مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhootaaa
مصنف غلام اکبر
02-01-2018…
..قسط:57 ”


زندہ رہنے کے لئے طاقت ضروری ہے ۔ اس کی ایک اور زندہ مثال اسرائیل ہے۔ اسرائیل کو احساس ہے کہ پوری عرب دنیا بلکہ پورا عالم اسلام اس کا دشمن ہے اور اس نے اپنی بقا ءکے لئے طاقت کے حصول کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے۔ طاقت کی ضرورت اسی وقت محسوس کی جاتی ہے۔جب سامنے کوئی طاقتور دشمن ہو۔ اندراگاندھی کو معلوم تھا کہ جب تک اہلِ پاکستان بھارت کو اپنا دشمن تصور کرتے رہیں گے اس وقت تک ان کے اندر طاقتور بننے کی ضرورت کا احساس بھی رہے گا۔ چنانچہ بھٹو کے ذریعے اہلِ پاکستان کو یقین دلایا گیا کہ بھارت سچ مچ برصغیرمیں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ اس لئے دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی بنیاد رکھ دینی چاہیئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ بھٹو نے پاکستان میں جبرو استبداد کا جو نظام قائم کیا اور نام نہاد عوامی حکومت نے قانون کی عصمت کو جس وحشیانہ انداز میںلوٹا اس کی بڑی وجہ اندرا گاندھی کی دوستی پر بھٹو کا مکمل اعتماد تھا۔ ایف ایس ایف کے نام سے اپنی ذاتی پولیس قائم کرنے کے بعد بھٹو کو یہ اطمینان ہوگیا تھا کہ اختلاف کی کسی بھی لہر، احتجاج کی کسی بھی آواز اور مزاحمت کی کسی بھی کوشش کو کچلنا اس کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوگا۔ برسراقتدار آنے سے پہلے وہ فوج کو رسوائی و تضحیک کا نشانہ بنوا چکا تھا۔ مزید اطمینان اسے اس بات کا تھا کہ اگر کسی مرحلے پر فوج نے کسی عوامی تحریک کے زیر اثر آکر اس کے اقتدار کو چیلنج کیا تو وہ اندرا گاندھی کی دوستی کو فوج کے خلاف کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکے گا۔ ایک موقع پر اس نے پاکستان کے عوام کودھمکی بھی دی تھی کہ اگر اسے اقتدار سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمالیہ بھی روئے گا۔ اس دھمکی کے دوہی مفہوم ہو سکتے تھے۔ایک تو یہ کہ اگر بھٹو کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو ہمالیہ سے بہنے والے سارے پانی کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا جائے گا اور ملتِ پاک اس پانی میں غرق ہو جائے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا تھا کہ پاکستان کا اتنا برُاحشر کیا جائے گا کہ اس کے انجام پر ہمالیہ بھی آنسو بہائے گا۔
بھٹو کے جھوٹ کی پرستش کرنے والے بہت سے لوگ میرے اس تجزیئے کو احمقانہ قرار دیں گے کیونکہ کوئی بھی انسان اتنا گرِا ہوا نہیں ہو سکتا کہ اپنے وطن کے ساتھ اتنی بڑی دشمنی کرے۔ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں مگر میرا تو موقف ہی یہ ہے کہ بھٹو کا کوئی وطن نہیں۔ اس نے اپنی ذات کو ہی اپنے وطن کا درجہ دے رکھا ہے اور جو چیز بھی اس کی ذات سے ٹکرائے وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے۔ جب مشرقی پاکستان کے عوام اس کی ذات سے ٹکرائے تو وہ پاکستان کی سا لمیت کا دشمن بن گیا۔
یہ بھٹو کی بدقسمتی تھی کہ جس اعتماد کے ساتھ اس نے ۷مارچ ۷۷۹۱ءکے عام انتخابات میں ناقابلِ تصّور پیمانے پر دھاندلیاں کرائیں اور جس یقین کے ساتھ ان دھاندلیوں کے خلاف ابھرنے والی عوامی تحریک کو کچلنے کا پروگرام بنایا۔وہ اعتماد اور یقین بھارت کے عام انتخابات میں اندرا گاندھی کی غیر متوقع شکست کی وجہ سے پاش پاش ہوگیا۔ پاک فوج کو بلیک میل کرنے اور اسے عوام کی حمایت سے باز رکھنے کے لئے اس کے پاس جو موثر ہتھیار تھا وہ اس سے چھن چکا تھا۔
O O
(جاری ہے۔۔۔)
Scroll To Top