انسانوں کی بستی میں حیوانوں کا راج 8-9-2012

kal-ki-baat


خدا کی سرزمین پر خلق ِ خدا کے دشمن ہلاکت آفرین ہتھیار تھامے اس قدر آزادی کے ساتھ گھوم رہے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ ہم مملکتِ خداداد پاکستان کے ہی شہری ہیں۔ ایسا افریقہ کی اُن آبادیوں میں بھی نہیں ہوتا ہوگا جہاں ہنوز انسانی تہذیب نہیں پہنچ پائی۔
یہ جو خلق ِ خدا کے دشمن ہیں یہ دراصل خود خدا کے دشمن ہیں۔ اگر یہ کسی مجنونانہ سوچ کے اسیر بن کر خداکی سرزمین کوانسانی خون کا غسل دے رہے ہیں تو بھی جہنمی ہیں اور اگر ہمارے نادیدہ دشمنوں نے ان کی خدمات خرید رکھی ہیںتو بھی اِن کا ٹھکانا جہنم ہے۔
5ستمبر2012ءکی شام کو سید مختار اعظمی کو نامعلوم افراد نے اپنی خون آشامی کا نشانہ بنا دیا۔ وہ اپنے ایک بیٹے اور ایک پوتے کے ہمراہ کار میں گھر آرہے تھے کہ کچھ فاصلے پر انہیں روکا گیا اور نشانہ باندھ کر انہیں اور ان کے بیٹے کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ان کے پوتے کی جان ڈاکٹروں نے بچالی لیکن ایک ہنستا بستا گھر پلک جھپکتے میں ماتم کدہ بن گیا۔ اگلے روز یعنی 6ستمبر کو اس گھر میں برات آنے والی تھی۔ مختار اعظمی کے ایک اور فرزند عباس اعظمی کی دختر کی شادی تھی۔
مختار اعظمیٰ سے میری دوستی پچاس سال پرانی تھی۔ ان کے ساتھ میری پہلی ملاقات اپریل 1962ءمیںہوئی تھی جب روزنامہ کوہستان کے بیورو چیف کی حیثیت سے میں کراچی گیا تھا ۔ تب مختار اعظمی ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی ڈی جے کیمر کے میڈیا منیجر تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی ایم اے زیڈ کے نام سے قائم کی جو اِن دنوں اپنے بیٹے عباس اعظمی کے ساتھ مل کر چلا رہے تھے۔
مختار اعظمی ایک شریف النفس انسان تھے۔ اس قدر بے ضرر کے ان کی ذات سے کسی مکوڑے کو بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اور عباس اعظمی جن کے وہ والد تھے انہیں اگر میں انسانیت اور شرافت کی تصویر کہوں تو غلط نہیں ہوگا۔
چند روز قبل عباس اعظمی نے فون پر مجھ سے کہا تھا کہ ” انکل آپ میری بیٹی کی شادی میں ضرور آئیں گے۔ “ 5ستمبر کی شام کو میرے بھانجے اور داماد آصف الطاف نے کراچی سے مجھے اس ہولناک سانحے کی اطلاع دی تو میں سکتے میں آگیا۔
مجھے یقین نہیں آرہا کہ اولاد ِ آدم ؑ میں اس قدر شقی القلبی آسکتی ہے۔ مگر جو شخص اپنے کسی بھائی کا خون بہاتا ہے وہ آدمی نہیں حیوان ہوتا ہے۔ آدم ؑ کے رشتے سے ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ اگر ہم میں سے کسی کو دوسروں پر فضلیت حاصل ہے تو صرف اس وجہ سے کہ وہ آدمیت کا زیادہ احترام کرتا ہے۔
خدا مختار اعظمی مرحوم اور ان کے فرزند باقر اعظمی کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ اور عباس اعظمی اور ان کے خاندان کو یہ عظیم المیہ سہنے کی قوت اور توفیق دے۔۔۔(آمین)

Scroll To Top