فوج ملکی مفاد میں بہترین کردار ادا کر رہی ہے،عمران خان

  • پہلی بار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمہورریت کے حق میں بیان دیا ماضی میں کسی جنرل کو جمہوریت کے حق میں بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، فوج اگر تحریک انصاف کی پشت پر ہوتی تو نہ جانے دھرنے کے دوران کیا سے کیا ہو جاتا
  • جنرل باجوہ نے کہا کہ وہ پاکستان کے آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں،حکومت کو فوج کا فیض آباد دھرنا ختم کرانے پر شکریہ ادا کرنا چاہیے، چیئرمین پی ٹی آئی کا غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو

imran
اسلام آباد (آن لائن) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے ساتھ فوج ہوتی تو پھر دھرنے کے دنوں میں پاکستان میں نہ جانے کیا ہوجاتا،حکومت کو فوج کے فیض آباد دھرنا ختم کرانے پر شکریہ ادا کرنا چاہیے،پہلی بار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمہورریت کے حق میں بیان دیا کیونکہ ماضی میں کسی جنرل کو جمہوریت کے حق میں بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار عمران خان نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا لاکھوں افراد کے جلسے میں لوگ فوج بھیج رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے ساتھ فوج ہے تووہ مجھے کیسے فائدہ پہنچا  رہی ہے۔ چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ اس وقت پاکستانی سیاست میں فوج کا بہترین کردار ہے کوئی شک نہیں کہ ماضی میں فوج کا کردار اچھا نہیں رہا ۔ تاہم اب فوج کے کردار پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ختم کرانے میں فوج مدد نہ کرتی تو نجانے پاکستان میں کیا ہوجاتا۔ حکومت کو فوج کا دھرنے ختم کرانے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سایست کے حق میں بیان دیا کیونکہ ماضی میں کسی جنرل کو جمہوریت کے حق میں بات کرتے ہوئے نہیں سنا۔ جنرل باجوہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے عائشہ گلالئی کی جانب سے سنگین الزماات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عائشہ گلالئی اپنا فون لائیں۔ دونوں کے موبائل کا فرانزک کرالیں انہوں نے کہا کہ گلالئی نے کہا کہ آپ نے تین سال پہلے مسیج بھیجا تھا وہ مہربانی کرکے ثبوت دیتیں میں نے عائشہ گلالئی کے الزماات پر خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ نیویارک میں نائن الیون سانحے سے قبل کوئی طالبان یا القاعدہ نہیں تھے جس کے بعد پاکستان امریکہ کی جنگ میں شریک ہوا۔ کوئی پاکستانی نائن الیون واقعہ میں ملوث نہیں ہے۔

Scroll To Top