مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhot-ka-paigamber-logo-newمصنف غلام اکبر

28-12-2017…

..قسط:52 ”


میں اس زمانے میں اپنے اور اپنے دوستوں کے تمام وسائل ایک ایسے جریدے کے اجراءپر صرف کر چکا تھا۔ جو قوم کی کچلی ہوئی امنگوں کو احساسِ شکست کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے مشن میں بھرپور کردار ادا کر سکے اس جریدے کا نام اشتراک تھا۔ میرے عزائم بہت بلند اور میرے وسائل بہت ہی محدود تھے اور اور وسائل کے درمیان اس عدم توازن کو دور کرنا میرے بس کی بات نہ تھی۔ میں جانتا تھا کہ میری آواز بہت ہی کم کانوں تک پہنچ سکے گی۔ کیوں کہ ایک کثیر الاشاعت ہفتہ روزے کی منصوبہ بندی سرمائے کی فراہمی کے بغیر نہیں ہو سکتی اور میرا واحد سرمایہ میرا قلم تھا جس کی حرمت برقرار رکھنے کے لئے میں نے اپنے آپ پر آسود گی کے دروازے بند کر دیئے تھے۔
میرے پاس جو معمولی رقم تھی وہ دفتر وغیرہ قائم کرنے پر صرف ہوگئی تھی۔ اشتراک کے پہلے تین شمارے میں نے دوستوں سے ادھار لے کر نکالے تھے۔ چوتھے شمارے کے لئے رقم کا انتظام کرنے میں مصروف تھا کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مجھے ایک دعوت نامہ مِلا۔ بھٹو مری میں صحافیوں اور دانشواروںسے ملاقات کرنے والا تھا۔ یہ دعوت نامہ مولانا کوثر نیازی نے بطور ِ خاص مجھے بھیجوایا تھا اور مجھے بتایا گیا کہ اشتراک کے سوا دوسرے کسی جریدے کے ایڈیٹر کو مدعو نہیں کیا گیا۔ میں بھٹو کے دربار میں حاضری دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا مگر میرے ایک رفیق کار نے مشور دیا کہ مجھے بھٹو کے خیالات جاننے کے لئے ضرور جانا چاہیئے۔ چنانچہ میں گیا اور میں نے اپنے کانوں سے وہ باتیں سنیں جو میں سننا نہیں چاہتا تھا۔
وہ میری نظروں کے سامنے بیٹھا میری ان امنگوں کا مذاق اڑا رہا تھا جنوں نے اسے لیڈر بنایا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا۔
” آپ ملک کے دانشور ہیں۔ آپ کا ذہن عوام کے لئے مشعلِ راہ بنتا ہے آپ عوام کی ذہنی و جذبانی تربیت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ صحیح خطوط پر رائے عامہ کی تشکیل آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ جذباتی باتیں کر کے لوگوں کو گمراہ بھی کر سکتے ہیں اور انہیں زندگی کے تلخ حقائق سے آگاہ کر کے حقیقت پسند بھی بنا سکتے ہیں یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ ہمیں حقیقت پسند بننا چاہیئے یا جذبات کے بھنور میں پھنسے رہنا چاہیئے۔ مجھے آپ کی رہنمائی کی ضروری ہے آپ ہی بتائیں کہ کیا موجودہ حالات میں بھی ہم مہم جوئی کی عیاشی کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی ایک بڑا ہی حسین تصور ہے، لیکن ہم اس سلسلے میں کیا کرسکتے ہیں؟ خود کشمیری آزاد نہیں ہونا چاہتے تو بھارت کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دینے کا کیا فائدہ ؟ اگر آپ کو کوئی فائدہ نظر آئے تو مجھے بتائیں۔ میں پوری سنجیدگی سے غور کروں گا۔ آپ کہیں تو میں کل ہی بھارت کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ میرا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ پاکستان کا ہے جسے نئے حالات میں اپنی پالیسی وضع کرنی ہے۔ ہمارا مسئلہ جنگی قیدیوں کو واپس لانا ہے۔ ان علاقوں کو حاصل کرنا ہے۔ جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اسی مقصد کے لئے میں شملہ جا رہا ہوں۔ اندرا گاندھی سے سودے بازی آسان نہیں۔ ظاہر ہے کہ مجھے کچھ باتیں اس کی ماننی پڑیں گی تا کہ کچھ باتیں اپنی منواسکوں۔ کوشش تو پوری کروں گا کہ پاکستان کا وقار مجروح نہ ہو لیکن اندراگاندھی کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔ اس نے جنگ جیتی ہے اور ہماری فوجوں نے جنگ ہاری ہے۔ کہنے کو تو ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ اس شکست میں ہماری فوج کا کوئی قصور نہیں مگر اصل حقیقت آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں۔ یہ قطعی طور پر ایک فوجی شکست تھی ورنہ ہمارے اتنے ہزار جنگی بھارتی کیمپوں میں نہ ہوتے۔آپ ہی بتائیں کہ ہم سخت رویہ کس بنیاد پر اختیار کریں۔ ہم کیسے اس فوج پر بھروسہ کریں جسے اتنی بڑی شکست ہوئی۔ آپ کے خیال میں یہ فوج کشمیر حاصل کر سکتی ہے؟ ہمیں اپنی سوچ کو حقیقت پسند بنانا ہوگا ۔ ہمیں فوجی ڈھانچے کی از سر نو تشکیل بھی کرنی ہوگی۔ باقی رہا بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا مسئلہ تو آخر کب تک ہم حقیقت سے آنکھ چرا سکتے ہیں۔ ہم دوبارہ تو اس پر فوجی قبضہ نہیں کر سکتے۔ آپ تمام باتیں سوچیں اور پھر مجھے مشورہ دیں۔“
وہ بولتا جا رہا تھا اور میرا خون کھول رہا تھا۔
میری جن امنگوں کا نقیب بن کر وہ بامِ عروج کو پہنچا تھا اب وہ قومی امنگیں اس کے لئے جنگی جنون کا درجہ رکھتی تھیں۔
پاک فوج کا ذکر کرتے وقت اس کے لہجے میں تمسخر تھا۔ تضحیک تھی۔
(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top