سندھ میں رعشہ کے مریضوں کے دماغ میں پیس میکر لگانے کے عمل کا آغاز

cپیس میکر سے مرگی سمیت دیگر دماغی امراض کا علاج ممکن ہوگیا، نیوروسرجن ستار ہاشم فوٹو:فائل

کراچی: سندھ میں پہلی مرتبہ رعشہ (کپکپاہٹ) کے مریضوں کے دماغ میں پیس میکر لگانے کا عمل شروع ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ میں پہلی مرتبہ رعشہ کے 2 مریضوں کو دماغ میں پیس میکر لگانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔  پیچیدہ نوعیت کے اس آپریشن کی سربراہی نیورو سرجن پروفیسر ستار ہاشم  کررہے ہیں جب کہ انہیں چین کے ماہرین کی بھی معاونت حاصل ہے۔

نیورو سرجن ستار ہاشم نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ طبی تحقیق کاروں کی کاوش کے نتیجے میں ایک ایسی ڈیوائس تیار کی گئی ہے جس کو دماغ کے اندر نصب کرکے رعشہ (ہاتھوں کی کپکپاہٹ) ڈپریشن اور مرگی سمیت دیگر دماغی بیماریوں کا علاج ممکن ہوگیا ہے۔ جدید ترین تکنیک کے ذریعے دماغ کے اندر پیس میکر لگا کر ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو کنٹرول کیا جاسکے گا۔

ستار ہاشم کا کہنا تھا کہ جدید تکنیک کو کراچی کے نجی اسپتال میں پہلی بار متعارف کرایا جارہا ہے۔ اس سے قبل پیس میکر دل کی دھڑکن کنٹرول کرنے کے لیے لگایا جاتا تھا تاہم اب دماغ میں پیس میکر لگا کر دماغی امراض کا علاج ممکن ہوا ہے۔

پیس میکر کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیوائس استعمال کی جائے گی مریض کے سر کے اندر ڈیوائس زندگی میں ایک بار لگائی جائے گی تاہم ڈیوائس میں استعمال ہونے والی بیٹری 7 سال بعد تبدیل کی جائے گی۔

Scroll To Top