یہاں سوچ بکتی بھی ہے اور خریدی بھی جاتی ہے 18-09-2012

kal-ki-baat
جو قلمکار تجزیہ نگار یا صحافی اپنی سیاسی فکری اور نظریاتی پہچان کرانے سے احتراز کرتا ہے اور غیرجانبداری کالبادہ اوڑھ کر اپنی وفادریاں چھپانے کی کوشش کرتا ہے ` اسے منافق قرار نہ دینا ” دیانت“ کی اصطلاح کے ساتھ ” خیانت“ ہوگی۔
صحافت اور قلمار ی کے میدان میں وہی لوگ آتے ہیں جنہیں معاشرت معیشت معاشرے ملک اور سیاست سے دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی بھی صحافی اور قلمار ایسا ہو جس کی کوئی خاص سوچ نہ ہو ` جس کی ہمدردیاں کسی خاص جماعت یا قیادت کے ساتھ نہ ہوں اور جس کا ذہن ایسے صاف اور کورے کاغذ جیسا ہو جس پر کچھ بھی لکھا ہوا نہ ہو۔جس طرح کوئی سیاست دان غیر جانبدار نہیں ہوسکتا اسی طرح کسی صحافی یا قلمکار کا غیر جانبدار ہو نا بھی خلافِ فطرت اور بعیداز حقیقت ہے۔
یہ اور بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی وفاداری کا تعین صرف نظریات کی بنیاد پر نہیں ہوتا ” مفادات “ کی بنیاد پر بھی ہوتا ہے۔ بلکہ زیادہ تر ہوتا ہی مفادات کی بنیاد پر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی پہچان کے دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں تاکہ وفاداریوں کی قیمت اپنی مرضی کے مطابق وصول کرنے میں آسانی ہو۔
مغرب میں ہر ادیب ہر قلمکاراور ہر سیاست دان کا سیاسی قبلہ متعین ہوتا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ لیری کنگ ڈیموکریٹ ہے اور بکانن ری پبلکن تھا۔کوئی بھی شخص اپنی پہچان نہیں چھپاتا۔
نام نہاد غیر جانبداری کا لبادہ صرف ہمارے ملک میں اوڑھا جاتاہے کیوں کہ یہاں سوچ بکتی بھی ہے اور خریدی بھی جاتی ہے۔۔۔

Scroll To Top