کوئی بھی شخص مجسّم نیکی یا مجسّم بدی نہیں ہوتا۔۔۔

aaj-ki-bat-logo
آج05جنوری ہے۔۔۔ جب میرے یہ الفاظ اخبار میں شائع ہوں گے تو ایک دن گزر چکا ہوگا۔۔۔ آج کے روز 89برس قبل شاہنواز بھٹو نامی ایک جاگیردار کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا تھا جس کے ساتھ عروج و زوال کی ایک تہلکہ خیز ولولہ انگیز اور سبق آموز داستان منسوب ہونے والی تھی۔۔۔
آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں اس غیر معمولی رجلِ تقدیر کا ذکر کررہا ہوں جسے ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے پوری دنیا جانتی ہے۔۔۔
میں اگر یہ کہوں کہ میری زندگی کا بیشتر حصہ ” بھٹو “ نام کے اردگرد گھومتا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔۔۔ اس نام کے ساتھ اندھی عقیدت وابستہ کرنے کی بناءپر میں نے اپنے دور کے دوسرے بڑے اخبار کی ایڈیٹری چھوڑی اور پھر جلد ہی وہ وقت آیا جب میری عقیدت اس نام کے ساتھ جڑی نہ رہ سکی اور حالات و واقعات نے مجھے ذوالفقار علی بھٹو کا مخالف بنا دیا۔۔۔ میں نے 1971ءکے اواخر میں ہفت روزہ اشتراک کا اجراءکیا جو بھٹو حکومت ک دور میں اختلاف کی پہلی آواز بنا۔۔۔ سقوط ِ ڈھاکہ نے میرے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ میری طرح لاکھوں دل ایسے تھے جو اندر ہی اندر رو رہے تھے۔۔۔
ہفت روزہ اشتراک 1974ءکے اواخر میں بند ہوگیا۔۔۔ کیسے بند ہوا یہ ایک الگ کہانی ہے ۔۔۔ مجھ پر بہرحال صحافت کے دروازے بند ہو گئے اور میں ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں چلا گیا۔۔۔
1977ءمیں جب عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف پی این اے یعنی پاکستان قومی اتحاد کی تحریک چلی تو میرے اندر وہ”غصہ “ جاگ اٹھا جسے میں نے دو ڈھائی برس تک دبائے رکھا تھا۔۔۔ یہی ” غصہ “ میری اُس تصنیف کا باعث بنا جسے اُس سال غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔۔۔ اس کا عنوان ہی لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لئے کافی تھا۔۔۔
”جھوٹ کا پیغمبر“
آپ نے گزشتہ دنوں اس تصنیف کو قسط وار پڑھا ہوگا۔۔۔
میں نے یہ کتاب 1977ءکے اواخر میں ہی Killکردی تھی جب ذوالفقار علی بھٹو گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔۔۔
جن لوگوں نے یہ کتاب پڑھی ہے انہیں یقین نہیں آئے گا کہ 04اپریل1979ءکو میں اندر ہی اندر بلک بلک کر رویا تھا۔۔۔ بھٹو میری وہ ” محبوبہ “ تھی جس کے بارے میں سمجھا تھا کہ اس نے میرے ساتھ بے وفائی کی ہے۔۔۔ کسی ” اور “ کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔۔۔ اور اب وہ اِس دنیا میں نہیں تھی۔۔۔ اسے نہایت سنگدلی کے ساتھ قتل کردیا گیا تھا۔۔۔
آج میں بھٹو کو جھوٹ کا پیغمبر نہیں سمجھتا۔۔۔
کوئی بھی شخص مجسّم نیکی اور کوئی بھی شخص مجسّم بدی نہیں ہوتا۔۔۔
ہر شخص مخصوص جبلتیں لے کر پیدا ہوتا ہے جو اس کی شخصیت کی تعمیر و تکمیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔۔۔
بھٹو ایک رجلِ عظیم تھے۔۔۔
ان میں قدرت نے تاریخ ساز بننے کے اوصاف پیدا کئے تھے۔۔۔
مگر ان کے اندر کچھ خامیاں بھی تھیں۔۔۔ وہ خامیاں جو انہیں ایسی راہوں پر لے گئیں جن کی ایک ہی منزل تھی۔۔۔آدمی قدرت کے فیصلوں کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔۔۔
بھٹو نے اس قوم پر دو بڑے احسانات کئے۔۔۔
نمبر ایک۔۔۔ انہوں نے اِس عظیم مملکت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے اسے ایٹمی طاقت بننے کے راستے پر ڈالا۔۔۔
نمبر دو۔۔۔ انہوں نے لاہور میں مسلم ممالک کی کانفرنس کا انعقاد کرکے واضح کردیا کہ ہمارا مستقبل او ر ہمارا مقدر عالمِ اسلام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔۔۔
اب میں جب بھی بھٹو مرحوم کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اپنے ایک بیورو کریٹ دوست احسان اللہ کے یہ الفاظ یاد آتے ہیں۔۔۔
” بڑے آدمیوں کی کمزوریاں بھی بڑی ہوتی ہیں غلام اکبر۔۔۔مگر اس سے ان کی بڑائی ختم نہیں ہوتی۔۔۔“
اللہ تعالیٰ مرحوم کی غلطیاں معاف کرے اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔۔۔آمین۔۔۔

Scroll To Top