بلوچستان کے خلاف عالمی سطح پر مہم جاری

zaheer-babar-logo

جینوا اور لندن کے بعد اب نیویارک میں فری بلوچستان کے اشتہار پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی مہم کے طور پر دیکھا جانا چاہے۔ ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ مذکورہ اشتہارات تین روز تک یعنی نئے سال کی آمد تک بورڈ پر آویزاں رہیں گے۔ “
بلوچستان میں قیام امن کی صورت حال میں بہتری آئی ہے مگر ایسا نہیں کہ اس پر مکمل طور پر اطمنیان کا اظہار کیا جاسکے۔یقینا رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میںاصلاح احوال کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں دوآراءنہیںکہ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے آگ اور خون کا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ اب تک سینکڑوں معصوم اور بے گناہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔ بظاہر بلوچستان کے کرپٹ سیاستدانوں، جابر اور اخلاقی طور پر تباہ سرداری نظام، ناجائز پیسے کمانے کے رسیا نااہل سرکاری افسران نے بھی بلوچستان کے قابل اور ترقی کے خواہشمند بلوچ نوجوانوں مایوس کیا ۔
بلوچستان کو اب بھی مختلف قسم کی دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں بلوچ علیحدگی پسندوں کی پرتشدد کارروائیاں، فرقہ وارانہ قتل و غارت گری، ، طالبان اور دیگر مذہبی انتہا پسندوں کی کاروائیاں اور قبائلی کی باہم دشمنیاں نمایاں ہیں۔
بلوچستان میں دہشتگردی کا ذمہ دار بڑی حد تک بھارت ہے جبکہ انسداد دہشتگردی کے ماہرین بلوچستان کی بدامنی میں بھارت کے علاوہ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ملکوں کو بھی ملوث سمجھتے ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے بالاچ مری، حربیار مری اور براہمداغ بگٹی جیسے باغی سرداروں کو اپنے تربیتی مراکز قائم کرنے کے علاوہ بلوچستان میں بھی فراری کیمپ کے لیے فنڈنگ کی۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ایسے کمیپوں میں محض بلوچ علیحدگی پسند ہی نہیں بلکہ سندھی قوم پرست تنظیموں کے دہشت گرد بھی بم دھماکوں اور ریلوے ٹریک اڑانے کی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔
اس میں دوآراءنہیں کہ بھارت ہمیشہ سے پاکستان کو کسی نہ کسی طریقے سے نقصان پہنچانے کے چکر میں رہتا ہے۔ اب تو افغانستان بھی پاکستان سے نالاں اور اپنے ہاں پاکستانی مداخلت کی شکایت رہا ہے۔
حقائق یہ ہیں کہ برہمداغ بگٹی سوئٹزرلینڈ سے بلوچ ریپبلیکن آرمی کو کنٹرول کرہا ہے اور اس کا گروپ گیس پائپ لائینز تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ بم دھماکوں اور قتل عام کی لاتعداد وارداتوں میں ملوث ہے۔ ادھر بالاچ مری کے مارے جانے کے بعد حربیار مری لندن سے بیٹھ کربلوچستان میں بم دھماکے اور فورسز پر حملوں کے علاوہ پنجابی آبادگاروں کے اجتماعی قتل کی وارداتیں کررواہا ہے۔ ادھر لشکر بلوچستان کی قیادت جاوید مینگل کر رہا ہے اور یہ بھی لندن سے ہی اس گروپ کی کمانڈ کرتا ہے۔ مذکورہ گروپ کے ذمہ بھی دہشتگردی کی لاتعداد کارروائیاں قرار دی گئیں ہیں۔
علیحدگی پسند گروپ میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر بھی بہت متحرک ہیں اور اپنی پروپیگنڈہ ویڈیوز کے زریعے عام بلوچ نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ دراصل ان ہی گروپوں کو بھارت سے فنڈنگ کی مد میں کروڑوں روپے ملتے ہیں جبکہ بھتہ خوری اور تاوان کی رقم سے بھی یہ پرتشدد گروہ اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں۔
ایک خیال یہ ہے کہ بلوچستان میں اب بھی دہشت گردوں کے مضبوط نیٹ ورک کی وجہ سے جہادی گروپس اور لشکرجھنگوی کو بھی ان کی مدد حاصل رہتی ہے۔ طالبان عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ صرف پشتون علاقے ہی نہیں ہیں بلکہ بہت سے بلوچ جہادی کمانڈرز بھی طالبان ہیں اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں نوجوانوں کو ذہن سازی کے ذریعے عسکریت پسندی کے لیے تیار کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ملکی سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو خاصی حد تک کمزور کیا ہے مگر ان کا خاتمہ تاحال ممکن نہیں بنایا جاسکا۔
درپیش حالات کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ بہت سادہ نہیں، اور نہ ہی ایسا ہے کہ جسے جادو کی چھڑی گھما کر حل کر لیا جائے۔ بلوچستان میں مکمل امن قائم کرنے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مخالفین کا پروپیگنڈا سے لے کر ہتھیار تک، تمام محاذوں پر ان خطرات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ بظاہر بنیادی اہمیت پروپیگنڈا کا منہ توڑ جواب دینے کی ہے تاکہ مزید بلوچ نوجوانوں کو ان خوفناک جنگجوں کا آلہ کار بننے سے روکا جاسکے۔
لندن ، جینواءاور اب نیویارک میں فری بلوچستان کی اشتہاری مہم دراصل اسی پروپیگنڈا کا حصہ ہے جو بلوچستان کے نام نہاد علحیدگی پسند بھارت کے تعاون سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ کہنا ہرگز غلط نہیں کہ بھارت کی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح مقبوضہ کشمیر اور بلوچستان کو ایک ہی صف میںلاکھڑاکیا جائے۔ ریکارڈ پر ہے نریندر مودی نے اعلانیہ کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے معاملہ کو اٹھاتا رہیے گا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ہم نے اس حوالے سے کیا تیاریاں کررکھی ہیں، باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ تین ملکوں میں بلوچستان بارے اشتہاری مہم چلانے کے بعد قوی امکان ہے کہ یہ سلسلہ دیگر ملکوں میں پھیل جائے۔یاد رکھا جائے مودی سرکار پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اپنے بھرپور وسائل بروئے کار لارہی ہے۔
بلوچستان میں ان دنوں مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت ہے ، لازم ہے کہ صوبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی اختیار کی جائے۔ صوبے کے رہنے والوں کی بنیادی ضروریات پوری کیے بغیر تعمیر وترقی کا ہر دعوی بیکار ہے۔ دوسری جانب اس پر اطمنیان کااظہار کیا جاسکتا ہے کہ گزرے ماہ وسال کے برعکس بلوچستان میں امن وترقی کی خواہش پوری قوت سے بیدار ہوچکی۔

Scroll To Top