جذبات نہیں ہوشمندی سے کام لیا جائے

zaheer-babar-logo

صدد ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر پاکستان بارے جو لب ولہجہ استمال کیا وہ سفارتی ، اخلاقی اور سیاسی کسی لحاظ سے قابل قبول نہیں۔ امریکہ صدر نے دراصل ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ کسی طور پر ایسے منصب کے اہل نہیں تھے جس پر وہ براجمان ہیں۔ اسے امریکی جمہوریت کا تاریک پہلو ہی کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور میں رائج نظام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو قصر صدارت پر براجمان کردیا۔امریکہ کے سنجیدہ حلقے تاحال اس پر معترض ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بن گے۔ حال ہی میں انھوں نے جس طرح بیت المقدس کو اسرائیل کا درالحکومت تسلیم کیا ہے کہ وہ ان کی کوتاہ اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
امریکی صدر کے پاکستان مخالف خیالات کسی طور پر حیران کن نہیں۔ایسا کئی بارہوچکا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے دھونس دھمکیوں سے کام لیا، گذشتہ سال نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا۔ امریکہ بہادر یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو کردار پاکستان نے جو کردار اداکیا ہے وہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آیا ۔ اب تک ہمارے ستر ہزار سے زائد شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران واہلکار مادر وطن پر قربان ہوچکے۔ واشنگٹن کو سمجھنا ہوگا کہ انتہاپسندی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے اہم فریق بارے شکوک وشبہات کا فائد ہ نہیں نقصان ہی ہوگا۔
گزرے ماہ وسال میں ضرب عضب اور اب ردالفساد کے زریعہ ملک کے کونے میں قیام امن کے لیے جو کوشش کی جارہی وہ ریکارڈ پر ہے۔ ملکی سیکورٹی فورسز نے ان عناصر کا بھی بڑی حد تک کامیابی سے خاتمہ کیا ہے جو اففانستان سمیت علاقائی سطح پر اپنا نیٹ ورک رکھتے ہیں۔ دولت اسلامیہ کے خلا ف ملک میں کئی کاروائیاں ہوچکیں۔امریکی پالیسی سازوں کو اس سچائی کا ادراک کرنا ہوگا کہ پاکستان انتہاپسندی کے خلاف اپنی بقا وسلامتی کے لیے سینہ سپر ہے۔دباو میں رکھ کر مطالبات منوانے کی امریکی حکمت عملی شائد کارآمد ثابت نہ ہو۔پاکستان کے باشعور شہری یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ انکل سام پہ درپہ الزام تراشیاں کرکے صرف اور صرف بھارت کو خوش کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے ۔ مودی سرکار کی زبان بولنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھ لینا چاہے کہ پاکستان کا محل وقوع اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی اہمیت پوری طرح تسلیم کی جائے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ امریکی صدر کسی طور پر جذبات کی رو میں بہہ کر پاکستان کے خلاف الزام تراشی نہیں کررہے بلکہ انکل سام سوچی سمجھی سکیم پر عمل کررہا جس کا مقصد پاکستان کے مسقبل کے کردار کا تعین کرنا ہے۔ سی پیک کا منصوبہ ایک طرف امریکہ کو ہضم نہیں ہورہا تو دوسری جانب اس کی مخالفت میں بھارت بھی پیش پیش ہے۔ دونوں ملک سمجھتے کہ اگر چین کو بھرپور انداز میں نہ روکا گیا تو آنے والے سالوں میں چین بڑی عالمی طاقت بن کر دنیا کے خطے پر ابھر سکتا ہے۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہے کہ سی پیک کے اعلان کے بعد پاکستان کے امریکہ اور بھارت دونوں سے تعلقات خراب ہوئے ۔ اس پس منظر میں ہمارے زمہ داروں کو سمجھ لینا چاہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے لیے چیلنج کم ہونے کی بجائے بڑھ سکتے ہیں۔
یقینا پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت سمیت ہمسایہ ملکوں سے متعلق ایسے حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جو باہم روابط کو بڑھائے۔ یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ کئی دہائیوں سے تعلقات خراب ہیں تو افغانستان اور ایران سے باہم روابط کو کیونکر بہتر نہیں بنایا جاسکا۔ وقت آگیا کہ ہم سازشی نظریات سے باہر نکلیں اور اپنے اقدمات کا تنقیدی انداز میں جائزہ لیں۔ ہمیں یہ رویہ ترک کرنا ہوگا کہ ساری دنیا ہمارے خلاف سازش کررہی ہے جب کہ ہم بے قصور ہیں ۔ دراصل کھلے دل ودماغ سے اس کا اعتراف کرنا چاہے کہ کم وبیش ساڈھے نو سالوں سے سیاسی حکومتیں اپنی بنیادی زمہ داریاں ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ ایک طرف عام آدمی کی مشکلات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تو دوسری جانب خارجہ محاذ پر کامیابیوں کی بھی جائز تشہیر نہیں کی جاسکی۔
اہل اقتدار کی سنجیدگی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ کم وبیش چارسال تک وزیر خارجہ کا تقرر نہ ہوسکا۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف جس طرح ملکی معیشت، دفاع اور دیگر انتظامی امور کی احسن انداز میں ادائیگی میں ناکام رہے اسی طرح خارجہ امور میں بھی بہتری کی کوئی صورت پیدا نہ ہوسکی۔ حوصلہ افزاءہے کہ قومی سلامتی کمیٹی جیسے پلیٹ فارم کو اب استمال کیا جارہا۔ سیاسی اورعسکری قیادت کا مل جل کر مسائل حل کرنے کی جانب بڑھنا کسی طور پراہم اہمیت کا حامل نہیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے ، اس کی تعمیر وترقی کا خواب اسی وقتت شرمندہ تعبیر ہوگا جب ہر کوئی ادارہ اپنا موثر کردار ادا کرے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلا س کے نتیجے میں سامنے آنے والا پاکستان کا اس لحاظ سے باعث تحیسن ہے کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کی بجائے بات چیت کی ضرور ت پر زور دیا گیا۔ امید کرنی چاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں بھی ہوشمندی غالب آئے گی اور مسائل کا حل ایک دوسرے کے موقف کو سمجھ کر کیا جائیگا۔

Scroll To Top