ساڑھے تین سو گدھوں کو ملاکر ایک گھوڑا نہیں بنایا جاسکتا۔۔۔

aaj-ki-bat-logo

مسلم لیگ نون کی پہچان جن چہروں کے ذریعے ہورہی ہے انہیں دیکھ کر آپ بدمزہ ہوئے بغیر نہیں رہتے ہوں گے ۔۔۔اور جب ان کی زبانیں چلتی ہوں گی تو آپ اور بھی زیادہ بدمزہ ہوتے ہوں گے ۔۔۔ میں صرف رانا ثناءاللہ کی بات نہیں کررہامیں صرف سردار ثناءاللہ زہری کی طرف اشارہ نہیں کررہا ` میرے ذہن میں صرف طلال چوہدری ` دانیال عزیز اور عابد شیر علی کے نام نہیں۔۔۔ حکمران جماعت میں جو چہرے نسبتاً زیادہ کرِ یہہ النظر نہیں سمجھے جاتے انہیں بھی آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر سوچنا پڑ جاتا ہوگا کہ ہم پہلے تو ایسے نہیں تھے۔۔۔
بدقسمتی سے مسلم لیگ نون قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ وہی جمہوریت کی حقیقی پہچان اور حقیقی علمبردار ہے۔۔۔ اگر مسلم لیگی لیڈروں کا یہ دعویٰ درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر کیا بیس بائیس کروڑ نفوس کا یہ ملک ” جمہوریت “ کا متحمل ہوسکتا ہے۔۔۔ ؟ کیا یہ ملک دنیا میں اپنی پہچان ان حضرات کے چہروں اور ناموں سے کراسکتا ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔۔۔؟
جس ملک کے سب سے بڑے اور سب سے طاقتور صوبے کا وزیرقانون ایک ایسا شخص ہو جو صرف پنجابی فلموں کے ولن کے کردا ر میں سج سکتا ہے اسے بدقسمت قرار دینے کے لئے اور کس ثبوت کی ضرورت ہوگی۔۔۔؟
کیا سردار ثناءاللہ زہری جیسے ” جابر“ نظر آنے والے فیوڈل بھوک اور افلاس کے شکار ان عوام کے نمائندے سمجھے جاسکتے ہیں جنہیں پینے کا غیر مضر پانی بھی میسر نہیں۔۔۔؟
ہمارے دانشور کب یہ حقیقت تسلیم کریں گے کہ جمہوریت کا صرف نام پرُکشش ہے۔۔۔ بالکل اس مکروہ صورت آدمی کی طرح جس کا نام شکیل ہو ؟ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نظام میں باصلاحیت اورباکردار لوگ عوام کے ووٹ حاصل کرکے اقتدار میں آسکیں۔۔۔ ؟
قوم کی تقدیر تبدیل کرنے کے لئے صرف ایک کرشمہ ساز لیڈر کافی ہوتا ہے۔۔۔ جو نظام بھی ہمیں ایسا کرشمہ ساز لیڈر عطا کر سکے ہمیں اُسی نظام کو اختیار کرنا ہوگا۔۔۔
ساڑھے تین سوگدھوں کو ملا کر ایک گھوڑا نہیں بنایا جاسکتا؟
ہم کب تک جمہوریت کی سربلندی کے لئے شیاطین کی پرورش اور پوجا کرتے رہیں گے ؟

Scroll To Top