بلوچستان کا سیاسی بحران اثرات مرتب کریگا !

zaheer-babar-logo


رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں جاری سیاسی ہلچل کو مخصوص معنی پہنانے کی حکمت عملی کسی طور پر درست نہیں۔ ایسے نظام میں جہاں سیاست میں صرف اور صرف مفادات ہی کو اولیت دینے کا رجحان پختہ تر ہو وہاں اصولوں کی دہائی دینا کسی طور پر حقیقت پسندانہ نہیں۔ بلوچستان کی سیاست میں بالخصوص اور دیگر صوبوں کی اہل سیاست میں بالعموم کسی اخلاقی اصولوں کی پاسداری سمجھنا خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نمبرز گیم کا کھیل شروع ہوچکا۔ ستم ظریفی یہ کہ اس میں خود بلوچستان کی حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی ملوث نظر آتے ہیں۔
اس صورت حال پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا بیان سامنے آچکا کہ ملک غیر یقینی صورت حال سے گزر رہا ہے جس میں سینٹ کے بروقت انتخابات کا انعقاد کی پیشن گوئی نہیںکرسکتا۔ دوسری جانب ڈپٹی چیرمین سینٹ مولانا غفور حیدری کا موقف ہے کہ آئینی ادارے کے زمہ دار کے طور پر حکومتی مدت پوری ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں مگر ایسا لگ نہیں رہا۔ مولانا غفورحیدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تبدیلی آتی ہے تو مارچ میں سینٹ الیکش ہوتے نظر نہیں آرہے، پھر یہ معاملے سندھ اور خبیر پختوانخواہ کی جانب بھی بڑھ سکتا ہے۔ “
وطن عزیز میں رائج نظام پختہ تر نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ کہ خود سیاست دان تاحال اپنی آئینی ، قانونی اور اخلاقی زمہ داریوں کی ادائیگیوں میں سرخرو نہیں ہوسکے۔ ملک کی شائد ہی کوئی پارٹی ایسی ہو جس میںجمہوری قدروں کو حقیقی معنوں میں فروغ دیا گیا ہو۔ سیاسی جماعتیں عملا لمیڈ کمپنیوں کی شکل میں موجود ہیں جن کا اول وآخر مقصد ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل ہے۔ملک کا کوئی بھی جمہوریت پسند شخص یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کے بغیر عصر حاضر کی کسی بھی حکومت کو جمہوری نہیں کہا جاسکتا، آج پاکستان کے گاوں تو دور شہربھی مسائل کی آمجگاہ بن چکے۔ جا بجا گندگی کے ڈھیر اور آبادیوں میں بنیادی ضروریات زندگی کا میسر نہ ہونا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خراب کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکمران جماعت کے دعوی ایک طرف مگر اہل پنجاب جس مسائل کا شکار ہیں وہ پوری بدصورتی کے ساتھ موجود ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوں لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ کے سربراہ نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حالیہ مردم شماری میں پنجاب کی آبادی گیارہ کروڈ ہے،اس حساب سے 62 ہزار افراد کے لیے محض ایک جج موجودہے۔ “
حیرت اور ملال کا مقام یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جاچکے مگر ان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ اس ضمن میں نمایاں مثال مسلم لیگ ن کی ہے، سابق وزیر اعظم پانامہ لیکس کے تاریخی مقدمہ میں سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے مگر وہ خود احتسابی کی بجائے عدلیہ کو ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں اقتدار میں رہنے کے باوجود میاں نوازشریف حزب اختلاف کا کردار نبھا رہے ہیں۔ تین مرتبہ وزارت عظمی اور دو مرتبہ وزیر اعلی پنجاب کے منصب پر فائز رہنے والی شخصیت یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ قومی سیاست بدل چکی ،یہ کسی طور پر نوے کا دور نہیں۔ زمینی حقائق جس تیزی سے بدل رہے وہ تقاضا کرتے ہیں کہ کم وبیش 35سال سے قومی سیاسی منظر نامہ پر نمایاں مقام حاصل کرنے والے خود کو بدلیں مگر باجوہ ایسا نہیں ہورہا۔
جمہوری پسند حلقوں کو تسلی رکھنی چاہے کہ قبل ازوقت انتخابات ہرگز غیر جمہوری عمل نہیں۔ مثالی صورت حال تو یہ ہوتی کہ جب گذشتہ سال جولائی میں میاں نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا تو فوری طور پر مسلم لیگ ن نئے انتخابات کا اعلان کردیتی۔ سوال یہ ہے کہ اس حقیقت کو کیونکر نظر انداز کیا گیا کہ سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام وابستہ ہے۔ جولائی دوہزار سولہ سے لے کر اب تک مسلم لیگ ن جس بحرانوں سے دوچار ہے وہ بڑی حد تک اس کی خود زمہ دار ہے۔ درپیش معاملات میںحکمران جماعت میں پائے جانے والے دو نقطہ نظر میں کس حد تک حقیقت ہے اور کس حد تک افسانہ یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ میاں نوازشریف کی قومی اداروں کے خلاف جارحانہ پالیسی خود مسلم لیگ ن کے اندار بے چینی اضطراب پیدا کررہی۔ اب تک یہ کہاجاسکتا ہے کہ پی ایم ایل این کی جانب سے دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم کا امیدوار قرار دینا بھی خاطر خواہ اثرات مرتب کرتا نظر نہیں آرہا۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ بلوچستان کا بحران آنے والے دنوں میں بڑھ سکتا ہے۔ اہم یہ ہے کہ اس صورت حال کا اپوزیشن جماعتیں پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر بلوچستان کی طرح سندھ اور خبیر پختوانخواہ کی حکومتیں بھی ختم ہوجاتی ہیں تو پھر مسلم لیگ ن کے پاس قبل ازوقت انتخابات کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہیگا۔
ایک طرف ملکی سیاست میںہلچل ہے تو دوسری طرف پاک امریکہ تعلقات بھی انتہائی مخدوش حالات سے دوچار ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ملک کی اندرونی وبیرونی صورت حال کس حد تک ایک دوسرے کو متاثر کررہی ۔ حالات جو بھی ہوں ،حزب اقتدار وحزب اختلاف کی بنیادی زمہ داری ہے کہ اول وآخر ملک وملت کا مفاد مقدم رکھے، صرف یہی فارمولہ ہے جس کے نتیجہ میںاہل جماعتیں ہر بحران سے سرخرو ہوکر نکل سکتی ہیں۔

Scroll To Top