مجرم کوئی بھی ہو اسے سزا ملنی چاہئے 04-09-2012

kal-ki-baat
رمشا کیس میں ایک امام مسجد کا گھناﺅنا کردار سامنے آیا ہے۔ یہ بدبخت شخص پوری دنیا میں ہمارے دین کی تضحیک کا سبب بنا ہے۔ایک لحاظ سے وہ خود بھی توہین ِ قرآن کا مرتکب بنا ہے۔ اگر اس نے واقعی رمشا نام کی نو عمر عیسائی لڑکی کے خلاف شہادت مضبوط بنانے کے لئے ”اضافی “شہادت شامل کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ درحقیقت بدترین سزا کا مستحق ہے۔اس کے خلاف مقدمہ تو درج کیا جاچکا ہے مگر یہ مقدمہ اس قدرمضبوط ہونا چاہئے کہ اس کے حامی عام لوگوں کے جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کریں تو کامیاب نہ ہوں۔
اگر اس بدبخت ” اسلام دشمن “ امام مسجد کو قرار واقعی سزا مل گئی تو ان روشن خیال دانشوروں کے منہ بندکرنے میں بڑی مدد ملے گی جو توہین ِ قرآن اور توہین ِ رسالت کے قوانین سے ہی جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں روزانہ لاکھوں مقدمے قائم ہوتے ہیں۔ ان میں غالب اکثریت جھوٹے مقدمات کی ہوگی۔ کافی مقدمات کا تعلق قتل جیسے جرائم سے ہوگا۔ کیا صرف اس وجہ سے قتل کے جرم کا قانون تبدیل یا ختم کیا جانا چاہئے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جھوٹے مقدمات قائم کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ؟
ملزم کوئی بھی ہو اسے سزا ضرور ملنی چاہئے۔ جھوٹے مقدمات درج کرنے یا کرانے والے بھی مجرم ہی ہوا کرتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top