مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhootaaaمصنف غلام اکبر
30-12-2017…
..قسط:54 ”

بھٹو نے کھلے الفاظ میں جواب دیا۔
”میں بنیادی طور پر سیاست دان ہوں اور سیاست دان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ نظریات کی بجائے حالات کا ساتھ دے ۔ جو سیاست دان حالات سے فائدہ نہ اٹھا سکے اسے کوئی اور مشغلہ اختیار کرلینا چاہیئے۔“
شملہ جانے سے پہلے بھٹو نے اپنے ہندو دوست پیلو مودی کو لکھا تھا۔
” میں برسرِاقتدار آنے کے بعد تمہیں فون کرنا چاہتا تھا۔ مگر میں نے اس خواہش کو دبا دیا کیوں کہ ہمارے دونوں ہی ملکوں میں تنگ نظروں اور بے وقوفوں کی کمی نہیں ہے۔ لیکن اب میں عنقریب تم سے ملاقات کروں گا۔ آہستہ آہستہ دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستی کی فضا ہموار ہو چکی ہے۔“
یہ اس بھٹو کا حقیقی روپ ہے جو برسہا برس تک میرے اور مجھ جیسے لاکھوں تنگ نظروں اور بے وقوفوں کے جذبات سے کھیلتا رہا۔
مشرقی پاکستان پر پاکستان کے حق سے دستبردار ہونے اور اندراگاندھی کے ساتھ کشمیر کا سودا کرنے کے بعد جب وہ فاتحانہ شان کے ساتھ واپس پہنچا تو اس کا فقید المثال استقبال کرانے کے سرکاری انتظامات اس قدر مکمل اور موثر تھے کہ بادامی باغ سے جو بس لائل پور جانے کے لئے بھی نکلی اس کا رخ بھی لاہور کے ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا۔
قومی اسمبلی میں ایسے ضمیر فروشوں کی کمی نہیں تھی جو بھٹو کو امن کا پیغمبر ثابت کرنے کے لئے تیار تھے۔ المیہ یہ ہے کہ چودھری ظہو رالہٰی جیسے مسلم لیگی نے بھی شملہ سمجھوتے کو ایک عظیم سفارتی کارنامہ قرار دینے سے دریغ نہ کیا۔
میں نے اشتراک کے لئے ”امن کا پیغمبر“ کے عنوان سے ایک مقالہ لکھا جس میں میں نے عوامی نمائندوں کی امن و دوستی کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا میں نے لکھا۔
” اگر ستمبر۵۶۹۱ءمیں جنرل مانک شاکی فوجیں ذراجرا¿ت سے کام لے کر لاہورکے مٹھی بھر محافظوں کو زیر کر لیتیں تو ” امن کا پیغمبر“ بننے کے لئے قائدِ عوام کو سات برس تک انتظار نہ کرنا پڑتا۔ بہر حال سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیئے نے ہمارے عوامی نمائندوں میں امن دوستی کے جو جذبات پیدا کئے ہیں ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ۳۱ دسمبر۱۷۹۱ءکو اندرا گاندھی نے دہلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک بھارتی نازی نے ایک ہزار سال کی ہزیمتوںکا انتقام لے لیا ہے۔ اب ہمارے قائدِ عوام نے شملہ میں امن کی جنگ جیت کر اس رسوائی کا بدلہ لے لیا ہے۔ جس کا سامنا ہماری فوجوں نے ۵۱ دسمبر۱۷۹۱ءکو ہتھیار ڈالتے وقت کیا۔
ہمارے عوامی نمائندوں کو اب اس دن کا انتظار کرنا چاہیئے جب قائدِ عوام بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے پوری دنیا پر ثابت کردیں گے کہ وہ واقعی امن کے پیغمبر ہیں۔ وہ دن ہماری تاریخ کا روشن دن ہوگا اور ہمارے عوامی نمائندے بہت بڑے پیمانے پر قومی جشن منانے میں حق بجانب ہوں گے۔“
بنگلہ دیش کے سلسلہ میں میری پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ شملہ سمجھوتے کے فوراً ہی بعد پوری سرکاری پروپیگنڈہ مشینری عوام کو یہ درس دینے کے لئے حرکت میں آگئی کہ پاکستانی مسلمانوں کو اپنے بنگلہ دیشی بھائیوں کے ساتھ ٹوٹے ہوئے برادرانہ رشتے دوبارہ جوڑ لینے چاہئیں اور اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں قائم ہونے والے بنگلہ دیش کو ایک آزاد سیکولر مملکت کے طور پر تسلیم کر کے مشرقی پاکستان کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کے صفحات میں دفن کر دیا جائے۔
(جاری ہے۔۔۔)
Scroll To Top