میں اپنے حصے کے آنسو بہا چکا ہوں

aaj-ki-bat-logo

ایئر مارشل اصغر خان مرحوم نے بڑی لمبی عمر پائی۔ میری خواہش تھی کہ وہ اپنی 100ویں سالگرہ ضرور منائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کا وقت ِ سفر متعین کر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زندگی عارضی اور موت دائمی ہے۔ میں ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ بات نہیں مانتا ۔ زندگی عارضی نہیں دائمی ہے ۔ موت عارضی ہے۔ موت اس ایک لمحے کا نام ہے جو اِس دنیا میں ہماری سانسیں اُکھڑنے اور پھر یومِ حساب پر جی اٹھنے کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ اس کے بعد کی زندگی دائمی ہوگی۔ جن لوگوں کے ا عمال انہیں دوزخ میں دھکیلیں گے ان کی چیخوں کے بارے میں سوچ کر میں کانپ اٹھتا ہوں۔وہ لمحہ لمحہ چاہیں گے کہ مر جائیں لیکن زندگی اُن کی سزا ہوگی اور جو اپنی خوش اعمالیوں اور نیکیوں کا صلہ جنت کی صورت میں پائیں گے وہ تو ہمیشہ زندہ رہیں گے ہی اور انہیں زندگی بڑی حسیں لگے گی۔
ایئر مارشل اصغر خان جیسے لوگ ایسی ہی زندگی کے مستحق ہوتے ہیں۔
بہر حال یہ زندگی جو ہمیں یہاں ایک لمبی آزمائش کے لئے دی جاتی ہے وہ بھی ایک حقیقت ہے۔ اس زندگی اور اِس کے خاتمے کے بارے میں میں نے کچھ عرصہ قبل ایک آزاد نظم لگھی تھی جسے پیش کر رہا ہوں۔ میں نے اپنے سامنے اپنے پیاروں کو رخصت ہوتے دیکھا ہے۔اور یہ نظم اُن کے سفرِ آخرت پر میرے تاثرات پر مبنی ہے۔
”نجانے چاہتوں کے کتنے مزار میں پیچھے چھوڑ آیا ہوں
بس اب ایک مزار اور ہے جو بننا ہے۔
میں بند آنکھوں سے اسے بنتا دیکھ رہا ہوں
اشکبار ہے میرا رُواں رُواں
میں جانتا ہوں کہ وہ قدم میرے ہی ہیں
جو آہستہ آہستہ لے جا رہے ہیں
اس مزار کے سناٹے میں جہاں مٹی کا اک ڈھیر
میرے ہی انتظار میں ہے
اس مٹی کے تلے مجھے ہی سونا ہے۔
کون کون میرے لئے روئے گا میں جانتا ہوں
صرف میری آنکھیں اشکبار نہیں ہوں گی
میں اپنے حصے کے آنسو بہا چکا ہوں
ان مزاروں پر جو میں پیچھے چھوڑ آیا ہوں“

Scroll To Top