مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhootaaaمصنف غلام اکبر

31-12-2017…

..قسط:55 ”


بھٹو کے پانچ نکات
(ڈیک)اگر میں اصغر خان کا صفایا کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اگلی ربع صدی تک دنیا کی کوئی طاقت مجھے اقتدار سے الگ نہیں کرسکے گی۔(ڈیک)
برسرِ اقتدار آنے کے بعد بھٹو نے تاحیات حکومت کرنے کو جو منصوبہ بنایا اس میں پانچ باتیں بنیادی اہمیت کی تھیں۔
۱۔ اندرا گاندھی کے ساتھ اشتراک ِفکرو عمل کیا جائے اور پاک فوج کو مستقل طور پر احساسِ شکست اور دباو¿ میں رکھنے کے لئے اسے نفسیاتی طور پر بلیک میل کیا جائے کہ اگر اس نے سر اٹھانے کی کوشش کی تو پنجاب کی سرحدیں عبور کرنا اندرا گاندھی کی فوجوں کے لئے مشکل کام نہ ہوگا۔
۲۔ ”بنگلہ دیش“ کو جلد از جلد تسلیم کر لیا جائے تا کہ اگر قائد اعظم کے پاکستان کے دونوں بازوو¿ں میں کبھی کوئی ایسی تحریک اٹھے جس کا مقصد کنفیڈریشن کا قیام ہوتو مشرقی پاکستان میں کام کرنے والی مضبوط بھارتی لابی یہ موقف اختیار کر سکے کہ اب ”بنگلہ دیش “ ہر لحاظ سے ایک آزاد اور خود مختار مملکت ہے اور اس کی آزادی اور خود مختاری کو پاکستان بھی تسلیم کرچکا ہے۔ لہٰذادونوں ملکوں کے درمیان دوستی تو ہو سکتی ہے ، لیکن دونوں کو ایک ملک کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔
۳۔ ۰۲دسمبر۱۷۹۱ءکو قائم ہونے والی حکومت کی غیر آئینی حیثیت ختم کرنے کے لئے اپوزیشن کی جماعتوں کا تعاون حاصل کیا جائے اور ایسا آئین تیار کیا جائے جس پر تمام لیڈر اور جماعتیں دستخط کر دیں تاکہ حکومت آئینی طور پر اپنے قیام اور وجود کو جائز قرار دے سکے۔
یہ بات بھٹو کے لئے بڑی اہم تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے کے بعد دسمبر۰۷۹۱ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی قومی اسمبلی خود بخود ختم ہوگئی تھی اور نئے حالات میں نئے انتخابات کے ذریعے ہی باقی ماندہ ملک کی قومی اسمبلی قائم ہو سکتی تھی جس میں اکثریت کی حامل پارٹی کو حکومت کرنے کا حق ہوتا۔
۴۔ ملک کے تمام اداروں کو تباہ کر دیا جائے۔ معاشرے کی اخلاقی قدروں کو نیست و نابود کر دیا جائے ۔ عوام کے تمام طبقوں کو حرص، لالچ اور ہوسِ زر کے شکنجے میں جکڑ دیا جائے۔ زندگی کے تمام شعبوں میں نظم و ضبط کا خاتمہ کردیا جائے تا کہ ہر فرد اپنی مادی وحیوانی خواہشات کا غلام بن کر رہ جائے ۔ قوم میں بے حسی بے غیرتی اور بے ضمیر ی کے جراثیم کو اتنی کثرت کے ساتھ پھیلایا جائے کہ اس کے اندر اچھائی اور برائی بلندی اور پستی کے درمیان تمیز کرنے کا شعور و احساس ہی باقی نہ رہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ضروری تھا کہ جب کوئی قوم تمام اخلاقی اقدار سے منہ موڑ لیتی ہے تو اسے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی کہ اس کے حکمران کون ہیں۔
۵۔ مناسب موقع پر صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اکثریت رکھنے والی پارٹیوں کا وجود ختم کر دیا جائے اور وہاں بھی پیپلز پارٹی کا ترنگا لہرا دیا جائے اس کے بعد پورے ملک میں خوف وہراس کی ایسی فضا پیدا کی جائے کہ کوئی لیڈر یا جماعت حکومت سے اختلاف کرنے سے پہلے اپنے عبرت ناک انجام کا خاکہ اپنے ذہن میں ضروری کھینچے۔ عدلیہ کو مکمل طور پر غیر موثر بناکر پولیس اور ایف ایس ایف کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ جب چاہیں جسے چاہیں پکڑ لیں۔ پکڑ کر جہاں چاہیں لے جائیں اور جو سلوک چاہیں کریں۔
(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top