ہمارے پاکباز صحافی

 aaj-ki-bat-logo انگریزی میں ایک ترکیب ہے۔۔۔
Holier than thou
یعنی ”میں تم سے پاک تر ہوں“
اس رویے کی ایک پہچان یہ جملہ بھی ہے
”میں سب جانتا ہوں، تم کچھ بھی نہیں جانتے۔“
ہمارے بہت سارے اینکر پرسن اور تجزیہ نگار اس رویے کی منہ بولتی تصویر ہوا کرتے ہیں۔ اگرچہ اینکر پرسن اور تجزیہ نگار دو الگ الگ ”چیزیں“ ہیں مگر ہمارے اینکر پرسن جس انداز میں اپنے ”شوز“ یا ”پروگراموں“ کا موڈ ایجنڈا اور بہاﺅ متعین کیا کرتے ہیں اس سے دیکھنے اور سننے والوں کو واضح طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ اگرچہ انہوں نے اپنے سامنے تجزیہ کار بھی بٹھا رکھے ہیں لیکن حقیقی تجزیہ کار وہ خود ہیں یعنی یہ کہ ان کے سوالوں میں ہی اُن کے جوابات پنہاں ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اینکر پرسنز کو اپنی سوچ، اپنے نظریات اور اپنا جھکاﺅ رکھنے کا حق نہیں ہوتا۔ میڈیا میں لوگ ہی وہ جاتے ہیں جن کے اپنے افکار اور خیالات ہوتے ہیں اور اپنا واضح سیاسی رجحان رکھتے ہیں۔
”کورے کاغذ“ جیسا ذہن رکھنے والا شخص میڈیا میں کیوں جائے گا؟
بد د یانتی کا مظاہرہ ہمارے اینکر پرسن یوں کرتے ہیںکہ اپنے سیاسی جھکاﺅ کا واضح اظہار یا اعلان نہیں کرتے ۔ دنیا بھر میں رائے سازی یعنی Opinion Makingسے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے نظریاتی رجحانات اور سیاسی جھکاﺅ ظاہرکر دیا کرتے ہیں۔ سننے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ لیری کنگ ڈیمو کریٹ ہے اور بکانن ری پبلکن ہے۔ سی این این لبرل ہے اور فاکس کنزرویٹو ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے تقریباً تمام ہی میڈیا مین اپنی غیر جانبداری کے فراڈ کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں ۔ کیا کبھی انصار عباسی نے لوگوں کو بتا یا ہے کہ وہ کیا سوچ رکھتے ہیںاور کس پارٹی کے ووٹر ہیں؟ انصار عباسی کا نام میں نے یہاں اس لیے لیا ہے کہ ان کے حوالے سے خبر آئی ہے کہ2010میں زرداری صاحب نے میاں نواز شریف کو باقی مدت کے لیے وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا ۔
اس خبر کے بعد مسلم لیگ (ن) نے بیانات کی جو بھرمار کی ہے اس سے واضح طور پر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ خبر انصار عباسی نے رائے ونڈ کے ایما پر ہی جاری فرمائی ہے۔
کیا کبھی انصار عباسی نے یہ اعتراف کرنے کی دیانت داری دکھائی ہے کہ وہ مسلم لیگ(ن) کے ووٹرہیں؟۔۔ ان کے لیے میاں نواز شریف شیر ہے باقی ہیر پھیر ہے۔۔
اپنی خبر میں انصار عباسی نے حوالہ ملک ریاض کا دیا ہے۔ مگر یہ بتانے کی زحمت گوارہ نہیںکی کہ ”اتنا بڑا انکشاف کرنے کے لیے ملک صاحب “ نے بطور خاص انصار عباسی کا ہی انتخاب کیوں کیا؟۔
وقت آگیا ہے کہ جس طرح سیاست کا پوسٹ مارٹم ہوتا رہتا ہے، اسی طرح ”صحافت“ بھی چھری کانٹوں کا سامنے کرے !
(یہ کالم اس پہلے 04-09-2012کو بھی شائع ہوا تھا ۔ آپ کے خیال میںآج کوئی تبدیلی آئی ہے۔۔۔؟)

Scroll To Top