بات اُس خاکی شیطان کی جو اپنی وفاداریوں کی قیمت وصول کرنا جانتا ہے

aaj-ki-bat-logo

مسلمانوں کی تاریخ میں کوئی دور ایسا نہیں گزرا جب اُن کے ایوان ہائے اقتدار میں کسی ابن علقمی ` کسی ابو عبداللہ کسی میر جعفر کسی میر صادق یا کسی شیخ مجیب نے جنم نہ لیا ہو۔۔۔ ہم صرف ان غدارانِ سیاہ رو کے نام جانتے ہیں جن کے دیئے گئے زہریلے گھاﺅ ہماری تاریخ کے بڑے سانحوں یا المیوں کا باعث بنے۔۔۔ مگر ایسے بھی ان گنت ” ننگ ِدین اور ننگ ِوطن“ گزرے ہیں جو بروقت احتساب کی زد میں آگئے اور جن کی غداری ہمارے لئے کسی بڑے المیے کا باعث نہ بن سکی۔۔۔
بات بڑی تکلیف دہ اور سخت ہے لیکن 3جنوری 2018ءکو میاں نوازشریف نے صاف اور کھلے لفظوں میں جس ڈھٹائی کے ساتھ قوم کو کھلی اور مخفی دھمکیوں سے نوازا ہے وہ مجھے مجبور کررہی ہے کہ پاکستان کے سابق نااہل وزیراعظم کو اپنی تاریخ کے ان غداروں کی صف میں کھڑا کروں جنہوں ے مال کی حرص او ر اقتدار کی ہوس میں اپنے دین اپنے ایمان اور اپنے وطن کا سودا کیا۔۔۔
ناسمجھ سے ناسمجھ آدمی کی سمجھ میں بھی یہ بات آگئی ہوگی کہ میاں صاحب نے پاکستان کے دشمن نمبر ایک بھارت اور اِس دشمن کے طاقتور حلیف امریکہ کے بیانیے کو ہی اپنے الفاظ دیئے ہیں۔۔۔ انہوں نے امریکی صدر کی ٹویٹ کو غیر سنجیدہ تو ضرور قرار دیا مگر ساتھ ہی بالواسطہ طو ر پر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہمیں اپنا گھر بھی درست کرنا ہوگا۔۔۔ گھر درست کرنے کا یہ بیانیہ ” ڈان لیک“ سے شروع ہوا اور اب وہ اس پارٹی کے منشور کا حصہ بن چکا ہے جس کے سربراہ میاں نوازشریف ہیں اور جو بدقسمتی سے اس وقت برسراقتدار ہے۔۔۔ ” گھر “ سے یہاں اِن لوگوں کی مراد ” پاک فوج اور پاک عدلیہ “ ہے۔۔۔
بیرون ملک میاں نوازشریف کا قائم کردہ نیٹ ورک یہ تاثر ایک عرصے سے دے رہا ہے کہ نون لیگی قیادت اور حکومت خلوصِ دل کے ساتھ بھارت کے ساتھ ہر قسم کا سمجھوتہ کرنے اور ملک میں موجود شرپسند اور بھارت مخالف عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے تیار ہے مگر اس ” نیک “ کام میں پاک فوج رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔۔۔ اب تو اِس ” بیانیے“ میں یہ اضافہ بھی ہوگیا ہے کہ ایک سازش کے تحت پاک فوج نے منتخب سول حکومت کے خاتمے کے لئے اعلیٰ عدلیہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔۔۔
میں نہیں سمجھتا کہ نوازشریف کی اس دھمکی کو نظر انداز کیا جانا چاہئے کہ ” اگر ان کے خلاف احتساب کا عدالتی عمل جاری رہا تو وہ پس پردہ کارفرما عوامل کو سامنے لے آئیں گے اور دنیا کو بتا دیں گے کہ چار سال سے جمہوریت اور امن کے خلاف پاکستان میں کیا کیا سازشیں ہورہی ہیں۔۔۔
فی الحال میاں نوازشریف کے اچانک ” سعودی دورے“ کے عوامل حقائق سامنے نہیں آئے مگر یہ حقیقت منکشف ہوچکی ہے کہ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی نے جو سیاسی حکمت عملی اختیار کررکھی ہے اس کا خالق میموگیٹ کا جانا پہچانا کردار حسین حقانی ہے۔۔۔
میں حسین حقانی کو اچھی طرح جانتاہوں ۔۔۔ وہ میرے ساتھ کام کرچکا ہے۔۔۔ اسے میرے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نتھی کیا تھا۔۔۔ مجھے یہ ناقابلِ رشک اعزاز حاصل ہے کہ میں حسین حقانی کا ” پے ماسٹر“ رہا ہوں۔۔۔ وہ اپنی ” پیشہ ورانہ “ خدمات کا معاوضہ مجھ سے وصول کرتا رہا ہے اور میرے پاس وہ ووچر آج بھی موجود ہیں جن پر حسین حقانی نے دستخط کئے تھے۔۔۔ یہ 1993ءکی بات ہے ۔۔۔ تب وہ تازہ تازہ میاں نوازشریف کو ” ڈِچ“ کرکے پاکستان پیپلزپارٹی کا حصہ بنا تھا۔۔۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے جو میں کبھی بعد میں بیان کروں گا۔۔۔ اس کالم میں صرف یہ لکھنا مقصود ہے کہ جتنی ذہانت اللہ تعالیٰ نے شیطان کو دی ہوگی حسین حقانی کے حصے میں اس کا خاصا بڑا حصہ آیا ہے۔۔۔
حسین حقانی سے میری آخری ملاقات 2008ءمیں ہوئی تھی جب وہ سفیر بن کر امریکہ جارہا تھا۔۔۔
” اکبر بھائی۔۔۔ دیکھتے جاﺅ میں کیا کیا کمال دکھاتا ہوں اور کہاں تک آگے جاتا ہوں۔۔۔ “ حقانی نے مسکراتے ہوئے بڑے پرُاعتماد لہجے میں کہا تھا۔۔۔ ” اگر یوسف رضا گیلانی جیسا احمق وزیراعظم بن سکتا ہے تو میںتو حسین حقانی ہوں۔۔۔ میں اپنی وفاداریوں کی قیمت وصول کرنا جانتا ہوں۔۔۔“
یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔۔۔ حسین حقانی نجانے کب سے امریکہ سے اپنی وفاداریوں کی قیمت وصول کررہا ہے۔۔۔ جب وہ امریکہ میں پاکستان کا سفیر تھا تب بھی اس کی وفاداریاںامریکہ کے ساتھ ہی تھیں۔۔۔آج اگر اس کے رابطے میاںنوازشریف اور آصف علی زرداری دونوں کے ساتھ ہیں تو وجہ وہ وفاداریاں ہی ہیں جن کی قیمت وہ امریکہ سے تو وصول کرتا ہی ہے ` اپنے دونوں سابق پاکستانی آقاﺅں سے بھی وصول کرتا ہوگا۔۔۔
یہ بات حسین حقانی نے ہی میاںصاحب کو سمجھائی ہے کہ ” تمہاری بقاءصرف اِس میں ہے کہ پاک فوج اور پاک عدلیہ کے خلاف ڈٹ جاﺅ۔۔۔ اور امریکہ کا کام آسان کردو۔۔۔“

Scroll To Top