جنوبی پنجاب میں موسمی انفلوئنزا سے ہلاکتوں کی تعداد 12 ہوگئی

s
اسپتالوں میں بیماری سے آگاہی اور ویکسی نیشن کے لئے کاونٹرز قائم ،فوٹو:اسکرین گریپ

ملتان: جنوبی پنجاب میں موسمی انفلوئنزا اے ایچ ون این ون خطرناک وبائی صورت اختیار کرگیا اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہوگئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق موسمی وائرل انفیکشن انفلوئنزا اے ایچ ون این ون نے ملتان سمیت جنوبی پنجاب کو لپیٹ میں لے لیا ہے،اس ماہ نشتر اسپتال میں 37 مریض انفلوئنزا  اے ایچ ون این ون کے شبہے میں رپورٹ ہوئے جن میں سے 23 مریضوں میں اس کی تصدیق ہوئی۔

موسمی زکام میں مبتلا  ہوکر اب تک 12 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں آٹھ ملتان میں، ایک خاتون مظفر گڑھ میں اور جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔ سال 2014ء میں موسمی زکام میں مبتلا ہو کر 14 مریض جاں بحق ہوئے جبکہ گزشتہ سال اسی وائرس کی وجہ سے 11 مریض جان کی بازی ہار گئے تھے۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ملتان میں وبائی امراض کنٹرول پروگرام کے انچارج ڈاکٹر عطاالرحمان نے کہا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کی تمام ادویات اور ویکسین نشتر اسپتال کو مہیا کر دی گئی ہیں، شہری میڈیکل آؤٹ ڈور میں معائنہ کے بعد مفت ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ادھر ضلعی انتظامیہ نے بھی ریڈ الرٹ جاری کر تے ہوئے تمام سرکاری اسپتالوں میں بیماری سے آگاہی اور ویکسی نیشن کے لیے کاؤنٹرز قائم کر دیے ہیں۔

دوسری جانب وزيراعلی پنجاب محمد شہبازشريف نے ملتان ميں مو سمی انفلونزا كے حوالے سے ميڈيا پر نشر ہونے والی خبر كا نوٹس ليتے ہوئے صوبائی وزير صحت اور سيكرٹری ہيلتھ سے رپورٹ طلب كر لی ہے۔وزير اعلی نے ہدايت كی ہے كہ موسمی انفلونزاكی روك تھام كيلئے ہر ممكن اقدام اٹھاياجائے اوراس ضمن ميں تمام تر وسائل بروئے كار لائے جائيں ۔وزير اعلی نے كہا كہ انفلونزا سے بچائو اور علاج معالجہ كے بارے ميں عوام ميں شعور پيدا كرنے كيلئے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے۔

Scroll To Top