مایوس نواز شریف کی فوج اور عدلیہ کو دھمکیاں

خصوصی رپورٹ: ریاض اے ملک

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) نااہل وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روز پنجاب ہاﺅس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران حسب سابق مسلح افواج اور اعلیٰ عدلیہ کو اپنے نشانے پر رکھاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پر اپنے ردعمل میں انہوں نے ایک سانس میں یہ کہا کہ ایک ریاستی سربراہ کو دوسری ریاست سے مکالمہ کرتے ہوئے مسلمہ بین الاقوامی آداب اور سفارتی اخلاقیات کو مدنظر رکھنا چاہئے اور اُسی سانس میں انہوں فرمایا کہ وہ تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں بہت سے حقائق سے واقف ہیں اور ایک درد مند اورمخلص شہری کی حیثیت سے یہ کہنا چاہیں گے کہ ”ہمیں پورے اخلاص کے ساتھ اپنے کردار اور عمل کا جائزہ لینا ہوگا ہمیں اپنے گھر کی خبر ضرور لینی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ دنیا ہماری قربانیوں کے باوجود ہمیں ایسے کیوں دیکھتی ہے“ ۔واقفان حال بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب میاں صاحب یہ الفاظ ادا کر رہے تھے تو ان کے دل و دماغ میں صرف اور صرف وطن عزیز کی مسلح افواج تھیں کیونکہ ہر ذی شعور فرد اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ میاں صاحب کبھی بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بوجہ ایک پیج پر نہیں آ سکے وہ جب بھی برسراقتدار آئے انہوں نے فوج کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کی بجائے ہمیشہ بگاڑ ہی پیدا کیا اور نتیجتاً نقصان اٹھایا۔سابق وزیر اعظم نے بڑے معصومانہ انداز میں کہا کہ ”میرے مشورے کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا رہا ہے بلکہ کبھی ڈان لیکس اور کبھی کوئی اور نام دے کر میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے گئے“انہوں نے مزید کہا کہ 17سالہ عظیم قربانیوں کے باوجود ہمارا بیانہ کیوں مانا نہیں جا رہا ہے ہمیں ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہوگا ۔دراصل سابق وزیر اعظم جب سے سعودی عرب سے خالی ہاتھ واپس آئے ہیں ان کی مایوسی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ان کا بیانیہ دراصل ان کی اسی حسرت و مایوسی کا عکاس ہے۔ کیونکہ فوج اور عدلیہ ماضی کے برعکس سعودی عرب اور امریکی پریشر ہرگز ہرگز لینے کو تیار نہیں ہیں۔میاں صاحب مزید فرماتے ہیں کہ اگر ان کے خلاف ”سازشیں“ بند نہ کی گئیں تو وہ اپنے سینے میں بند راز اگل دیں گے جو کہ اعلیٰ فوجی قیادت کو انڈر پریشر کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے تاکہ ان کے خلاف عدالتوں میں جو مقدمات چل رہے ہیں فوجی قیادت مداخلت کرکے ان کو رکوا دے اور میاں صاحب کو کلین چٹ دے دے بصورت دیگر ایک نیا NRO دلادیا جائے۔واقفان حال کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی جہاں ایک طرف اسرائیلی اور بھارتی لابی کے اثر رسوخ کا پیش خیمہ ہے وہیں وطن عزیز میں موجود کچھ مخصوص عناصر کی امریکہ کے ساتھ لگائی بجائی کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے اعلیٰ عدلیہ پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ چف جسٹس پاکستان عدالتی کام چھوڑ کر جگہ جگہ جا کر بیان بازی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ”ملک کی تقدیر منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات سے جڑی ہوئی ہے۔ نااہلیوں، ٹیلی فون کالز، خفیہ رابطوں اور غیر قانونی فیصلوں کے ذریعے کسی کے ہاتھ پاﺅں نہ باندھے جائیں۔ کسی لاڈلے کے لئے نئی ڈیل اور ڈھیل کا انتظام نہ کیا جائے“تجزیہ نگاروں کی رائے میں میاں صاحب شاید فوج اور عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھول رہے ہیں کہ ماضی میں وہ ہمیشہ انہی دونوں اداروں کے ”تعاون“ اور ”ہمدردی“ سے ہی برسراقتدار آتے رہے ہیں اور بھاری مینڈیٹ کا دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن چونکہ اس مرتبہ ان دونوں اداروں نے غیر جانبدار رہنے کا تہیہ کررکھا ہے جو کہ میاں صاحب کے لئے سخت پریشانی کا باعث ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں دراصل میاں صاحب کی مایوسی کی اصل وجہ سپریم کورٹ کی طرف سے میاں فیملی کے خلاف کیسز کی تیزی سے سر پر آتی ٹائم لائن ہے اور یہ کہ جوں جوں یہ ڈیڈ لائن نزدیک آتی جائے گی میاں صاحب کی حسرت و مایوسی میں اضافہ ہوتا جائیگا۔

Scroll To Top