مذاکرت ہی مسائل کا واحد حل ہیں

zaheer-babar-logo

پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کو تمام مسائل حل کرنے کے لیے بات چیت کی پیشکش کی ہے ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکڑ محمد فیصل کا کہنا تھا کہ قوموں اور ممالک کے درمیان مسائل کو بات چیت کے زریعہ ہی حل کیا جاسکتا ہے۔“
اقوام عالم کی تاریخ پرطائرانہ نظر یہ بتانی کے لیے بہت کافی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات دنیا بھر میں بہت سے حوالوں سے منفرد ہیں۔ بظاہر تقسیم ہند کے زخم تاحال بھرنے کا نام نہیں لے رہے۔ کشیدگی کی طویل تاریخ میں دونوں فریقوں میں سے پاکستان زیادہ خسارہ میں رہایعنی مشرقی پاکستان میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ جو کھیل کھیلا اسے کسی طور پر فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
1947 سے لے کر اب تک دونوں ممالک کے درمیان کسی نہ کسی شکل میں باہمی کشیدگی چلی آرہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں اب تک باضابطہ طور پر چار جنگیں بھی لڑ چکے جبکہ آئے روز کنڑول لائن اور ورکنگ باونڈری پر کشدیگی تو معمول ہوچکا۔ پاک بھارت تناو کی بنیادی وجہ دراصل کشمیر کا تنازعہ ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کو بات چیت کے زریعہ حل کرنے کا خواہشمند رہا ہے مگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے تائب ہونے کو تیار نہیں۔ بیرونی دباو اور اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت نے کئی دفعہ بات چیت کا سلسلہ شروع کیا مگر وہ محض وقت گزاری کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ بھارت اس بات کو بھی تسلیم نہیںکرتا کہ تنازعہ کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حل طلب مسئلہ ہے جس پر اقوامِ متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ میںیہ مسئلہ لے کر بھارت ہی گیا مگر اب گذشتہ 70 سال سے اس سے انحراف کر رہا ہے ۔
اسے ستم طریفی یہ کہنا چاہے کہ بھارت ہمہ وقت کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے۔ مثلا آبی وسائل کا مسئلہ ہو،سرحدی امور کا یا پھر دہشت گردی کا۔ بھارت کے برعکس پاکستانیوں کی اکثریت بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہاں ہے۔ ادھر عام بھارتی بھی پاکستان سے دشمنی نہیں چاہتا مگر انتہاپسند ہندو کا طاقتور ٹولہ قیام امن کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ یہ کم نہیں کہ پاکستانی سیاست میں کبھی بھی ہندوستان دشمنی حاوی نہیں رہی جبکہ بھارتی سیاست میں پاکستان دشمنی ووٹ حاصل کرنے کا بڑا زریعہ ہے۔ گذشتہ عام انتخابات میں انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کی اکثریت حاصل کرنے کی بنیادی وجہ اسلام، پاکستان اور مسلمان دشنمی سمجھا گیا۔ آج نئی دہلی مییں وہ شخص برسر اقتدار ہے جو پاکستان دشمنی کے حوالے سے معروف ہے ،نریندر مودی کا ماضی انتہا پسندی اور مسلمان دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہی وجہ نریندر مودی کے بر سرِ اقتدار آنے سے لے کر اب تک دونوں ممالک کے تعلقات بہتر نہیں ہوسکے۔ بھارت کشمیری رہنماوں کی پاکستان کے وزیرِ خارجہ سے ہونے والی مجوزہ ملاقات کو بہانہ بنا کر مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کرچکا جبکہ حقیقت یہ ہے کسی طور پر غیر معمولی واقعہ نہ تھا ۔ ایک خیال یہ ہے کہ بھارت کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ خطے میں محض پاکستان ہی اسکے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
بھارت کے اہل فکر ونظر کو سمجھ لینا ہوگا کہ نریندرمودی جیسے ناعاقبت اندیش اور انتہاپسندانہ سوچ رکھنے والے حکمران اپنے ملک اور قوم کیلئے کبھی بھی مسیحا نہیں بن سکتے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین سفارت کاری اور تحمل،بردباری اور دور اندیشی سے کام لیا جانا چاہے جو حقیقت میں بی جے پی جیسی انتہاپسند جماعت کو زیبا نہیں۔ مودی سرکار جس طرح پاکستان دشمنی میں تمام حدیں عبور کرگی اس کے بعد یہ توقع رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں کہ بہتری کی کوئی صورت پیدا ہوگی۔
حالیہ سالوں میں بھارت کو حوصلہ یوں بھی ملا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں نئی دہلی کو ایسا شخص میسرآچکا جو کسی طور پر امریکہ کا صدر کہلانے کامستحق نہیں۔حال ہی میں صدر ٹرمپ نے جس طرح یہودی لابی کو خوش کرنے کے لیے بیت المقدس کو اسرائیل کا درالحکومت تسلیم کیا اس نے امریکہ کے تشخص کو بری طرح مجروع کیا۔ مودی سرکار جانتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا کاروباری شخص اپنے مفاد کو تقویت دینے کے لیے ہر اصول قربان کرنے کو تیار ہوگا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت پاکستان دشمنی پر ایک پیج پر آچکے۔ ادھر افغانستان کی شکل میں بھارت کو ایسے ساتھی مل چکا جو پاکستان پر الزام تراشی کرنے کے علاوہ اپنی سرزمین بھی بھارتی مقاصد کی تکمیل کے لیے پیش کرچکا۔
اہل پاکستان کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے ، آنے والے سالوں کے حوالے سے ایسی امید کرنا مشکل ہے کہ مسقبل قریب میں بھارتی میڈیا اور سیاست میں ایسے عناصر زور پکڑ لیں جو امن اور ترقی کے خواہشمند ہوں۔ اس میں شک نہیںکہ پاکستان کو کسی نہ کسی شکل میں بھارت سے مذاکرت کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہے۔ سی پیک کی شکل میں بھارت کے لیے ایک موقعہ موجود ہے کہ وہ دونوںملکوں کے سیاسی ، سفارتی اور معاشی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سیاسی پختگی کا ثبوت دے ڈالے۔اہل بھارت کو سمجھ لینا چاہے کہ امن ہی ترقی اور خوشحالی کا واحد راستہ ہے، آج نہیں تو کل پڑوسی ملک کو عملا یہ سچائی تسلیم کرنا ہی پڑے گی۔

Scroll To Top