ملک ریاض حسین نے بے داغ صحافیوں کو پاکباز ی کا سرٹیفیکیٹ دے دیا 15-09-2012

kal-ki-baat

جناب حامد میر کی درخواست پر ملک ریاض حسین نے یہ بیان عدالت میں جمع کرا دیا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی بھی صحافی کو کوئی رقم نہیں دی اور اس ضمن میں پھیلنے والی تمام خبریں اور افواہیں گمراہ کن ہیں۔
پوری صحافی برادری کو حامد میر صاحب کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے سب کے لئے ملک ریاض حسین سے ” کلین بل آف ہیلتھ “ حاصل کرلیا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حامد میر صاحب اور ابصار عالم صاحب نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کر رکھی ہے کہ مرکزی وزارت اطلاعات کا خفیہ فنڈ بہت بڑے پیمانے پر ” نیک پاک صاف“ فرزندان و دختران میڈیا “ کا ایمان خراب کرنے کے لئے استعمال ہورہا ہے۔
انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ کس طرح اپنا ایمان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن چونکہ وہ ” بے ایمانی “ کے خلاف ” پاکبازی “ کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اس لئے اُن کے دامن کو بالکل بے داغ گردانا جائے۔ ورنہ وہ میڈیا کو شیطانی سرگرمیوں سے پاک کرنے کی مہم پر کیوں نکلتے؟
اس ضمن میں مجھے مارس لیبلانک کا ایک ناول یاد آرہا ہے۔ مارس لیبلانک مشہور کردار آرسین لوپن کا خالق تھا جو چوریاں خلق ِ خدا کی امداد کرنے کے لئے کیا کرتا تھا۔ اس کی سرگرمیاں اچانک رک گئیں اور ایک عرصے تک آرسین لوپن کی کوئی واردات سامنے نہ آئی تو لوگوں نے سمجھا کہ یا تو وہ مرکھپ گیا ہے ¾ یا پھر اس نے توبہ کرلی ہے۔
پھراچانک اس کی وارداتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔
شہر کا چیف انسپکٹر وکٹر اس کو پکڑنے کے لئے سرگرم عمل ہوگیا۔ ناول کے آخری باب میں وکٹر نے بالآخر آرسین لوپن کو پکڑ ہی لیا۔ ایک علیحدہ کمرے میں پوچھ گچھ ہوئی۔ اچانک وکٹر نے آرسین لوپن سے پوچھا۔
” تم کون ہو۔؟“
آرسین لوپن نے چونک کر کہا ۔” آرسین لوپن اور کون ؟“
وکٹر مسکرایا۔۔۔ اور بولا۔
” سچ سچ بتاﺅ کہ تم کون ہو۔ آرسین لوپن دو نہیں ہوسکتے۔ اصل آرسین لوپن تمہارے سامنے بیٹھا ہے۔ تم کون ہو؟“
وکٹر کے سامنے بیٹھے شخص کا رنگ ایکدم ا ڑ گیا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ ناول مجھے کیوں یاد آیا ہے۔لیکن میرے ذہن میں یہ سوال ضرور کلبلا رہا ہے کہ وہ بدبخت صحافی اینکر پرسن اور میڈیا مالکان کون ہیں جو جناب حامد میر اور جناب ابصار عالم کی قائم کردہ اعلیٰ صحافتی روایات کو داغدار کررہے ہیں۔
یہ اس ملک کی بدبختی ہے کہ یہاں اتنے سارے لوگ بہروپ بدل بدل کر کام کرتے ہیں کہ کون اصل میں کون ہے ` اس کا اندازہ لگانے کے لئے امداد ِ خداوندی کی ضرورت پڑ جاتی ہے

Scroll To Top