مشہور زمانہ تصنیف ’’جھوٹ کا پیغمر‘‘

jhoot
مصنف غلام اکبر
26-12-2017…
..قسط:50 ”


اسے معلوم تھا کہ وہ مقبوضہ علاقوں کو واپس لینے اور جنگی قیدیوں کو رہا کرانے کے لئے بھارت نہیں جا رہا۔ بلکہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے اور مسئلہ کشمیر کو بھول جانے کے بارے میں اندراگاندھی کے ساتھ ایسا سمجھوتہ کرنے کے لئے جارہا ہے۔ جو ”نئے حالات“ میں پاک بھارت تعلقات کو ”مستحکم“ بنیادوں پر استوار کرنے کی ” حقیقت پسندانہ“ ضرورت پوری کرے گا۔ اور وہ جانتا تھا کہ اس کے مخالف اس قسم کے سمجھوتے کے خلاف عوام کے قومی احساسات و جذبات کو جگانے اور بھڑکانے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے اس موقع پر کوئی ایسا بحران پیدا کرنا ضروری تھا جو قوم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا سکے۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ اِدھر بھٹو شملہ کی یاترا سے واپس آیا اور ادھر سندھ اسمبلی میںحکومت نے زبان کے مسئلہ پر ایک ایسا بل پیش کر دیا جو سندھ کی مقامی وغیرمقامی آبادی کے درمیان خونریز فسادات کا باعث بنا۔ جو حضرات اس قسم کی باتوں کو اتفاق قرار دے کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اگر تنقیدی نظر سے بھٹو کے عروج کا جائزہ لینے کی زحمت کریں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس شاطر سیاست دان کی پوری سیاسی زندگی ایسے اتفاقات سے بھری پڑی ہے جنہیں اس نے خود جنم دیا اور خود ہی ان سے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی تو ایک اتفاق تھا کہ جب سلامتی کونسل میں پولینڈ کی قرارداد پیش ہوئی تو بھٹو کی ”قومی غیرت“ جوش میں آگئی اور اس جوش میں اس نے اس قرارداد کو پھاڑ ڈالا جو پاکستانی فوجوں کو بھارتی سینا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ذلت سے بچا سکتی تھی بھٹو کا یہی ”اتفاقیہ“ جوش اس پر اقتدار کے دروازے کھولنے کا باعث بنا۔
(جاری ہے۔۔۔)

Scroll To Top