عوام کو نئے سال کا بدترین تحفہ

zaheer-babar-logo

نئے سال کے پہلے ہی دن حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات یعنی تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی ایک بار پھر مشکلات سے دوچار کردی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پیڑولیم مصنوعات میں حالیہ اضافے کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آسکتا ہے جو مہنگائی کے مارے عوام کی زندگی مذید اجیرن کردے۔ حال ہی میں ایک سروے سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے 91 فیصد افراد براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔غیر سرکاری تحقیقاتی ادارے کے سروے میں ملک کے چاروں صوبوں میں دیہی اور شہری آبادی میں سے لگ بھگ 2700 خواتین اور مردوں کی آرا حاصل کی گئی۔ سروے میں شامل افراد میں سے 63 فیصد کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیے اضافے نے ان کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا جب کہ 28 فیصد کا کہنا تھا کہ ان پر پڑنے والے اثرات درمیانی نوعیت کے تھے۔
سرکارکا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ بین الاقوامی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہے۔ارباب اختیار کھلے دل وماغ سے اس سچائی کو قبول کرنے کو تیار ہی نہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے براہ راست عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔ ماضی کے تجربات شاہد ہیں کہ جب جب پیڑول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا دو ماہ کے اندر تمام ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گے ، کم وبیش سب ہی چیزیں مہنگی ہوگئیں چاہے وہ روزمرہ کے استعمال کی اشیا یعنی سبزیاںیا پھل ہوں ۔
ادھر پیڑولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر مختلف سیاسی جماعتوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے یہ اضافہ واپس لینے کے مطالبہ کیا ہے۔تشویشناک بات یہ ہے کہ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قمیتوں میں اضافے کے باعث پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے بھی خارج ازمکان نہیں۔ یہ حیران کن ہے کہ ایسے میںجب دوہزار اٹھارہ کو عام انتخابات کا سال کہا جارہا ہے ، حالیہ اضافے سے ملک میں مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کی قیمتوں میں اضافے سے حکومتی کی خاصی بدنامی ہورہی ہے۔سجھا جارہا ہے کہ حکومت امراءپر ٹیکس عائد کرنے کی بجائے مڈل کلاس یا پہلے سے مہنگائی کے پسے ہوئے طبقات کے گرد شکنجا مذید کس رہی ہے۔
ناقدین کی رائے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے سے اقتصادی مسائل سے دوچار حکومت پر عوامی دباو میں اضافہ اور اس کی مقبولیت میں مزید کمی آنے کا امکان ہے کیوں کہ جہاں اس فیصلے کے اثرات براہ راست عوام پر پڑیں گے وہیں اپوزیشن جماعتیں حکومت اس صورت حال کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کریں گی۔
ماہرین کے مطابق ملکی معیشت کو سنگین بحران کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو قومی خسارے میں کمی سے متعلق ہر ممکن اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ ایک خیال یہ ہے ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کا اہم ترین ذریعہ محصولات میں اضافہ اور غیرضروری سرکاری اخراجات میں کمی ہے۔تلخ حقیقت یہ ہےکہ ملکی معیشت کا دارومدار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے حاصل کیے گئے قرضے پر ہے جس کی شرائط میں بھی ملک میں ٹیکس اصلاحات کو شامل کیا گیا۔
ایک نقطہ نظر یہ اگر اپوزیشن جماعتیں پوری قوت سے حکومت کے خلاف سامنے آئیں تو غالب امکان ہے کہ حکمران جماعت یہ اضافہ واپس لینے پر مجبور ہوجائے ۔آنے والے چند روز یقینا اس ضمن میں اہم سمجھے جارہے ہیں جو تعین کردیں گے کہ کیا حزب اختلاف محض زبانی جمع خرچ سے کام لیتی ہے یا حقیقی معنوں میں حکومت کو یہ اضافہ واپس لینے پر مجبور کرنے کا ادارہ رکھتی ہے۔
دوسری جانب پرنٹ والیکڑانک میڈیا پیڑولیم مصنوعات کی قمیتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف پوری قوت سے سامنے نہیں آیا۔ اخبارات اور نجی ٹی وی چنیلز نے اس خبر کو کوریج دی مگر شائد اس حد تک اہمیت نہ دی گی جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔
وطن عزیز میںکروڈوں شہری پہلے ہی غربت کی شرح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یعنی ایسے پاکستانی بھی اس دیس میں بستے ہیں جن کے لیے پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں۔ تعلیم ، صحت اور دیگر ضروریات زندگی یقینا خوارک کے بعد کے مسائل ہیں۔ ارباب اختیار کو اگر اس سے سروکار نہیں کہ پسے ہوئے پاکستانیوں کے شب وروز کیسے گزرتے ہیں تو ملک کے اہل فکر ونظر بھی اس معاملے کو سامنے لانے میں اپنی قوت دکھانے کو تیار نہیں۔
یقینا پیڑول کی قمیتوں میںاضافے نہ تو پہلی بار ہوا اور نہ آخری بار۔ اس وقت تک عام شہری ان مشکلات سے نبرد آزما رہے گا جب تک ٹیکس کا دائرے کار وسیع نہیں کیا جاتا۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے گذشتہ ساڈھے چار سالوں میں عالمی مالیاتی اداروں سے جس طرح قرضے لیے ان کو واپس بھی کیا جانا ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کا یہ نعرہ تو معروف ہے کہ وہ کشکول توڈ دیں گے“۔ اسے قابل افسوس ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی پارٹی کے دور حکومت میں یہ کشکول ٹوٹتا کیا بلکہ اس کا حجم بڑھ چکا ۔ سوال یہ ہے کہ جب تجربہ کار سیاسی قیادت کے دور میں اہل پاکستان بدترین مسائل کا شکار رہیں گے تو پھر کسی دوسری سیاسی جماعت سے بہتری کی توقع کیونکر رکھی جائے۔حوصلہ افزاءپہلو یہ ہے کہ عام پاکستانی اہل سیاست کے دعووں اور وعدوں کو بتدریج سمجھ جارہا ہے، یقینا اس کا ثبوت سال رواں میں ہونے والے عام انتخابات میں بھرپور طریقے سے سامنے آنے کا امکان ہے۔

Scroll To Top