جسٹس فائز عیسی رپورٹ پر مکمل عمل درآمد نہ ہوسکا

zaheer-babar-logo

وطن عزیز میں ایسے سانحات بے شمار ہیں جو اپنی ہولناکی کے باوجود ارباب اختیار کو ان کی زمہ داریوں کی ادائیگی کروانے میں ناکام رہے۔ ان میں سے ایک سانحہ کوئٹہ بھی کہا جاسکتا ہے جس میں صوبائی دارالحکومت کے درجنوں معروف وکلاءایک ہی کاروائی میں جام شہادت نوش کرگے۔ اس سانحہ پر عام آدمی کے علاوہ ملک بھر کے وکلاءکا شدت غم سے نڈھال ہونا قدرتی امر تھا۔ وکلاءبرداری نے دہشت گردی کی اس کاروائی کے درپردہ مجرموں کو سراغ لگانے اور انھیں عبرتناک سزا دینے کے لیے ملک بھر میںاجتجاج کیا۔ اس دلخراش واقعہ سے عدالت عظمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی لہذا سپریم کورٹ نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا۔
تازہ پیش رفت میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ کوئٹہ کی کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں لگتی۔ عدالت عظمی کنے ریمارکیس دیے کہ 17 سال سے دھماکے ہو رہے ہیں اور صوبائی حکومت سوئی رہی۔جسٹس دوست محمد کا کہنا تھا کہ کہ ہائی کورٹ نے 2012 میں فرانزک لیب کے قیام کی ہدایت کی تھی جس کے لئے مختص کردہ کروڑوں روپے ہضم ہوگئے، ہر بجٹ میں 50 لاکھ روپے بھی لگاتے تو فرانزک لیب تیار ہوچکی ہوتی۔ دوران سماعت جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے سانحہ کوئٹہ کے ملزمان کو ٹریس کیا، ہر سانحے پر تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ جج فراہم نہیں کرسکتی، تحقیقات پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔یاد رہے کہ 8 اگست 2016 کو کوئٹہ کے سول اسپتال میں خودکش حملے کے نتیجے میں 70 کے قریب افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جن میں زیادہ تعداد وکلا کی تھی۔سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے خودکش حملے کا 31 اگست کو نوٹس لیتے ہوئے پہلی سماعت 20 ستمبر 2016 کو کی تھی۔
سانحہ پشاور کے بعد قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہونا بتارہا کہ ارباب اختیار مسلسل اپنی آئینی ، قانونی اور اخلاقی زمہ داریوں کی ادائیگی میںناکام ہیں۔دراصل دہشت گردی کے خلاف جنگ نے اہل اقتدار کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ نظام میں موجود ان خرابیوں کو دور کرنے کرڈالیں جو سالوں سے نہیں دہائیوں سے مسائل پید اکررہے۔ یہ رائے غلط نہیںکہ کلیدی اہمیت کا حامل پولیس کا محکمہ تاحال مثالی کہلانے کا مسحق نہیں۔ شبہ نہیں کہ چاروں صوبوں کے پولیس افسران اوراہکاروں جس تعداد میں جام شہادت نوش کرگے وہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے۔ محکمہ کی قربانیوں کے اعتراف کے بعد ان مشکلات اور مسائل کو حل کرنا ضروری تھا جو کلیدی اہمیت کی حامل فورس کو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے لیے درپیش ہیں۔ یہ اعتراف کر نا غلط نہیں کہ شعبے کی طرح پولیس میں بھی اچھے برے لوگ موجود ہیں مگر حکومتوں کا کام یہ ہے کہ وہ ترقی اور تبادلوں کے لیے سیاسی بنیادوں پر اقدمات اٹھانے کی بجائے خالصتا سیاسی میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
سانحہ کوئٹہ ہر جسٹس فائزعیسی کی رپورٹ قیام امن کے لیے نظام میں موجود نقائص کو بے نقاب کرگی۔ سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے 6 اکتوبر2016 کو جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل ایک رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا جس نے 54 دنوں میں تحقیقات مکمل کر لی کمیشن کے مطابق سانحہ کوئٹہ پر وفاقی و صوبائی وزرائے داخلہ اور وزیراعلی بلوچستان نے غلط بیانی سے کام لیا ۔ رپورٹ میں وزارتِ داخلہ کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہاگیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وزارتِ داخلہ کو اپنے کردار کاعلم ہی نہیں وزارتِ داخلہ کنفیوژن اور قیادت کے فقدان کا شکار ہے ۔
رپورٹ میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو نیکٹا ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی قرار دیاگیا ۔ رپورٹ کے مطابق ساڑھے 3 سال میں اس ادارے کا صرف ایک اجلاس بلائے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا یعنی قومی سلامتی پالیسی پر عمل نہیں کیا جا رہا جب کہ قومی لائحہ عمل کے اہداف کی مانیٹرنگ بھی نہیں کی جاتی۔ ۔
رپورٹ میں حکومت کو دہشتگردوں کے خلاف متبادل بیانیہ تیار کرنے اور پھیلانے میں مکمل طور پر ناکام قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس فائز عیسی کمیشن کے مطابق سول اسپتال کوئٹہ میں دہشتگردی کی کارروائی کے بعد جائے وقوعہ کا فرانزک تجزیہ بھی نہیں کرایا گیا اور صوبے کے پولیس سربراہ بھی حملے کے بعد کیے جانے والے بنیادی اقدامات سے بھی لاعلم نکلے۔
کمیشن نے سفارش کی تھی دہشتگرد تنظیموں کے بیانات نشر کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کی جائے انسداد دہشتگردی ایکٹ کو موثر طور پر نافذ کیا جائے تمام کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی فہرستیں خفیہ ایجنسیوں کی ویب سائٹس پر آویزاں کی جائیں عوام کا ان ایجنسیوں سے رابطہ آسان بنایا جائے تا کہ وہ دہشتگردوں سے واقف بھی ہو سکیں اور ان کی نشاندہی میں معاونت بھی کر سکیں۔ مذید یہ کہ دہشتگردوں کا ڈیٹا جمع کرنا نیکٹا کاکام ہے مگر اب تک یہ کام شروع ہی نہیں ہوا لہذا نیکٹا کو اس کے لیے فوری طور پر متحرک کیا جائے۔یاد رہے کہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ یہ حساس نوعیت کی رپورٹ ہے اس لیے اسے خفیہ رکھتے ہوئے پبلک (عام) نہ کرنے کا حکم جاری کیا جائے تاہم فاضل عدالت نے ان کی استدعا مسترد کر دی تھی ۔

Scroll To Top