنائے جانے کاامکان ہے ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ صوبے کے اگلے وزیراعلیٰ صالح بھوتانی ہوں گے کیونکہ انہیں اکثریتی اراکین کی حمایت حاصل ہے ۔سردار صالح بھوتانی نے 2007 کے عام انتخابات سے قبل نگراں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، وہ 2013ءمیں پی بی 45 لسبیلہ 2 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔

Scroll To Top