مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhot-ka-paigamber-logo-newمصنف غلام اکبر

27-12-2017…
..قسط:51 ”


بھٹو کی کامیابیوں کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ہرکام واضح اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کرتا تھا۔ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے ایسے راستے اختیار کرتا تھا جن کی دوسروں کو توقع بھی نہیں ہوئی تھی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شملہ میں کی جانے والی سودے بازی سے قوم کی توجہ ہٹانے کے لئے وہ اپنے ہی صوبے میں آگ اور خون کا طوفان کھڑا کرا دے گا۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے ایک طرف تو وہ شملہ سمجھوتے کے خلاف اٹھنے والے ہر ممکن طوفان کے خلاف ایک” سنگین مسئلے“ کا بند باندھ رہا تھا اور دوسری طرف ”سندھی نیشنلزم“ کے جذبات کو ابھار کر سندھی بولنے والے عوام کی نظروں میں ایک ”قومی ہیرو“ کا درجہ حاصل کر رہا تھا۔
میرے اس موقف کا مطلب یہ ہے کہ بھٹو شملہ جانے سے پہلے ہی اپنے ذہن میں شملہ سمجھوتہ کر چکا تھا۔ میں اپنے اس موقف کی حمایت میں اس ملاقات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو بھٹو نے شملہ جانے سے پہلے ملک کے دانشوروں ، ادیبوں اور صحافیوں کے ساتھ کی تھی۔ اس ملاقات کا اہتمام مری میں کیا گیا تھا اور اسے میں پریس کانفرنس اس لئے نہیں کہوں گا کہ اس میں جو باتیں ہوئیں وہ اشاعت کے لئے نہیں تھیں۔
(جاری ہے)

Scroll To Top