تب بھی نشانہ پاک فوج تھی آج بھی نشانہ پاک فوج ہے

aaj-ki-bat-logo

آج2018ءکا پہلا دن ہے۔۔۔ اخبار میں جب میرے یہ الفاظ شائع ہوں گے تو تاریخ02 جنوری2018ءہوگی۔۔۔ 02جنوری پاکستان کی تاریخ کا ایک نہایت کرب انگیز دن تھا۔۔۔ میں آج سے پورے52برس قبل کی بات کررہا ہوں۔۔۔ تب میں روزنامہ کوہستان کا ایڈیٹر تھا۔۔۔ اس زمانے میں روزنامہ کوہستان شمالی علاقوں کا سب سے بڑا اور ملک کا دوسرا بڑا اخبا ر تھا۔۔۔ روزنامہ کوہستان کے ایڈیٹر کی حیثیت سے میں نے فیلڈ مارشل ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح ؒ کے درمیان ہونے والے صدارتی انتخابات کے معرکے میں قائداعظم ؒ کی ہمشیرہ اور مادرِ ملت کا مقام حاصل کرنے والے عظیم خاتون کے حق میں بڑا جو شیلا اور فعال کردار ادا کیا تھا۔۔۔
02جنوری1965ءکی صبح کو شائع ہونے والے روزنامہ کوہستان کے صفحہ ءاول پر ایک طرف لالٹین کی تصویر تھی جو محترمہ فاطمہ جناح ؒ کا انتخابی نشان تھا اور دوسری طرف پھول کی تصویر جو صدر ایوب خان کا انتخابی نشان تھا۔۔۔ شہ سرخی یہ تھی!
آج معرکہ حق اور باطل کے درمیان ہے۔۔۔
یہ سرخی میرے قلم سے نکلی تھی۔۔۔ میرا رواں رواں اس وقت بانی ءپاکستان کی ہمشیرہ کے لئے عقیدت بھرے احساسات و جذبات سے سرشار تھا۔۔۔ رات میں نے یہ دعائیں مانگ کر گزاری تھی کہ ” یا اللہ پاکستان کے عوام کو اپنے عظیم قائدؒ کی روح کے سامنے شرمسار نہ ہونے دینا اور مادرِ ملت کو فتحمند اور سربلند کرنا۔۔۔“
انتخابی کالج 80 ہزار ووٹروں پر مشتمل تھا۔۔۔ بنیادی جمہوریتوں کے 40ہزارارکان مغربی پاکستان سے تھے اور 40ہزار ارکان مشرقی پاکستان سے ۔۔۔
شام کو پانچ بجے سے پہلے پہلے ہی امیدوں کے تمام چراغ بجھ چکے تھے۔۔۔ اگرچہ مشرقی پاکستان میں مقابلہ تقریباً برابر کا ہوا تھا مجموعی طور پر مادرِ ملت 53ہزار کے مقابلے میں 27ہزار ووٹوں سے ہار گئی تھیں۔۔۔ دکھ اور غصے کے ملے جلے جذبات نے میری جو حالت کی تھی وہ میں بیان نہیں کرسکتا۔۔۔ عوام کی بھاری اکثریت کے احساسات میرے احساسات سے مختلف نہیں ہوں گے۔۔۔
آج میں سمجھتا ہوں کہ صدر ایوب خان کی حکومت کو عدم استحکام کے راستے پر ڈالنے کا عمل اُن ہی انتخابات سے شروع ہوا تھا۔۔۔ عوام کی اکثریت ” مردِ آہن“ کے خلاف ہوگئی تھی۔۔۔
قائداعظم ؒ کی ہمشیرہ اور قوم کی ماں کی شکست بہرحال کسی کو قبول نہیں تھی۔۔۔
یہاں میں ایک نہایت اہم نکتہ قارئین کرام کے علم میں ضرور لانا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اُن انتخابات میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے ایک وفادار جرنیل کاکردار ادا کیا تھا۔۔۔ وہ تب پاکستان مسلم لیگ (کنوشن) کے سیکرٹری جنرل اور کرتا دھرتا تھے۔۔۔ اتفاق سے اُسی سال بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہونی تھی جس کے نتیجے میں بھٹو مرحوم اپنے محسن اور سیاسی سرپرست ایوب خان کو خیر باد کہہ کر اپنی نئی سیاسی شناخت بنانے کے سفر پر روانہ ہونے والے تھے۔۔۔
میں جب آج کے حالات اور تب کے حالات کا موازنہ کرتاہوں تو ایک تکلیف دہ نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہتا۔۔۔
آج پاکستان کے دشمن ہماری صفوں کے اندر موجود نہایت طاقتور سیاسی عناصر کو نہایت کامیابی کے ساتھ پاکستان کی سا لمیت اور بقاءکی ضمانت تصور کی جانے والی ” فوج“ کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔۔۔
یہی صورتحال1964ءکے اواخر میں چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران پیدا ہوئی تھی۔۔۔ تب بھی ہمارے نظرنہ آنے والے دشمنوں نے قوم کے دلوں میں مادرِ ملت کے لئے پائی جانے والی عقیدت کو صدر ایوب خان کی مضبوط حکومت کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لئے استعمال کیا تھا۔۔۔ تب پاکستان صنعتی اور اقتصادی میدان میں بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کے مشرقی بازو کو مغربی بازو سے الگ کرنے کا منصوبہ اسی زمانے میں تیار ہوا تھا ۔۔۔ اس منصوبے کا مرکزی ہدف یہ تھا کہ ” فوجی آمریت“ کی ترکیب کو صدر ایوب کی مستحکم حکومت گرانے کے لئے استعمال کیا جائے۔۔۔ کیوں کہ پاکستان کو شکست و ریخت کا شکار بنانے کے لئے ضروری تھا کہ پاک فوج کے لئے ہز یمت کا سامان پیدا کیا جائے۔۔۔
آج میں یورے تیقّن کے ساتھ یہ الزام لگا سکتا ہوں کہ یہ ” ٹاسک“ شیخ مجیب الرحمان اور خان ولی خان کے سپرد نئی دہلی نے کیا تھا۔۔۔ پاکستان کے یہی دو ممتاز سیاستدان و ہ مخصوص سیاسی شناخت رکھتے تھے جو ” قومی سلامتی اور یکجہتی “ کے تصور کے مکمل طور پر ” برعکس“ تھی۔۔۔ ان دونوں اصحاب نے ہی مل کر فیلڈمارشل ایوب خان اور فوج کے خلاف وہ اتحاد قائم کرایا تھا جس نے مادرِ ملت کو سیاست میں گھسیٹنے کا کردارادا کیا۔۔۔ اس اتحاد میں مسلم لیگ (کونسل)تو تھی ہی جماعت اسلامی بھی شامل ہوگئی ۔۔۔بعد میں سامنے آنے والے حقائق سے معلوم ہوا کہ شروع میں مادرِ ملت نے صدارتی امیدوار بننے سے انکار کیا تھا لیکن پھر وہ اِس جذباتی دباﺅ کے سامنے جھک گئیں کہ ” آپ کے بھائی کے پاکستان کو آپ کی ضرورت ہے ۔۔۔“
کاش کہ مادرِملت اپنے انکار پر ڈٹی رہتیں اور شیخ مجیب الرحمان کو ایک بڑی سیاسی قوت بننے کا موقع نہ ملتا۔۔۔ یہاں یہ بات بڑ ی اہمیت کی حامل ہے کہ شیخ مجیب الرحمان کے جو 6نکات تقسیم پاکستان کا باعث بنے اُن کی ” رونمائی “ اسی انتخابی مہم کے دوران ہوئی تھی۔۔۔ اس رونمائی کا سہرا روزنامہ کوہستان کے سر پر تھا۔۔۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جو میں پھر کبھی بیان کروں گا۔۔۔یہاں میں صرف یہ بات زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ تب کے اتحاد جیسا اتحاد آج بھی میاںنوازشریف` مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی کی صورت میں موجود ہے۔۔۔ اس اتحاد کا نشانہ بھی پاک فوج ہے۔۔۔

Scroll To Top