بلوچستان پھر نمایاں رہا

zaheer-babar-logo

منگل کے دن بلوچستان دو واقعات قابل توجہ رہے، ایک نواب ثناءاللہ زہری اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے ۔ وزیر اعلی بلوچستان نے کئی روز سے جاری سیاسی بحران کے نتیجے میں گورنر محمد خان اچکزئی کو اپنا استعفی پیش کردیا جسے قبول کرلیا گیا ۔دوسرا صوبائی اسمبلی کے قریب ہونے والا خودکش حملہ جس میں عوام اور سیکورٹی فورسز کے لوگ شہید ہوئے صوبہ میںامن وامان کی سنگینی ظاہرکرگیا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ رقبہ کے اعتبارسے ملک کے سب صوبہ میں سیاسی استحکام قیام امن کے ساتھ مشروط ہے۔بلوچستان کے بدخواہ بالعموم اور پاکستان کے دشمن بالعموم کسی صورت اس سرزمین پر بہتری کے ظہور پذیر ہونے کے خواہشمند نہیں۔نائن الیون سے لے کر اب تک ملک میں مسقل بنیادوں پر امن وامان بحال نہیں ہوسکا۔اس میں شک نہیں کہ ضرب عضب اور ردالفساد کی صورت میں کشت وخون کے واقعات میں کمی واقعہ ہوئی مگر پرتشدد عناصر کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکا۔ یہ اعتراض بلاوجہ نہیں کہ خبیر تا کراچی سیاسی جماعتیںتاحال بنیادی زمہ داریاں ادا کرنے میںناکام رہی ہیں۔دنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں رہنما کہلانے والی شخصیات مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ انھیں حل کرنے کا فرٰیضہ بھی ادا کرتی ہیں بدقسمتی کے ساتھ ہمارے ہاں یہ رواج فروغ پذیر نہیں۔ نمایاں مثال مسلم لیگ ن ہے جو یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ کئی دہائیوں سے قومی سیاست میں موجود ہونے سے اس کی زمہ داری کئی گنا بڑھ چکی۔
سابق وزیر اعظم جس طرح صرف اور صر ف اپنے ذاتی اور گروہی مفاد کے لیے قومی اداروں کو ہدف بنانے کی روش پر گامزن ہے اس کے نتیجے میںباشعور شہری فکرمندی کے ساتھ تشویش کا اظہار بھی کررہا۔ اس پس منظر میں بلوچستان اسمبلی میں وزیر اعلی کے استعفی کو بھی مخصوص معنی پہنانے والوں کی بھی کمی نہیں، حکمران جماعت کے کئی سرکردہ افراد اس تمام عمل کو سازش قرار دیتے ہوئے اسے سینٹ انتخابات التواءمیں رکھنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
کسی بھی ترقی پذیر ملک کی طرح ملکی سیاست ارتقاءسے گزر رہی ۔ یہ محض خوش فہمی نہیں کہ آنے والوں دنوں میں سیاسی ادارے مذید زمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ اس پس منظر میں بلوچستان اسمبلی میںآنے والی تبدیلی کو جمہوری عمل کے طور پر قبول کرنا چاہے۔ عام انتخابات میں یقینا زیادہ دن نہیں رہ گے۔ سیاسی قوتیں نئی صف بندی کررہیں جن میں نئے اتحاد سامنے آنا خارج ازمکان نہیں۔ ہمارے سیاست دان تادم تحریر اتینے پختہ کار بھی نہیں ہوئے کہ وہ صرف اور ملک وملت کا مفاد ملحوظ خاطر رکھیں۔ آج ہم ایسے دور میں جی رہے جب مملکت خداداد پاکستان میں سیاست کو کاروبار سمجھا یا کہا جاتا ہے۔ ٹھیک کہا گیا کہ جس خطے میں جتنی پسماندگی ہوگی وہاں رائج نظام اس قدر پسماندہ ہوگا۔ ستر سال سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں کیے جارہے ، اس غفلت کا زمہ دار محض اسلام آباد میں براجمان حکمرانوں کو قرار دینا درست نہیں بلکہ صوبہ کو مشکلات سے دوچار رکھنے میں خود بلوچستان کے نوابوں اور جاگیرداروں کا کردار نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔
دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں بلوچستان کا سیاسی منظر نامہ کیا بنتا ہے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے البتہ تاریخی طور پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کسی قسم کی ڈرامائی تبدیلی کا امکان نہیں۔ دراصل صوبے میں جمہوری نظام کے ثمرات سے مستفید ہونے کے لیے لازم ہے کہ شر ح خواندگی میں اضافہ ہوا مگر عملا ملک کے کئی دیگر علاقوں کی طرح بلوچستان کی سیاست پر نوابوں اور جاگیر داروں کی گرفت بدستور مضبوط ہے۔
سی پیک کی شکل میں بلوچستان نئی اہمیت سے روشناس ہوا لہذا عقل وشعور کا تقاضا یہ ہے کہ صوبے کو روایتی انداز میںچلانے کی بجائے اصلاحات میںتیزی لائی جائے۔ سمجھ لینا چاہے کہ جنوبی ایشیاءنہیں کہ عالمی سطح پر طاقت کا توازن بدل رہا۔ حال ہی میں بیت المقدس کے معاملے پر امریکہ نے جو موقف اختیار کیا کہ وہ اس کے اخلاقی زوال کا پتہ دے رہا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے خلاف سو سے زائد ملکوں نے ووٹ ڈال کر ثابت کیا کہ سیاسی اور معاشی طاقت کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدریں بھی کم اہمیت کی حامل نہیں۔اس نئے عالمی کھیل میں بلوچستان بھی نمایاں ہوچکا۔ سی پیک کے نتیجے میں صوبے میں بہتری کے کئی امکانات روش ہوئے ۔ قومی اور صوبائی قیادت کے لیے بڑا چیلنج یہی ہے کہ کب اور کیسے اس عظیم منصوبہ کے ثمرات سے بلوچی عوام کو بہرور کیا جائے۔
بلوچستان میںسیاسی ، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی کرنے والے گروہ تاحال متحرک ہیں۔ سمجھ لیا جائے کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کو کوئی بھی نام دے لیں مگر ان کے پچھے دشمن قوتیں ایک ہی ہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ سیاسی قوتیں خرابیوں کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں یعنی یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی ترجیحات میں ان کروڈوں پاکستانیوں کے مفادات نمایاںجگہ پر نہیں جن کے شب وروز مسائل سے دوچار ہیں۔ غربت ، جہالت اور پسماندگی میں زندگی گزرانے والے امید وناامیدی کے درمیان سفر کررہے ہیں۔ جمہوری نظام کی افادیت اسی صورت ظاہر ہوسکتی ہے جب اس کے ثمرات سے خواص کی بجائے عوام مستفید ہوں۔ وزیر اعلی بلوچستان کا استعفی اور کوئٹہ میں دہشت گردی کے نتیجے میں حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان واقعات کو اس طویل جدوجہد کے حصہ کے طور پر دیکھنا چاہے جس میں بلوچستان میںخیر اور شر کے درمیان مسلسل کشمکش جاری ہے۔

Scroll To Top