مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhootمصنف غلام اکبر

29-12-2017…

..قسط:53 ”


پاکستان کی فوجی شکست کی بات اس نے بری فاتحانہ شان کے ساتھ کی تھی۔ کاش کہ اس وقت مجھ میں اتنی جرا¿ت پیدا ہوسکتی کہ اٹھ کر اس کے منہ پر طمانچہ مارتا اور کہتا۔
” دغا باز فریبی بہروپئے۔ اس وقت تمہاری حقیقت پسندی کہاں گئی تھی جب چین سے واپس آکر تم نے دمادم مست قلند رکے نعرے کے ساتھ بھارت پر دھاوا بول دینے کا اعلان کیا تھا؟ اس وقت تمہاری حقیقت پسندی کہاں گئی تھی جب تم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پولینڈ کی قرار داد کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تھے؟ اس وقت تمہاری حقیقت پسندی کہاں گئی تھی جب ہاکی کا پہلا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ لاہور میں منعقد ہونے والا تھا اور تم نے اعلان کیا تھا کہ اہلِ پاکستان بھارتی ہاکی ٹیم کا وجود اپنی سرزمین پر برداشت نہیں کریں گے؟ اس وقت تمہاری حقیقت پسندی کہاں گئی تھی جب بھارتی طیارے کو اغوا کر کے پاکستان لانے اور اسے تباہ کرنے والے ایجنٹوں کو عظیم قومی ہیرو قرار دیتے وقت تم بھول گئے تھے کہ اس واقعے کے کتنے سنگین نتائج برآمد ہوں گے؟۔ اس وقت تمہاری حقیقت پسندی کہاں گئی تھی جب تم نے تمام سفارتی آداب بالائے طاق رکھ کر سلامتی کونسل کے اجلاس میں ” بھارتی کتے“ جیسے گرے ہوئے الفاظ استعمال کئے تھے؟ اس وقت تمہاری حقیقت پسندی کہاں گئی تھی۔ جب تم نے بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیا تھا؟
شاہنواز کے بیٹے آج میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ تم نے جس ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہے وہ واقعی میری قوم سے تعلق نہیں رکھتی۔ تمہاری رگوں میں دوڑنے والے خون کا رشتہ واقعی کسی برہمن زاد ے سے جاملتا ہے۔ میں آج تہذیب واخلاق کے تمام بندھن توڑ کر تمہیں وہ گالی دیتا ہوں۔ جس سے بڑی کو ئی گالی نہیں۔
میں یہ گالی تمہیں اس لئے دے رہا ہوں کہ تم نے میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر طفیل شہید جیسے سرفروشوں کی فوج کو گالی دی ہے ۔ تم نے اس مقدس خون کو گالی دی ہے جو وطنِ عزیز کی حریت و حرمت پر نثار ہوگیا۔ تم نے میری پوری تاریخ کو گالی دی ہے جو تم جیسے غداروں کے باوجود ہر دور اور ہر صدی میں محمد کی امت کی عظمتوں کی امین رہی ہے۔ تم نے اس محمد کی امت کو گالی دی ہے جس کے چند مٹھی بھر جان نثار قیصر و کسریٰ کی بے پناہ قوت سے ٹکرا گئے تھے۔
شکستِ پاکستان پر اپنے اقتدار کا محل تعمیر کرنے والے مِلت فروش۔۔۔ وہ دن ضرور آئے گا جب تمہارا نام پوری قوم کے لئے گالی بن چکا ہوگا۔“
O O
شملہ میں اہل پاکستان کو بے وقوف بنانے کے لئے جوڈرامہ کھیلا گیا۔ یہاں اس کی تفصیلات میں جانا ضروری نہیں۔موٹی بات یہ ہے کہ آخر وقت تک یہ تاثر پیدا کیا جاتا رہا کہ بنیادی مسائل پر اختلافات اتنے وسیع ہیں کہ مذاکرات کا نتیجہ ناکامی کے سوا اور کوئی نہیں ہوگا۔ پھر اچانک بھٹو اور اندرا نے بند کمرے کی تنہائی میں ملاقات کی اور جب وہ باہر نکلے تو تمام اختلافات ختم ہو چکے تھے اور دونوں لیڈروں کے درمیان اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ اس اتفاقِ رائے کو شملہ سمجھوتہ کا نام دیا گیا اور بھارت کو سالمیتِ پاکستان کا دشمن قرار دینے والا بھٹو اچانک پاک بھارت دوستی اور پورے برصغیر کے عوام کی مشترکہ خوش حالی کا نقیب بن گیا۔
بمبئی کے ہفت وار ” بلٹنر“ کے ایڈیٹر نے بھٹو سے پوچھا۔
” آپ کی باتوں میں اس قدر تضاد کیوں ہے؟ ایک طرف تو آپ پاکستان کے عوام میں بھارت کے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں اور دوسری طرف ایسے رہنما کی حیثیت سے مشہور ہونا چایتے ہیں جس نے بر صغیر میں امن و امان قائم کیا۔ آپ کے حقیقی خیالات کیا ہیں؟“

(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top