مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhootaaa
مصنف غلام اکبر
01-01-2018…
..قسط:56 ”

اِن پانچ باتوں پر عمل کر کے بھٹو اپنے اقتدار کو دوام بخش سکتا تھا۔ پہلی بات پر عمل اس نے چند ہی ماہ میں کر لیا۔ شملہ میں اصل سمجھوتہ وہ نہیں ہوا تھا جس کا اعلان کیا گیا۔ اصل سمجھوتہ میں بھٹو نے کشمیر سے دستبردار ہو کر پاکستان پر بھارت کی بالادستی تسلیم کر لی تھی۔ اس نے اندرا کو یقین دلایا تھا کہ اب پاکستان کبھی بھارتی مفادات کو چیلنج نہیں کرے گا اور آہستہ آہستہ ایسی فضا پیدا کردی جائے گی کہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب ہو جائیں اور وہ بنیاد کمزور پڑ جائے پڑ جائے جس پر پاکستان قائم ہوا تھا۔ جواباً اندرا نے بھٹو کے اقتدار کی حفاظت کی ذمہ داری لی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر کبھی بھٹو کو پاک فوج کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تو بھارت کی پوری طاقت اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے استعمال ہوگی بمبئی کے ہفت روزہ بلٹنرکے ایڈیٹر کے ساتھ ایک انٹریو میں اندرا گاندھی نے کہا تھا۔
” بھٹو کو سمجھنے میں بھارتی عوام غلطی پر تھے وہ ایک منجھا ہوا سیاست دان ہے اور ہوا کا رخ دیکھ کر بات کرتا ہے۔ یہ ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کہ پاکستان کی حکومت اب ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو بھارت کے ساتھ دوستی کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بھٹو ہمارے نقطئہ نظر سے ایک بہترین حکمران ثابت ہوگا۔ اور اگر اسے کسی بحران کا سامنا کرنا پڑا تو جنوب مشرقی ایشا میں دوبارہ بے یقینی اور عدم استحکام کی فضا پیدا ہو جائے گی۔ اگر میں بھٹو کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہ کرتی تو پاکستان میں اس کی مقبولیت متاثر ہوتی جو بہر حال ہمارے مفاد میں نہیں۔“
پاکستان میں بھٹو کی مقبولیت اندرا گاندھی کے بھارت کے لئے کیوں اور کیسے مفید تھی اس کا صحیح علم تو بھٹو اور اندرا گاندھی کو ہی ہوگا۔ لیکن بھٹو کے دورِ اقتدار میں مسئلہ کشمیر کو ہماری قومی سیاست میں سے جس خوبصورتی اور کامیابی کے ساتھ خارج کر دیا گیا اس کا علم کسے نہیں۔ وہ برہمنی سامراج جس کی نفیسات اور جس کے عزائم کی عکاسی کرتے ہوئے اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ایک بھارتی ناری نے مشرقی پاکستان میں دو قومی نظریئے کو شکست دے کر ایک ہزار سال کی شکستوں اور ہزیمتوں کا انتقام لے لیا ہے۔ اس برہمنی سامراج معماروں کے ساتھ نظریہ¿ پاکستان کے علمبرداروں کی دوستی کا مطلب میرے نزدیک اس کے سوا کچھ نہیں کہ اہلِ پاکستان برصغیر میں اہلِ بھارت کی بالادستی کو قطعی طور پر تسلیم کر لیں۔
ہمارے کچھ ” روشن خیال“ دانشوروں کی رائے ہمیشہ یہ رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ مصالحت کر کے ہی پاکستان کو امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ امن ایک بہت ہی خوب صورت لفظ ہے۔ خوش حالی ایک بہت ہی حسین تصورہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ صرف وہی قومیں زندہ رہی ہیں جنہوں نے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا۔ جس قوم نے بھی یہ فرض کر لیا کہ اس کا کوئی دشمن نہیں اسے کسی چیلنج کا سامنا نہیں اسے نہ تو امن کا خوب صورت لفظ اور نہ ہی خوش حالی کا حسین تصور کسی بڑی اور طاقتور قوم کا لقمہ¿ تربننے سے بچا سکا۔ صرف اسی قوم نے تاریخ کے صفحات پر اپنی عظمت کی داستانیں چھوڑی ہیں جن کا کوئی طاقتور دشمن تھا اور جس نے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے اس دشمن کے خلاف اپنی تمام فکری و عملی صلاحیتوں کو وقف کر دیا۔ قانونِ قدرت یہ ہے کہ بقاءصرف طاقتور کا مقدر بنتی ہے امن اور خوشحالی ہمیشہ صرف اس قوم کو نصیب ہوئی ہے جس نے اپنے ”دشمن“ پر برتری حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن ذریعے سے طاقت حاصل کی اور ”طاقت“ کو اپنا واحد دوست بنایا۔ ہمارے سامنے ماو¿زے تنگ کے چین کی مثال ہے۔ ۸۴۹۱ءمیں جب چین میں انقلابی حکومت قائم ہوئی تو اس کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ لیکن ماو¿زے تنگ نے چینی عوام کے سامنے ایک طاقت ور ”دشمن“ رکھا اور اس طاقتور دشمن یعنی امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ”طاقت“ کے حصول کو چین کے ایک ایک فرد کا قومی نصب العین بنادیا۔ امریکہ کی طرف ماو¿نے دوستی کا ہاتھ اس وقت بڑھایا۔ جب چین خود ایک عظیم طاقت بن چکا تھا۔ ہمارے سامنے پہلی جنگ عظیم کے بعد کے جرمنی کی مثال ہے۔ ہر طرف تباہی ہی تباہی نظر آتی تھی۔ وارسیلز کے معاہدے کے تحت جرمنوں کو انتہائی ذلت آمیز شرائط پر امن کی بھیک ملی تھی۔ جرمنی اقتصادی طور پر مفلوج ہو چکا تھا۔ سینکڑوں مارک بوریوں میں بھر کر دیئے جاتے تھے تو ایک ڈالر ملتا تھا ۔ پھر ہٹلر اور نازی پارٹی کا ظہور ہوا۔ جرمن قوم میں یہ احساس کوٹ کوت کر بھر دیا گیا کہ پوری دنیا اس کی دشمن ہے ۔ اور اسے پوری دنیا کو مغلوب کرنے کے لئے طاقت حاصل کرنی ہے۔ صرف پانچ برس میں جرمنی نے جو ترقی کی اور جتنی طاقت حاصل کی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں پانچ کروڑ جرمنوں کو ہرانے کے لئے پوری دنیا نے چھ برس تک اپنے پورے وسائل استعمال کئے اور بقول چرچل جب جنگ ختم ہوئی تو مرنے والے ہر جرمن کے مقابلے میں چھ اتحادی فوجی مرے تھے۔
(جاری ہے۔۔۔)
Scroll To Top