چیف جسٹس کا عدالتی اصلاحات لانے کا اعلان

  • پارلیمنٹ نے کیا اصلاحات متعارف کرائی ہیں؟عدلیہ میں آئندہ ہفتے سے اصلاحات شروع ہوجائےگی ' پھر کوئی نہ کہے کہ ہم مداخلت اور تجاوز کررہے ہیں‘چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار
  • بتایا جائے نظام عدل میں اصلاحات لانا کس کا کام ہے؟نہیں چاہتے کہ کسی کا بچہ ہسپتال میں عدم سہولیات کے باعث مر جائے،ہمارافوکس تعلیم، صحت اورعدالتی اصلاحات پرہوگا

cjp

سلام آباد(این این آئی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے عدلیہ میں آئندہ ہفتے سے اصلاحات شروع ہوجائے گی لیکن پھر کوئی نہ کہے کہ ہم مداخلت اور تجاوز کررہے ہیں۔ پیر کو سپریم کورٹ میں سی ڈی اے قوانین میں عدم مطابقت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کے سلسلے میں وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے طارق فضل چوہدری سے استفسار کیا بتائیں یہ سارے معاملات ٹھیک کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟ اس پر طارق فضل نے استدعا کی کہ معاملات ٹھیک کرنے کےلئے 3ماہ کی مہلت دے دیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سی ڈی اے قوانین میں عدم مطابقت ہے ¾ بہت سے معاملات میں قواعد و ضوابط تک نہیں بنائے گئے۔چیف جسٹس پاکستان نے وزارت کیڈ کوسی ڈی اے قوانین میں  یکسانیت سے متعلق قانون سازی کےلئے 2 ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ دن رات مخلص انداز سے کام کریں۔چیف جسٹس نے طارق فضل چوہدری سے استفسار کیا کہ پوری دنیا میں قانون سازی کس کی ذمے داری ہوتی ہے؟ اس پر وزیر مملکت نے جواب دیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہوتا ہے۔معزز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پارلیمنٹ نے کیا اصلاحات متعارف کرائی ہیں؟ عدالتی نظام میں ہم اصلاحات لے کر آئیں گے، عدلیہ میں بھی ایک ہفتے میں اصلاحات شروع ہوجائیں گی ' ویسے یہ ہمارا کام نہیں، ہمارے اصلاحات لانے پر پھر کوئی یہ نہ کہے کہ ہم مداخلت اور تجاوز کر رہے ہیں۔دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کاکہنا ہے کہ اب کچھ کرنا ہوگا کیونکہ نہیں چاہتے کہ کسی کا بچہ ہسپتال میں عدم سہولیات کے باعث مر جائے۔پی ایم ڈی سی کونسل کے وجود اور سینٹرل ایڈمیشن پالیسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارافوکس تعلیم، صحت اورعدالتی اصلاحات پرہوگا، میں بار بار تقریر نہیں کر رہا بلکہ یاددہانی کرارہاہوں۔ یہ نہیں کہتاکہ سب کچھ ٹھیک کرلیں گے لیکن اب کچھ کرناہوگا، نہیں چاہتا کہ کسی کابچہ اسپتال میں عدم سہولتوں کے باعث مر جائے، وہ بچہ میرا یا کسی اور کا بھی ہوسکتا ہے۔
گھریلو ملازمہ طیبہ اور ایڈیشنل سیشن جج کے درمیان راضی نامہ ¾ سپریم کورٹ نے طیبہ بی بی تشدد کیس ٹرائل میں تاخیر کا نوٹس لے لیا
ہائی کورٹ نے طیبہ اور جج کے درمیان راضی نامہ مسترد کردیا تھا ¾ اب تک 6 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں ¾ وکیل جج راجہ خرم
چیف جسٹس ثاقب نثار نے رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ سے طیبہ تشدد کیس کے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات طلب کرلیں

Scroll To Top