ایک ” بدخواب “ جو کبھی پورا نہیں ہوگا۔۔ ۔6-9-2012

kal-ki-baat


کرسچین سائنس مانٹیر کی یہ رپورٹ فرزندانِ توحید و رسالت کے لئے ” غیر اہم “ نہیںہونی چاہئے کہ رمشا کیس نے جوموڑ ایک ” امام مسجد“ کی مبینہ ” شرارت “ کے باعث اختیار کیا ہے وہ توہینِ رسالت اور توہین ِ قرآن کے قوانین کے خاتمے کی جدوجہد کرنے والوں کو تقویت فراہم کرے گا۔
میں یہ بات پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور آج پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام یعنی قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھایا ہے لیکن کوئی کلمہ گو خود کو حقیقی مسلمان کہلانے کا حقدار اس وقت تک نہیںبنتا جب تک وہ دل و جان کے ساتھ اس عزم کا اظہار نہ کرے کہ خدا کے کلام اور خدا کے رسول کی حرمت کی حفاظت کے لئے وہ جان کی بازی لگانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
صدیوں سے اگراسلام ایک سیاسی قوت اور ایک نظام ِ حیات کے طور پر آج بھی قائم ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ فرزندان و دخترانِ توحید و رسالت نے حُب قرآن اور حُب رسول کے معاملے میں کبھی کسی لچک یا مفاہمت کا مظاہر ہ نہیں کیا۔
یہاں یہ بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ اسلام دُنیا کا پہلا نظام ہے جس نے کثیر الثقافتی تصور کو عملی جامہ پہنایا تھا۔
اسلام سے پہلے ایسے کسی معاشرے کا کہیں کوئی وجود ہی نہیں تھا جس میں مختلف عقائد کے لوگ ایک ساتھ عزت اور سلامتی کی زندگی بسر کرسکتے ہوں۔
دشمنانِ اسلام کا ہدف ہمیشہ قرآن رہا ہے یا پھر آپ کی ذات مبارک۔وہ جانتے ہیں کہ اگر ا سلامی معاشروں میں ان دو کا احترام ختم ہوجائے تو اسلام خود بخود داستان پارنیہ بن جائے گا۔
اہل ِ مغرب اور ان کے ایجنٹوں کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔۔۔

Scroll To Top