اے اشرف المخلوقات۔۔۔ تُو کامل نیکی اور کامل عقل کیوں نہیں بن سکتا؟

aaj-ki-bat-logo


اگر اللہ تعالیٰ کو یہ مقصود ہوتا کہ اس کی سب سے اشرف مخلوق ” انسان“ ہرلحاظ سے کامل ہو تو حضرت آدم ؑ جنت سے نہ نکلتے اور کرہ ءارض پر نسلِ آدم کی تاریخ جنم نہ لیتی۔۔۔ انبیائے کرام کو چھوڑ کر میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی ابن آدم بشری کمزوریوں سے پاک نہیں ہوسکتا۔۔۔ اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال اسلام کی تاریخ میں سب سے زیادہ المناک سمجھی جانے والی لڑائی ” جنگ ِ جمل“ ہے جس میں صحابہ ءکرام کی تلواریں صحابہ ءکرام کی تلواروں سے ٹکرائی تھیں` جس میں ایک لشکر کی سالاری ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کررہی تھیں اور دوسرے لشکر کے سالار حضرت علی ؓ تھے ` اور جس میں دونوں طرف جان دینے والوں میں ایسے صحابی تھے جنہیں آنحضرت ﷺ نے زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی۔۔۔جنگِ جمل تاریخ اسلام کا سب سے کپکپادینے والا باب ہے جس کا مطالعہ آنسو بہائے بغیر کیا ہی نہیں جاسکتا اور جس میں ذمہ داری کا تعین کرنا نہایت تکلیف دہ کام ہے۔۔۔
یہ لمبی تمہید میں نے صرف اس بات پر زور دینے کے لئے باندھی ہے کہ ہر بشر میں کوئی نہ کوئی ایسی کمزوری ضرور ہوتی ہے جو اسے کوئی نہ کوئی غلطی کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔۔۔ انگریزی میں ایسی غلطی کو Achelles' heal (ایکلینرکا ٹخنہ)کہاجاتا ہے۔۔۔
یہ تمہید باندھنے کے بعد میں اُس غلطی کی مثال دوں گا جس نے اِس قوم کے عظیم باپ ` اس ملک کے باکمال بانی اور دنیا کے تمام بڑے لیڈروں میں ایک ممتاز مقام رکھنے والے بطل ِ جلیل قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی زندگی کو ایک بہت بڑے کرب میں ڈبو دیا۔۔۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ” محبت “ ایک عظیم جذبہ ہے جس کی شدتوں کے سامنے انسان کی سوچ بے بس ہوجاتی ہے۔۔۔ جب ایسا ہو تو محبت ایک کمزوری بن جاتی ہے۔۔۔ اِسی کمزوری نے مسلم قوم کے اس ” مردِ تقدیر“ کو ایک پارسی خاندان میں شادی کرنے پر مجبور کیا۔۔۔ایک ایسی خاتون کے ساتھ جسے ان خوابوں کا کوئی ادراک نہیں تھا جن کی تعبیر کئی دہائیاں بعد پاکستان کی صورت میں سامنے آنے والی تھی۔۔۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہمارے عظیم قائد اپنی اکلوتی بیٹی سے بھی ہمیشہ ہمیشہ کی دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔۔۔
میں اس تکلیف دہ موضوع پر زیادہ تفصیلات میں نہیں جاﺅں گا `صرف یہ لکھنا مقصود ہے کہ اِس ایک غلطی نے قائداعظم ؒ کی زندگی کو درد کا وہ سمندر بنا دیا جو دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتا تھا۔۔۔
میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ایک لیڈر کی کوئی نجی زندگی بھی ہوسکتی ہے۔۔۔ لیڈر جس قدر بڑا ہوگا اسی قدر اس کی پوری زندگی ان لوگوں کی ملکیت ہوگی جن کی عقیدتیں اور توقعات اسے بڑا بناتی ہیں۔۔۔
شادی کا موضوع دورِ حاضر کے بڑے لیڈر عمران خان کے حوالے سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔ میں ذاتی طور پر اِس معاملے کو اُن کی نجی زندگی کا نجی حصہ سمجھتا ہوں۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک لیڈر کی نجی زندگی اس کی پبلک لائف کا حصہ ہوتی ہے۔۔۔
اس ضمن میں مجھے 22فروری 2007ءکی وہ رات یاد آتی ہے جب میں عمران خان کے ساتھ جناح سپر اسلام آباد میں واقع کا بل ریسٹورنٹ میں ڈنر کررہا تھا۔۔۔ یہ ملاقات عمران خان کے ایماءپر ہوئی تھی۔۔۔ اس موقع پر وہ شخص بھی موجود تھا جو تب کپتان کا دستِ راست سمجھا جاتا تھا اور آج اُن کا بدترین دشمن ہے۔۔۔ میری مراد اکبر ایس بابر سے ہے۔۔۔
عمران خان تب تحریکِ انصاف کی رکنیت سازی کی مہم چلانا چاہتے تھے۔۔۔
اس مقصد کے لئے انہیں ایک میڈیا سٹریٹجی اور تشہیری مہم کے سلسلے میں میری خدمات درکار تھیں تب وہ دن ` 15روز دورتھا جب صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی ایک غلطی ان کے زوال کا راستہ کھولنے اور ملک کی سیاسی تاریخ تبدیل کرنے والی تھی۔۔۔میری مراد 9مارچ2007ءکو چیف جسٹس افتخار چوہدری اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان ہونے والی وہ ملاقات ہے جس میں جسٹس چوہدری سے استعفیٰ مانگا گیا تھا۔۔۔
کپتان اُس رات اپنی جماعت کو آگے بڑھانے کے لئے کوئی بڑا قدم اٹھانے کے جذبے سے سرشار تھے۔۔۔ میں نے باتوں ہی باتوں میں اُن سے کہا ۔۔۔ ” اگر آپ وعدہ کریں کہ میری بات کا برُا نہیں منائیں گے تو میں آج آپ سے اُن دو غلطیوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی قیمت آپ نے سیاسی میدان میں چُکائی ہے۔۔۔“
” کون سی غلطیاں ؟“ خان صاحب نے پوچھا ۔۔۔
” اگرچہ یہ آپ کا بہت ہی نجی معاملہ ہے مگر آپ کو معلوم ہوگا کہ قائداعظم ؒ نے ایک غیر کلچر میں شادی کرکے بڑی غلطی کی تھی۔۔۔ یہ غلطی آپ نے بھی دہرائی ۔۔۔ اور اس سے آپ کی مقبولیت بری طرح متاثر ہوئی۔۔۔ “ میں نے جواب میں کہا۔۔۔
کپتان کا رنگ ایکدم لال ہوگیا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے میں نے کہہ دیا۔۔۔ ” آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ برا نہیں منائیں گے ۔۔۔ بہرحال اب دوسری غلطی کے بارے میں سنیں۔۔۔ جب آپ شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈز جمع کررہے تھے تو آپ کی مقبولیت عروج پر تھی۔۔۔ تب آپ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو بیک وقت ٹارگیٹ کرکے کیا۔۔۔ آپ نے یہ بات مدنظر نہیں رکھی کہ قوم ان ہی دو جماعتوں کے ووٹ بنکوں میں بٹی ہوئی تھی اور آپ کے چاہنے والے دونوں ووٹ بنکوں میں موجود تھے۔۔۔ آپ نے جب انہیں ٹارگیٹ کیا تو ایک بڑی تعداد دونوں ووٹ بنکوں میں آپ کے خلاف ہوگئی ۔۔۔“
” میں نے جو کچھ کہا دل کی گہرائیوں سے خلوص نیت کے ساتھ کہا۔۔۔“ کپتان بولے ۔۔۔
” میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو تب صرف اپنا منشور سامنے لانا چاہئے تھا۔۔۔ سیاسی محاذ آرائی کے لئے آپ کو مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔۔۔ بہرحال جو ہوچکا سو ہوچکا۔۔۔ اب آگے کی طرف دیکھنا چاہئے۔۔۔ “ میں نے کہا۔۔۔
” اِسی سلسلے میں آپ کا مشورہ چاہئے۔۔۔“ کپتان بولے۔۔۔
” میرا مشورہ یہی ہے کہ لوہا جب گرم ہو تب اس پر ضرب لگانی چاہئے۔۔۔ آپ کو آنے والے وقتوں میں ضرب لگانے کا موقع ضرور ملے گا۔۔۔ “ میں نے کہا۔۔۔
اس ملاقات کو دس برس گزر چکے ہیں۔۔۔ کپتان آج مقبولیت کی معراج پر کھڑے ہیں۔۔۔ مجھے یہ ملاقات آج کیوں یاد آئی ہے یہ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔۔۔

Scroll To Top