طلبا کی اشیا کے محافظ ڈیجیٹل ٹیگ متعارف

sاشیا پر ٹیگ لگا کر اسے چوری ہونے سے مکمل محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ ریگڈ ٹیگڈ

سڈنی: آسٹریلیا میں ایک ٹیکنالوجی فرم نے ایسے حیرت انگیز ٹیگ متعارف کرائے ہیں کہ اشیا گم ہونے پر اسمارٹ فون پر پیغام موصول ہوجائے گا کہ لاپتا شے کہاں ہے۔

اگر آپ کچھ دنوں کے لیے سفر کرتے ہیں یا پھر کسی کے گھر ایک دو روز ٹھہرنے جاتے ہیں تو غالب امکان ہوتا ہے کہ اہلِ خانہ یا بچوں کی کوئی نہ کوئی شے وہاں رہ جائے گی۔ دوسری جانب یورپی اسکولوں میں بچوں کی بڑی تعداد اسکولوں میں اپنی اشیا گم کردیتی ہے یا بھول جاتی ہے لیکن اب کم خرچ اور سادہ ’آر ایف آئی ڈی ٹیگ‘ کے ذریعے ان کی حفاظت اور تلاش کا کام آسان ہوچکا ہے۔

ایک آسٹریلوی کمپنی ریگ ٹیگڈ نے اسکول یونیفارم اور دیگر سامان میں لگنے والا سادہ اور کم خرچ ٹیگ بنایا ہے جو گم ہوجانے پر اپنی اطلاع دیتا ہے۔ اس کے لیے اسکولوں کے ڈسٹ بن میں خاص سنسر نصب کیے گئے ہیں جو پھینکی جانے والی اشیا میں سے ٹیگ والی اشیا کو پڑھ کر بچے کے والدین کے فون پر اس کی اطلاع دیتے ہیں جو ٹیکسٹ کی صورت میں ہوسکتی ہے۔

پاکستان کے برخلاف امریکا اور یورپ کے اسکولوں میں ہرشے کی فراوانی ہے۔ بچوں کے لیے اسکولوں میں خاص الماریاں ہوتی ہیں جہاں وہ اپنا ہیٹ یا جیکٹ رکھ سکتے ہیں۔

بسا اوقات یہ کپڑے اور دیگر سامان غائب ہوجاتا ہے یا کسی کوڑے دان کی نذر ہوجاتا ہے۔ ریگ ٹیگڈ کمپنی کے چھوٹے اور کم خرچ آرایف آئی ڈی ٹیگز کو اسکولوں کے خاص مقامات پرلگے سنسر پڑھ لیتے ہیں اور ان کے گم یا کھوجانے کا امکان بہت ہی کم ہوجاتا ہے۔

سال 2016ء میں پہلی مرتبہ ریگڈ ٹیگڈ نے اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔ اس ضمن میں ایسے ٹیگ بنائے گئے جو کپڑے کا حصہ بن جاتے ہیں اور دھونے سے بھی خراب نہیں ہوتے۔ ایک سال کے اندر 100 اسکولوں میں اسے آزمایا گیا تو لگ بھگ 3000 ایسی اشیا کو تلاش کیا گیا جو دوسری صورت میں غائب ہوکر گم ہوسکتی تھیں۔

آسٹریلیا میں بچوں کے یونیفارم بنانے والی سب سے بڑی کمپنی اسپارٹن نے بھی اب اپنے یونیفارم پر ایسے ٹیگ لگانے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس کے بعد دوسرا معاہدہ برطانیہ سے کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اب ایسے ٹیگ اولڈ ہاؤسز اور اسپتالوں کے اندر بھی لگائے جارہے ہیں جہاں عمررسیدہ لوگ اپنی اشیا بھول جاتے ہیں۔

Scroll To Top