13-09-2012 باغیوں اور غداروں کے سامنے ہتھیار ڈالنا کبھی ایک آپشن نہیں ہونا چاہئے

kal-ki-baatمیں بہت سارے معاملات میں پرانے خیالات کا آدمی ہوں۔ پرانے زمانے میں غدار کو صرف غدارسمجھا جاتا تھا ' ملک دشمن کو صرف ملک دشمن گردانا جاتا تھا اور اس کے کوئی حقوق نہیں ہوتے تھے۔ جسے ہم غدار کہتے ہیں قرآن حکیم میں اسے مرتد قرار دیا گیا ہے۔ ایک وجود منافق کا بھی ہوتا ہے جو قانون کی زد میں براہ راست آنے سے بچا رہتا ہے کیوں کہ بظاہروہ شہریت اور بھائی چارے کے کسی تقاضے کا انحراف کرتا دکھائی نہیں دیتا اور اس کی ساری منافقانہ سرگرمیاں در پردہ چلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قانون کی زد میں آنے سے بچا رہتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا منافق عبداللہ ابن ابی احتساب کی تلوار کے نیچے نہ آیا۔
جہاں تک غداری اور ملک دشمنی کی بات ہے تو اس کی پہچان اُس سزا کے ذریعے کرا دی گئی جس کا سامنا آنحضرت کے ساتھ کئے جانے والا معاہدہ توڑنے والوں نے کیا۔
حکومت سے اختلاف رکھنا اور بات ہے اور ریاست کے وجود کو للکارنا اور بات ہے۔ اگر للکارنے کے اس عمل میں بیرونی عناصر کی بھی شرکت ہو تو اس کے لئے بدترین سزا بھی ناکافی ہوگی۔
یہ جو محرومیت کا راگ الاپا جاتا ہے اور غصب شدہ حقوق کی بات کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق ملک کے تمام محروم طبقوں پر ہونا چاہئے۔ کوئی بھی محرویت کسی بھی شخص کو ملک کے جھنڈے کی بے حرمتی کرنے اور ریاست کے وجود سے انکار کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
اگر ہمیں بلوچستان کے مسئلے کو حقیقی معنوں میں حل کرنا ہے تو محرومیت وغیرہ کے معاملات پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ایسے عناصر کا صفایا کرنا بھی لازمی ہوگا جو پاکستان کے جھنڈے کو اپنا جھنڈا نہیں سمجھتے۔ جہاں جنگل کا قانون چل رہا ہو وہاںریاست کو شیر بن جانا چاہئے۔ اگر ریاست کمزور پڑ جائے تو کیٹروں مکوڑوں میں بھی آزادی کا شوق پیدا ہوجائے گا۔
میں واقعی بڑے پرانے خیالات کا آدمی ہوں۔
کبھی کبھی مجھے اپنے آپ پر نازی ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ مگر پھریاد آتا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ کا خلافت سنبھالنے کے بعد پہلا قدم باغیوں کی سرکوبی کے لئے لشکر کشی تھا۔ باغیوں اور غداروں کے سامنے ہتھیار ڈالنا کبھی ایک آپشن نہیں ہونا چاہئے۔۔۔

Scroll To Top