11-09-2012 کیا یہ گھناﺅنا منصوبہ کامیاب ہوجائے گا ؟

kal-ki-baat
ان افواہوں میں کس حد تک صداقت ہے کہ ایک مخصوص فارمولے کے تحت انتخابات کے التواءکی سازش کی جارہی ہے ؟
ان افواہوں کو باقاعدہ ” خبر“ کی شکل شاہین صہبائی نے دی ہے جن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ حالات و واقعات پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔ جو ” مخصوص “ فارمولا اس ضمن میں گردش کررہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک یا دو سال جنرل کیانی کو توسیع دی جائے گی ` دو سال کی توسیع چیف جسٹس کو مل جائے گی اور صدر زرداری اگلے پانچ سال کے لئے پھر قوم کی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔ یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ صدر زرداری چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جنرل اشفاق پرویز کیانی تینوں کی ” مدت“ 2013ءمیں آگے پیچھے ختم ہورہی ہے۔ صدر زرداری صاحب کے لئے ایوان ِ صدارت سے نکلنے کا تصور بھی روح فرسا ہوگا۔ چنانچہ بڑی بے پایاں شدتوں کے ساتھ ان کی خواہش ہوگی کہ اگلی مدت کے لئے صدر کا انتخاب یہی اسمبلی کرے۔اگر ایسا ہوگیا تو اسے پاکستان کی تاریخ کا عظیم ترین المیہ ہی سمجھا جائے گا۔
اگر اس المیے کے ذمہ دار جنرل کیانی ہوئے تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اگر ذمہ داری چیف جسٹس صاحب کے کھاتے میں گئی تو انہوں نے جو عوامی عقیدتیں اپنے لئے کمائی تھیں وہ خواب بن جائیں گی۔
کہا جارہا ہے کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو طول یادوام دینے کے لئے جو شخص سرگرم عمل ہے اس کا نام ملک ریاض حسین ہے۔
کیا پاکستان کے عوام اپنی تقدیر کے ساتھ کھیلے جانے والے اس گھناﺅنے کھیل کو برداشت کرلیں گے ؟ ۔ کیااٹھارہ کروڑ عوام میں ایک بھی بطل ِ جلیل ایسا نہیں جو اٹھ کر اس کھیل میں شریک کھلاڑیوں کو للکارے اور کہے۔۔۔
Enough is enough..?

Scroll To Top