ضرورت ایک دماغی ہسپتال کی

aaj-ki-bat-logo


حالات و واقعات و قرائن بتاتے ہیں کہ جس طرح عمران خان کو کینسر کے علاج کے لئے ایک ایسے ہسپتال کی تعمیر کے لئے جدوجہد کرنی پڑی جو دنیا کی بہترین ٹیکنولوجی کا حامل ہے ` اسی طرح انہیں ذہنی امراض کے علاج کے لئے بھی ایک بڑا ہسپتال تعمیرانا پڑے گا۔۔۔
میاں نوازشریف ` مریم نوازشریف اور ان کے نمک خواران جس قسم کے بیانات دیتے رہتے ہیں وہ آہستہ آہستہ ایسی حدود میں داخل ہورہے ہیں جہاں ماہر نیو رولاجسٹ کی ضرورت کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔۔۔ جو شخص بھی اس قسم کے مرض میں مبتلا ہو ` اسے خود بالکل پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور جو کچھ کہہ رہا ہے کیوں کہہ رہا ہے۔۔۔
پوچھنے والے پوچھتے ہیں۔۔۔ ” آپ کے خلاف چلنے والے کیس کیسے چل رہے ہیں ۔۔۔“
جواب دیا جاتا ہے ۔۔۔ ” عمران خان سے بڑا جھوٹا دنیا میں کوئی نہیں۔۔۔“
پوچھا جاتا ہے ” آپ کو اچانک سعودی عرب کیوں جانا پڑا۔۔۔“؟
” کون نہیں جانتا کہ سعودی عرب پاکستان کا برادر ملک ہے ؟“
” مگر آپ کا دورہ بڑا پرُاسرار تھا۔۔۔ پہلے چھوٹے میاں کو جہاز بھیج کر بلایا گیا ۔۔۔ پھر آپ نارمل فلائٹ میں بھاگے گئے۔۔۔ وہ واپس بھی شاہی جہاز میں آئے۔۔۔ اور آپ کی واپسی بھی عام فلائٹ میں ہوئی۔۔۔ آخر ماجرا کیا؟“
جواب دیا جاتا ہے ۔۔۔ ” مجھے تو اقامہ میں دھرلیا گیا۔۔۔ اور عمران خان کو دیکھو۔۔۔ اس نے مان بھی لیا کہ اس نے مال کمایا تھا اور ٹیکس ایمنسٹی سے بھی فائدہ اٹھایا تھا۔۔۔ پھر بھی ججوں نے کہا کہ تم صادق وامین ہو۔۔۔ کیا یہ انصاف ہے۔۔۔؟ “
سوال پوچھا جاتا ہے ۔۔۔ ” آپ سے ہم نے سعودی عرب کے پرُاسرار دورے کے بارے میں پوچھا ہے۔۔۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے۔۔۔؟ “
جواب دیا جاتا ہے۔۔۔ ” اس قسم کے سوالات اٹھانے سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچتا ` ملک کو نقصان پہنچتا ہے ۔۔۔ اقامہ کہتے کسے ہیں ؟ ویزے کو۔۔۔ کیا ویزا رکھنا جرم ہے ؟ کیا بیٹے سے تنخواہ نہ لینا جرم ہے ؟ یہ کیسا انصاف ہے ۔۔۔؟“
پوچھا جاتا ہے ۔۔۔ ” لیکن آپ نے جس کمپنی میں ملازمت کے لئے ویزا لیا وہ آپ کی اپنی تھی اور اس پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔۔۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے ۔۔۔؟“
جواب آتا ہے : ” صادق و امین کا فیصلہ عوام کریں گے ۔۔۔ عمران خان روتا رہ جائے گا۔۔۔“
مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں ایک فیچر کے سلسلے میں ذہنی امراض کے ایک ہسپتال گیا تھا۔۔۔ ایک مریض مجھے بالکل نارمل لگا۔۔۔ میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ ” آپ کا نام کیا ہے ۔۔۔؟“
” میرا نام ایوب خان ہے۔۔۔ ابو کا نام بھاشانی تھا۔۔۔ یہ پاگل مانتے ہی نہیں۔۔۔“
ہم بھی سب پاگل ہیں۔۔۔ جو کچھ میاں صاحب کہہ رہے ہیں ` ان کی صاحبزادی فرما رہی ہیں ` ہم نہیں مان رہے ۔۔۔
عنقریب مریم صاحبہ فرمائیں گی۔۔۔
” ابا حضور کو سعودی عرب کے حکمرانوں نے امت ِمسلمہ کے لئے ان کی بیش بہا خدمات پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔۔۔ اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اگلا وزیراعظم پھر انہیں بنایا جائے گا۔۔۔“
یہ بات کوئی اور نون لیگی لیڈر شاید کہہ بھی چکا ہے۔۔۔
امتِ مسلمہ کو واقعی ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جس نے زندگی میں کوئی کتاب پڑھنے کی غلطی نہ کی ہو اور جو دربار میں امورِ مملکت کے بارے میں باتیں کرتے اور سنتے وقت اچانک شاہی باورچی سے پوچھے۔۔۔ ” آج بھی سری پائے ضرور پکانا۔۔۔“
طلال چوہدری ڈرے ڈرے لہجے میں جواب دیں گے۔۔۔ ” جہاں پناہ۔۔۔ میں باورچی نہیں ہوں۔۔۔ آپ نے مجھے ڈپٹی وزیر داخلہ بنا دیا ہے۔۔۔“
”اوہو۔۔۔ بھول گیا۔۔۔ دانیال کہاں ہے۔۔۔ اسے بلاﺅ۔۔۔“
” وہ پاگل خان کو سبق چکھانے گیا ہے ۔۔۔“
”پھر مریم اورنگزیب کو بلاﺅ۔۔۔“
” وہ شہزادی صاحبہ کے پاﺅں دھودھو کر پی رہی ہیں۔۔۔“
” پھر شاہد خاقان عباسی کو ہی بلاﺅ۔۔۔“

Scroll To Top